کالمز

آرٹیکل ۳۷۰ اورمحمد علی جناح کی دور اندیشی! اتواریہ: شکیل رشید ممبئی اردو نیوز

آرٹیکل ۳۷۰ اورمحمد علی جناح کی دور اندیشی اتواریہ: شکیل رشید ممبئی اردو نیوز

قیام پاکستان کا نظریہ درست ثابت ہورہا ہے!محمد علی جناح کی دور اندیشی واضح ہوگئی ہے!

کشمیر سے آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد ’سوشل میڈیا‘ پر جو ردّ عمل نظر آئے ان میں سے یہ دو ہیں۔ گویا یہ کہ محمد علی جناح نے بہت دور تک دیکھ لیا تھا ، انہیں یہ خوب اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر مسلمان ہندوستان کے ساتھ رہے تو آرٹیکل ۳۷۰ جیسے معاملات ہوں گے اور ان کی شناخت ختم ہوجائے گی ، اسی لیے انہوں نے قیام پاکستان کا مطالبہ کیا، اس کےلیے تحریک چلائی او رپاکستان بنواکر دم لیا۔ چند سال قبل ملک کے دگرگوں  حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے جمعیۃ علما ہند کے ایک بزرگ عہدیدار نے مجھ سے کہاتھا کہ کیا اب ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ محمد علی جناح اپنی جگہ قیام پاکستان کے مطالبے پر درست تھے؟ خیر انہو ںنے خود ہی اس سوال کا جواب بھی دے دیا تھا کہ آر ایس ایس مسلمانوں کو یہی سوچنے پر مجبور کررہا ہے تاکہ مسلمان ایک طرح سے خود کو ملک کے ’بٹوارے‘ کا ’قصور وار‘ سمجھیں، پر یہ سچ نہیں ہے۔ ملک کی  تقسیم کا ذمے دار کون ہے؟ یہ سوال آج بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ کیا صرف محمد علی جناح کو قصور وار قرار دینا ناانصافی نہیں ہے؟ پنڈت جواہر لعل نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ملک کی تقسیم کے فیصلے میں شامل ہونے سے مستثنیٰ قرار نہیں دیاجاسکتا۔ او رپھر مہاتما گاندھی بھی تھے! یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ بھلا کیسے گاندھی جی نے ملک کو تقسیم ہونے دیا، کیو ںاس کے خلاف اسی طرح کی تحریک نہیں چھیڑی جیسے کہ ملک کی آزادی کےلیے چھیڑی تھی؟ او راس سارے معاملے میں انگریزوں نے جو گھنائونا کردار ادا کیا اسے کیسے نظر انداز کیاجاسکتا ہے۔ سچ یہی ہے کہ وہ سب کے سب ملک کی تقسیم کے ذمے دار تھے۔ پنڈت نہرو کو ملک کا پہلا وزیر اعظم بننے کی شدید خواہش نے آدبوچا تھا، سردار پٹیل ایک پھانس کو ، جو محمد علی جناح کی شکل میں انہیں چبھ رہی تھی نکالناچاہتے تھے۔ اور جناح کو قائد اعظم بننے کی خواہش تھی۔ ملک کے عوام کٹیں مریں کسی کو اس سے غرض نہیں تھا۔ ملک کی تقسیم ایک حقیقت ہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد نے ہندوستان میںہی رہنا پسند کیا، ان کے بچے آزادی اور تقسیم کے بعد پیدا ہوئے وہ اسی ملک کے باشندے ہیں، ان کا تو تقسیم کے عمل سے کچھ لینا دینا بھی نہیںہے۔ اور رہا معاملہ کشمیر کا تو سارا کھیل راجہ ہری سنگھ نے کھیلا۔ اور پھر شیخ عبداللہ نے۔ یہ سیاسی کھیل تھا۔ یہ کھیل مفادات کا تھا۔ اسے مذہب، ذات پات سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، پر پہلے کانگریس اور اب بی جے پی، اور ان کے ساتھ ہی پاکستان نے اسے مذہبی کھیل بنادیا ہے۔ وہ جو قیام پاکستان کے نظریہ کو درست سمجھتے ہیں اور جناح کو دور اندیش قرار دیتے ہیں شاید یہ بھول گئے ہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام نے اس نظریے کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ خود پاکستان میں کتنی علاحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں، مسلکی تنازعات نے کتنی جانیں لی ہیں اوردھماکہ آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ مسلمان ایک مذہب کی بنیاد پر وہاں متحد نہیں ہے۔ میرا  اپنا یہ ماننا ہے کہ محمد علی جناح دور اندیش نہیں تھے، اگر وہ دور اندیش ہوتے تو ملک کو تقسیم کرنے پر زو رنہ دیتے ۔ اب سوچئے اگر ملک تقسیم نہ ہوا ہوتا تو؟ مسئلہ کشمیر پیدا ہی نہ ہوتا۔ اور وہ مسلمان جو ’تعداد‘ کو اپنے لیے بہت اہم مانتے ہیں، حالانکہ ’تعداد‘ اہمیت نہیں رکھتی، پر اگر ’تعداد‘ کو اہم ماناجائے توسوچیں کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان کتنی بڑی تعداد میں ہوتے، سارا بنگلہ دیش اور سارا پاکستان مل کر ایک ایسے ہندوستان کی تشکیل کرتا جہاں کبھی مسلمانوں کو نظرانداز کیا ہی نہیں جاسکتا تھا۔۔۔!! پر کیا کیاجائے، مسلمان تو اپنے ہاتھوں اپنے پیروں پر کلہاڑیاں مارنے میں طاق ہیں۔۔!!

نوٹ ۔ یہ کا لم ممبئی اردو نیوزکے اتواریہ میں شائع ہوا ہے

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close