کالمز

ہاں میں قربانی کا بکرا ہوں۔۔۔! نازش ہما قاسمی

ہاں میں قربانی کا بکرا ہوں۔۔۔! نازش ہما قاسمی 

جی ہاں بکرا۔۔قربانی کا بکرا۔۔۔بلی کا بکرا نہیں۔۔۔وہ قربانی کا بکرا جسے مسلمان بقرعید میں ذبح کرتے ہیں۔۔۔میری نسل آدم علیہ السلام کے وقت سے دنیا میں موجود ہے؛ کیونکہ بکریاں پالنا سنت انبیاء میں سے ہے؛ میں ابتدائے دنیا سے اب تک روئے زمین پر موجود ہوں۔ میری بہت ساری نسلیں ہیں ۔ مثلاً دیسی بکرا، کوہستانی بکرا، ٹیڈی بکرا، لائل پوری بکرا، ریگستانی بکرا، بارہ سنگھا بکرا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن تمام اقسام کی قسمت میں اسلام پر قربانی ہی لکھا ہوا ہے۔ ہماری نسل جتنی زیادہ قربان ہوتی ہے اتنا ہی فروغ پاتی ہے۔ کبھی آپ نے نہیں سنا ہوگا کہ میری نسل ناپید ہوگئی ہے؛ بلکہ ہماری نسل ہزاروں سال سے قربان ہوتے ہوئے آئی ہے؛ لیکن افزائش نسل میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی ہماری نسل ناپید ہوئی ہے۔ 
ہاں میں وہی بکرا ہوں جس کے بارے میں مشہور مزاح نگار مشتاق یوسفی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ ’’اسلام میں سب سے زیادہ قربانی بکروں نے دی ہے‘‘۔ اور واقعی بکروں کی نسل نے ہی اسلام کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں جہاں گائے ایک کمیونٹی کے لیے مقدس ہے ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے ہندوستانی سب سے زیادہ مجھے ہی کاٹتے ہیں اور میں فخر سے اسلام کےلیے اپنا سر کٹواتا ہوں اور ان کے مقدس تیوہار پر انہیں خوشیاں فراہم کرتا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں بکرا ہوں اور اسلام کےلیے قربان کیاجاتا ہوں؛ لیکن مجھے شکایت ہے کہ ہندوستانی مسلمان سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے مجھے دکھاوے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مجھے فخر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ مہنگا خرید کر مجھ کمزور کو احساس برتری میں مبتلا کرتے ہیں۔ قربانی جو کہ خالص خدا کی رضا وخوشنودی کےلیے ادا کی جانی تھی اس کا مقصد فوت ہوکر رہ گیا ہے مسلمان قربانی معاشرے میں بڑا ثابت کرنے کے لیے کرتے ہیں تقویٰ ان کے پیش نظر نہیں ہوتا ۔ ان سب تفاخرانہ کاموں کے باوجود مجھ بکروں سے پل صراط پر سرعت کے ساتھ دوڑنے کی امیدیں رکھتے ہیں۔ حالانکہ ایسا ہوگا نہیں کیوں کہ خدا ان کی نیت کے مطابق مجھے پل صراط پر مامور کرے گا۔ 
ہاں میں وہی بکرا ہوں جو قربانی کے ان تین دنوں میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ قربان کیاجاتا ہوں۔ لوگ مجھے انا پسندمغرور اور تکبر کرنے والاسمجھتے ہیں اور کہتے ہیں اس کے ’میں میں‘ کی سزا اسے قربانی دے کر ادا کرنی پڑتی ہے ۔اگر یہ سچ بھی ہے تو دنیا والوں کو مجھ سے سبق سیکھناچاہئے کہ جو تکبر کرے گا ’میں میں ‘کرے گا اسے گردن سے ہاتھ دھونا پڑے گا؛ لیکن یہ محاورہ ہے میں برضاورغبت خدا کے حکم کا پابند ہوں اور اسلام کے لیے مسلمانوں کے کام آتا ہوں۔ لیکن مسلمان مجھے صرف کھانے کےلیے استعمال کرتے ہیں خوشنودی رب اب ان میں نہیں رہ گئی ہے۔ وہ صرف دکھاوے کےلیے قربانی کررہے ہیں۔ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرناچاہئے ۔ ایک دوست و احباب کےلیے، ایک غربا ومساکین کےلیے اور ایک اپنے لیے؛ لیکن مسلمان صرف اب اپنے لیے مجھے ذبح کرتے ہیں۔ مجھے تو قربان کردیتے ہیں لیکن میرے گوشت کی قربانی نہیں دیتے۔۔ان دنوں امیروں کے پیٹ کے علاوہ میں جہاں پڑا رہتا ہوں وہ فریزر مشین ہے۔ مجھے ٹھنڈا کرکے وہاں مہینوں رکھا جاتا ہے۔ اور وقتاً فوقتاً مجھے برف سے نکال کر پیٹ کی آگ بجھائی جاتی ہے۔ میں ان مسلمانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ قربانی خدا کےلیے کیے ہیں تو خدا کے بندوں کے بھی کام آویں۔ وہ غریب ومسکین جنہیں گوشت میسر نہیں ان تک مجھے پہنچائیں؛ تاکہ میں قیامت میں آپ کے کام آسکوں؛ لیکن آپ نے مجھے برف میں ڈال کر اتنا منجمد کردیا ہے کہ پل صراط پر چلنے کےلیے میرے پائوں کھلنے مشکل ہوسکتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس کا کوئی خوف نہیں، انہیں کوئی فکر نہیں، انہیں اگر فکر ہے تو فکر پیٹ ہے کہ پیٹ کی آگ میرے ہی گوشت سے بجھے ، بھلے سے غریب کے پیٹ میں آگ سلگتی رہے۔ کاش! مسلمان جذبہ قربانی کو سمجھ پاتے، ایثار کے وسیع تر معانی ومفاہیم سے روشناس ہوتے؛ غریبوں کی فکر کرتے، جس سے ان کے گھر بھی جہاں پورے سال گوشت مہیا نہیں ہوپاتا ہے بقرعید کے ان تین ایام میں دستیاب ہوسکتا۔ میری گزارش ہے ان امراء سے کہ اپنے پیٹ کے ساتھ ان کا بھی دھیان رکھیں۔ فریزر کے پیٹ کو بھرنے کے بجائے ان کے پیٹ کو بھرنے کی کوشش کریں تاکہ ان کے شکم سیر پیٹ سے خلوص دل سے دعا نکلے جو مجھے پل صراط میں آپ کا معاون بنائے۔ ورنہ قربانی کے گوشت کو دس محرم الحرام تک کھانے والے امیر مجھ سے پل صراط میں سرعت کے ساتھ پار ہونے کی امید نہ لگائیں ۔ قسطوں میں میری بوٹیاں کھانے والے قسطوں میں ہی مجھے جڑنے کی امید رکھیں۔ جس طرح آج ایک ٹانگ اڑائی ایک ماہ بعد دوسری ٹانگ ہڑپ کی اس طرح میں بیچ میں اٹکا رہوں گا وہ ٹانگ آکر جڑے گی تب پھر میں دوڑوں گا۔۔۔!
(نوٹ: یہ مضمون ایک سال قبل روزنامہ ممبئی اردو نیوز میں شب وروز کالم کے تحت شائع ہوچکا ہے۔بقرعید کی مناسبت سے دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کیاجارہا ہے)

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close