دو موبائل کی سرگزشت ( دارالعلوم دیوبند میں ملٹی میڈیا موبائل)✍ ظفر امام

دو موبائل کی سرگزشت ✍ ظفر امام                

ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں ملٹی میڈیا موبائل پر لگی پابندی ، پکڑے جانے پر ملی اخراج کی دھمکی …قارئین! ویسےتو دارالعلوم کئ سالوں سے مسلسل ہر سال ملٹی میڈیا ( یا جس میں میموری لگتی ہے ) موبائل پر یہ پابندی عائد کرتا چلا آرہا ہے ، اور اس پر کافی شد و مد کے ساتھ سخت نگرانی بھی کرتا ہے ، اور اس بابت انتظامیہ کی آنکھیں کافی چوکنی بھی رہتی ہیں ، لیکن اس کے باوجود بھی طلبۂ کرام کی ایک کثیر تعداد کے پاس ملٹی میڈیا موبائل رہتا ہی ہے ، اب چاہے وہ اس کو رکھنے کے لئے کوئ بھی صورت اور کوئ بھی حیلہ اختیار کرے یہ اس پر منحصر کرتا ہے ، لیکن پکڑے جانے کے بعد موبائل اور موبائل والے کا کیا حشر ہوتا ہے ، پڑھئے! ایسی ہی  دو دلچسپ” میری کہانی میری زبانی “
                          دارالعلوم کے جس احاطہ میں میرا قیام تھا ، وہ احاطہ حضرت الاستاذ علامہ عثمان غنی ، ہاوری حفظہ اللہ کا تھا ، یعنی رواقِ خالدکا جنوبی اور بالکل آخری احاطہ ، حضرت موصوف مدظلہ العالی اپنے اصول میں کافی پکے واقع ہوئے ہیں ، اور ان کی یہ اصول پسندی طلبۂ دارالعلوم میں کافی مشہور ہے ، گاہے گاہے طلبہ دورانِ گفتگو ان کی اصول پسندی کا ذکرِ خیر بھی کرتے رہتے ہیں ، ایکدن کی بات ہے  سنہ 2012 ء میں جب میں عربی پنجم کا طالبِ علم تھا ، غالبا مئ یا جون کا مہینہ تھا ، سالانہ امتحان کی تیاریاں کافی زوروں پر تھیں ، ان دنوں دھوپ کی شعلہ باری اور ہواؤں کی چپ سادھی انسانی جسموں کو پسینے کے ساگر میں ڈبوئے رکھتی تھی ، آسمان شعلے برسا رہا تھا تو زمین لاوا اگل رہی تھی ، اور فضا کا روٹھ جانا یہ الگ قیامت ڈھا رہا تھا ، اتفاق سے ان دنوں میں میری طبیعت کافی خراب چل رہی تھی ( جس کی وجہ سے ڈاکٹر ڈی ، کے ، جین کے یہاں چار دن تک ایڈ مٹ تھا ) سو نقاہت کے مارے میں لبِ بستر ہوکر ظہر کے بعد کمرے کے اندر غفلت کی نیند سورہا تھا ، گھنٹہ میں بھی نہیں گیا تھا ، نہ جانے اس دن کیا ہوا کہ کمرے کے بقیہ تینوں حضرات بھی سونے میں میرا ساتھ نبھا رہے تھے ، اور سب کے ظہر کی نماز غائب ، کہ اسی بیچ یکایک اور یک بیک مولانا مذکور زید مجدہ صاعقہ بن کر اپنے احاطہ میں کودپڑے ، اتفاق کی بات کہ تیسری منزل کا سب سے پہلا کمرہ یعنی ٩٧ / نمبر میرا ہی تھا ، اس لئے کسی کو وہاں سے خروج کا موقعہ ہی نہ ملا ، اور اس طرح سب رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ،اور مزے کی بات یہ کہ اس وقت سب ملٹی میڈیا موبائل کے مالک تھے سوائے مجھ غریب کے ، سو ان میں سے ایک ، جنہوں نے دروازہ کھولا تھا اپنے دونوں ہاتھوں میں اپنےدونوں موبائل( ملٹی میڈیا کے ساتھ سمسنگ کا ایک سادہ موبائل بھی تھا ان کے پاس ) لیکر دروازے کی اوٹ میں کھڑا ہوگیا ، اور جونہی مولانا دروازے کے راستے کمرے کے اندر داخل ہوئے وہاں سے وہ  کھسک گیا ، نام تھا انکا مولانا بسام الوہاب صاحب نگینوی ، بَلی کا بکرا بنے ہم تینوں یعنی ایک میں ، ایک مولانا سفیان صاحب لکھنوی زید مجدہ اور ایک میرے کرم فرما ،  محب گرامی صدیقِ حمیم مولانا ومفتی عبدالناصر صاحب رامپوری ، زید مجدہ ،  مولانا پہلے اندر آئے معاً اپنے تابڑ توڑ سوالات کی بوچھار کرتے ہوئے ہر ایک کو اپنی خشمگیں نگاہوں سے گھورنے لگے ، مثلا نماز پڑھے؟ ابھی کیوں سورہے ہو؟ درسگاہ کیوں نہیں گئے ؟ وغیرہ وغیرہ ، اور سب اللہ میاں کی گائے بنے اپنی معصوم اور امید بھری نگاہوں سے مولانا سے رحم و کرم کی بھیک مانگنے لگے ، لیکن مولانا نے سب کی امیدوں کے بھرم کو توڑتے ہوئے اچانک اپنے سوالات کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے اپنا وہ فرمان جاری کیا جو انکے آنے کا اصل مقصد تھا کہ سب اپنا اپنا ” موبائل دکھاؤ! ” چونکہ سب سے پہلے میں ہی تھا اس لئے پہلا حکم میرے لئے ہی جاری ہوا ، میرے پاس چونکہ ایک ٹوٹا پھوٹا ، ڈھکن دھاگے سے بندھا ہوا نوکیہ کا ایک ایسا سمپل سا موبائل تھا ، جس کا وحشت نما ہیولہ دیکھتے ہی دل رنج والم سے تڑپ اٹھتا ، اور سوچتا کہ کاش! ایک اچھا سا موبائل میرے پاس بھی ہوتا ، وہ تو شکر تھا خدا کا کہ میرے پاس اس وقت وہی موبائل تھا سو وہ میں نے اپنے لرزتے اور کپکپاتے ہاتھ کے ساتھ ( کہ نہ جانے اس پر بھی کیا کہ دیں )مولانا کی طرف بڑھادیا ، مولانا نے اس کو دیکھا بھالا ، پھر دیکھا ، اور جب اس میں کسی بھی زاویہ سے اپنے مطلب کی کسی چیز کو نہیں پایا تو ناچار مولانا نے وہ موبائل مجھے بنا کچھ کہے واپس کردیا “جان بچی لاکھوں پائے” کا میں اس دن مصداق بنا تھا ، اب دونوں مئوخرالذکر حضرات کی باری تھی ، سو ان میں سے لکھنو والے حضرت کے پاس جو موبائل تھا وہ دکھنے میں تھا تو سمپل اور سادہ سا ، لیکن! اس کے اندر پوری دنیا بسی تھی ، مطلب وہ تھا ملٹی میڈیا موبائل ، لیکن حضرت مولانا کی سادہ لوحی اس کو پرکھنے سے قاصر رہی ، اور چند ثانیہ میں ہی موبائل واپس موبائل والےکے ہاتھوں میں جھولنے لگا ، اب باری تھی مولانا رامپوری کی ، مولانا موصوف گو حقیقی دنیا میں تقوٰی و طہارت اور صلاح و زہد کے ایک پیکرِ مجسم ، حسنِ اخلاق کے اعلی پیمانے پر فائز تھے ، میں نے اپنے چارسالہ دور میں کبھی انکو کوئ نازیبا حرکت کرتے نہ دیکھا لیکن! نہ جانے کون ساشوق مولانا موصوف کو ملٹی میڈیا موبائل کی بارگاہ میں لے آیا تھا ، اور وہ اس آرزو کی تکمیل کے لئے ایک لاوا کمپنی کا ملٹی میڈیا موبائل حال ہی میں خریدا تھا ، لیکن موبائل تمام حیاسوز جرائم سے پاک بلکہ صاف اور شفاف تھا ، کیونکہ اس میں میموری ہی نہ تھی ، لیکن دارالعلوم ان چیزوں کو نہیں دیکھتا ، اور خاص کر حضرت استاذِ محترم تو ان چیزوں کو کبھی صرفِ نظر ہی نہ کرتے تھے ، بلکہ ہر جگہ اور ہر موقع پر سخت باز پرسی اور دار و گیری کا معاملہ کرتے تھے ، خیر مولوی عبد الناصر نے معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مولانا کی آنکھ سے بچاتے ہوئے اپنے موبائل کو اپنی کمر میں کھروس لیا ، اس کے بعد مولانا کا ان سے سوال کہ ” موبائل دکھاؤ!”؟ مولوی عبد الناصر کا جواب! ” میرے پاس ہے ہی نہیں ” ، مولانا اپنے مخصوص انداز میں ، “کیسے نہیں ہے بھائ”! لیکن مولوی عبد الناصر اپنی ایک ہی بات پر اٹل اور ڈٹے رہے اور ہر بار مولانا کے سوال کا نفی میں جواب دیتے رہے، اور بار بار یہ دہراتے رہے ، “ہے ہی نہیں ” بالآخر مولانا نے فرمایا! اپنی الماری اور لاکر کھول کر چیک کراؤ ، پھر کیا تھا چند ہی لمحے میں الماری کا دروازہ وا ہوا اور کچھ ہی ساعت میں لاکر کے اندر کا پورا نظارہ مولانا کے سامنے ہویدا تھا ، مولانا کی دوربیں اور چابک نگاہ جب الماری کے اندر اپنی مطلوبہ شئ کی جستجو میں مکمل انہماکیت کے ساتھ پس و پیش سے بے خبر سرگرداں تھی ، اس بیچ  مولوی عبدالناصر بجلی کی سی سرعت کے ساتھ چشمِ زدن اور لمحِ بصر میں پیچھے سے ہی دبے پاؤں کمرے کے باہر کھڑکی میں لٹکے حاشیہ ( کھانے کے بعدباقی ماندہ روٹی) کے کٹے ( بوری ) میں موبائل رکھ آئے ، ادھر مولانا کی نگاہ الماری کے اندر رکھے موبائل کے ڈبے  پرپڑی ( جس کو موصوف نے بطور یادگار الماری کی زینت کے لئے سجا رکھا تھا ) تب مولانا نے موبائل کے ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پورے یقین کے ساتھ کہا کہ تمہارے پاس موبائل ہے ، اور  ایسا ہی موبائل ہے ، اگر خیریت چاہتے ہوتو آج کے آج ہی موبائل میرے حوالے کردو ، بصورتِ دیگر میں سخت اقدام کرنے پر مجبور ہونگا ، مولوی رامپوری کی حالت یہ سن کر دگرگوں ہوگئ ، چہرے کا رنگ اتر گیا ، کھڑے کھڑے سوچنے لگے کہ اگر موبائل دیدوں تو موبائل بھی جائےگا اور شاید روٹی بھی بند ہوجائے ، چنانچہ اس کے ذہن میں کچھ جھماکہ ہوا اور پھر کیا تھا ، اپنی اور موبائل کی جان بچانے کے لئے اسی دن شام کو مولوی رامپوری گھر کے لئے چل کھڑے ہوئے اور موبائل گھرپر رکھ اگلے دو دن بعد مدرسہ تشریف لے آئے ، اِدھر مولانا کے فرمان کے مطابق موبائل مولانا کے حوالے نہ کئے جانے پر مولانا نے دفترِ دارالاقامہ میں ان کے خلاف مقدمہ درج کردیا ، اور ان کے خلاف سخت کارروائ کرنے کا عدلیہ اعلی سے مانگ کی ، جب رامپوری صاحب گھرسے لوٹے تو ان کی عدالتِ عالیہ میں پیشی ہوئ ، لیکن تب تک وہ اپنے سے آلۂ جرم کو دور کرچکے تھے ، پھر کیا ہونا تھا جرم کے ثابت نہ  ہونے اور آلۂ جرم کے ان کے پاس نہ ملنے کی بناء پر مقدمہ سے باعزت رہا کردئےگئے😄😄😄😄…………………………………………..اس کے بعد ایک اور بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب میں ۲۰١٥ء میں دورۂ حدیث کاطالبِ علم  تھا ، رات دارالحدیث سے آتے اور چاول وغیرہ خریدتے کافی دیر ہوجاتی تھی ، اور ہم  جوٹہرے بہاری! رات میں چاول کھانا ایک لابدی اور بدرجۂ واجبی امر تھا ، چاول کھائے بنا دل کو کب تسلی ملتی تھی ، اور اتفاق سے دارالحدیث ( مسجدِ رشید تحتانی ) سے میرا کمرہ اچھے خاصے فاصلے پر واقع تھا ، عشا کی اذان کے بعد درسگاہ سے نکل کر دکان سے چاول خرید کر کمرے میں آنا اور پھر چاول میں دم دینا ، اس میں اچھا خاصہ وقت صرف ہوجاتا تھا بلکہ اکثر تو مسجد قدیم کی جماعت کا وقت کمرے میں ہی ہوجاتا تھا ، اس لئے میں عموماً مسجدِ چھتہ میں عشا کی نماز ادا کرتا تھا (کہ اس میں مسجد قدیم کی جماعت کے دس منٹ بعد جماعت کھڑی ہوتی ہے ) اس بیچ ایک دن اسی مولانا کا مرعوب اور باوقار سراپا عین قدیم مسجد کی جماعت کے وقت دروازے کی اوٹ سے جھانکتا ہوا کمرے میں دفعۃً آ نمودار ہوا،  اور پھر وہی سوال اپنے مخصوص انداز اور خاص لب و لہجے میں ” بھئ! نماز کب پڑھوگے؟ نماز! ” جواب! جی حضرت! چھتہ میں پڑھونگا ، اس پر تو مولانا نے تو کچھ زیادہ مؤاخذہ نہ کیا ، لیکن بدقسمتی سے جو میرے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور دورانِ تعلیم از ابتدا تا انتہا میرے ساتھ ایک سایہ کی طرح ہم رکاب رہے میرے ہمدم ، و ہمنوا غمی و خوشی ، رنج و محن اور مسرت و شادمانی  کا ساتھی ، وہ کمرے میں بیٹھے دروازے کی طرف رخ کئے  موبائل کے کی بورڈ کو حرکت دے رہے تھے ، اور وہ موبائل تھا ملٹی میڈیا کا ، دروازہ کھولتے وقت مولانا کی چابک نگاہ موبائل پر پڑگئ تھی ، لہذا مولانا نے کسی بھی طور اس گراں مایہ موقع کو اپنے ہاتھ سے گنوا دینا مناسب نہیں سمجھا تھا ، لہذا خراما خراما عین موبائل والے کے روبرو آکر کھڑے ہوگئے ، اور موبائل کی فرمائش کرنے لگے ، موبائل والے نے اسے چھپانے کی لاکھ جتن کیا ، لیکن اپنے پلان میں کامیاب نہ ہوسکا ، پھر کیا تھا ، کچھ ہی لمحے میں موبائل مولانا کے فولادی پنجہ میں سما گیا ، اور مولانا اسے لئے فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے باہر کی طرف چل پڑے ، ہم نے مولانا کو بہت منایا ، عذر خواہیوں کی برسات کردی ، معافیوں کی ندیاں بہادی ، اور موبائل واپس کرنے کیلئے کافی حیل و حجت کیا ، لیکن! مولانا کی اصول اور ضابطہ پسند طبیعت بھلا اس بات کو کب قبول کرنے والی تھی؟ سو نہ ہی کوئ حیل و حجت کار گر ثابت ہوئ اور نہ ہی عذر خواہیوں اور معافیوں کی برسات مولانا کے دل کو پگھلا سکی ، اور پھر کیا تھا صبح ہی ہمارا ٹائم پاس موبائل دفترِ دالاقامہ کے آرام دہ مہمان خانے میں خوابِ نوشیں کا مزہ لینے کے لئے تشریف لے گیا ، اور اب تک بھی شاید وہیں مہمان بناخراٹے اور مزے کی نیند سورہاہے😢😢😢😢😢😢😢😢                                                       

       خلاصہ :-  اگر کوئ ملٹی میڈیا موبائل والا  مولانا موصوف کے حلقے میں ہوں تو چوکنا رہیں! ورنہ نہ جانے کب دفتر کی ہوا کھانے پڑیں ،                  

     ظفر امام ، کشن گنجی   دارالعلوم ” المعارف ”   کارکلا ، اڈپی ، کرناٹک

اپنا تبصرہ بھیجیں