کالمز

سید قطبؒ اور مولانا مودودیؒ کی فکر میں ہم آہنگی!ترجمہ:محمد رضی الاسلام ندوی

الاستاذ ڈاکٹر عماد الدین خلیل (عراق)،ترجمہ:محمد رضی الاسلام ندوی

تقریباً ربع صدی تک اسلام کو عقیدہ، فکر، تحریک اور عمل کی حیثیت سے برتنے کے بعد سید قطب شہید کی فکر میں ایسی اقدار و مفاہیم اور تصورات نکھر گئے تھے کہ اس کے بعد انہوں نے کتاب و سنت کی روشنی میں اسلام کا جتنا بھی مطالعہ کیا، ان افکار و تصورات کو تقویت ملتی گئی، اور اسلامی مصادر میں انہیں ان کے اس قدر شواہد و دلائل ملے کہ وہ تقریباً بدیہیات میں سے ہوگئے۔ ان کی دو عظیم تصنیفات ’’فی ظلال القرآن‘‘ اور ’’معالم فی الطریق‘‘ میں اس مسئلے پر سب سے زیادہ بحث کی گئی ہے۔ سید قطب نے جو عظیم مفاہیم و تصورات پیش کیے ہیں وہ ان دونوں کتابوں میں ریڑھ کی ہڈی یا نظامِ اعصاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فی ظلال القرآن کے ایک بڑے حصے میں یہ موضوعات زیر بحث آئے ہیں اور ان کی حیثیت مؤثر پس منظر کی ہے جس پر ان کا یہ عظیم کام مبنی ہے۔
طریقۂ کار کے پہلو سے دیکھا جائے تو سید قطب ان دونوں کتابوں میں ایک اعلیٰ درجے کے انجینئر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے انتہائی مہارت سے نقشے تیار کیے، مختلف پہلوئوں سے ڈیزائننگ کی، اور ان کے مطابق عمارت تعمیر کی۔ معالم فی الطریق میں جہاں فی ظلال القرآن کے بہت سے بیانات کو مدلل کیا گیا ہے وہیں یقیناً افکار کی انجینئرنگ کے میدان میں وہ ایک بے مثال کارنامہ ہے۔ یہ اس کتاب کی قدر و قیمت کے مختلف پہلوئوں میں سے ایک پہلو ہے۔
فی ظلال القرآن اور معالم فی الطریق دونوں کتابوں میں ہمیں عقیدے کے موضوع پر ایسے بیانات ملتے ہیں جو دل کی گہرائیوں میں پیوست ہوجاتے ہیں، اس لیے کہ وہ کتاب و سنت کے دلائل سے براہِ راست مستفاد ہیں اور انہیں غیر معمولی بصیرت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جو کم ہی مفکرین کو حاصل رہی ہے۔ اور ان کی تشکیل دقیق انجینئرنگ کے انداز پر کی گئی ہے۔ کوئی بات یوں ہی نہیں کہہ دی گئی ہے، بلکہ ہر عبارت، ہر جملے اور ہر لفظ کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا گیا ہے اور اس کی صحیح جگہ پر رکھا گیا ہے۔ اسی طرح کسی جزئی فکر کا بھی صحیح اندازہ لگایا گیا ہے اور افکار کے ترکیبی ڈھانچے میں اسے مناسب مقام دیا گیا ہے۔ اس طرح ایک ایسا تعمیری عمل ہمارے سامنے آتا ہے جو اپنے حسن، استحکام، دقت و باریکی، ہمہ گیری اور ماہرانہ تعمیر کے پہلو سے عقل کو حیران کردیتا اور وجدان کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔
مثال کے طور پر سید قطب اسلام کے ایک عظیم تصور کو جسے ’’توحید کے حر کی اور ہمہ گیر تصور‘‘ کا نام دیا جاسکتا ہے، دسیوں بلکہ سیکڑوں مقامات پر پیش کرتے ہیں اور ایسے قطعی ہندسی انداز میں بیان کرتے ہیں جس سے اس کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔ جو بھی دعوت اس سے صادر ہوگی اور اس کا کوئی نبی اسے لے کر آئے گا وہ درحقیقت ہمہ گیر اور انقلابی نظام ہوگا جس کا مقصد یہ ہوگا کہ طاغوت کو لوگوں کو اپنی حاکمیت اور قانون سازی کا غلام بنانے سے روک دے اور انسان کو آزاد کرکے اسے اللہ کے حکم اور قانون کا پابند بنائے۔ چنانچہ دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل زبردست خونیں کشمکش برپا ہوجائے گی۔ کوئی درمیانی حل ممکن نہیں۔ نہ بھائو تائو ممکن ہے، نہ دست برداری، نہ پیوندکاری اور ملمع سازی۔ دین ایک انقلابی تحریک کا نام ہے جو اس لیے آیا ہے کہ دنیا میں اللہ کا کلمہ نافذ کردے اور منحرف، کھوکھلے اور ظلم و جبر پر مبنی احوال کو بدل دے، بلکہ اگر ضرورت ہو تو ان احوال کو برپا کرنے والوں کے سر قلم کردے، اور انسان کی آزادی اور عزت و کرامت (جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کے وقت اس کی مفوّضہ ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے مقدر کی تھی) کے لیے راستہ کھول دے‘‘۔
قرآن کریم کی سورتوں، سورتوں کے ٹکڑوں اور آیتوں کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ان کے سامنے یہ عظیم تصور عجیب و غریب طریقے سے واضح رہتا ہے۔ بایں طور کہ ان میں سے بہت سی آیتیں ہم برابر پڑھتے رہتے ہیں، لیکن ہمارے ذہنوں میں وہ تصور نہیں آتا، لیکن جب وہ ان کی تفسیر بیان کرتے ہیں تو ان کے بیان کردہ مفہوم پر ہمیں شرحِ صدر ہوجاتا ہے، اور وہ آیتیں ان کے بیان کردہ عظیم تصور کے نقشے میں صحیح جگہ فٹ ہوجاتی ہیں۔ جو بات عقیدۂ توحید کے سلسلے میں ان کی تشریحات سے متعلق کہی گئی ہے وہی بات عقیدۂ اسلامی کے دیگر مفاہیم پر بھی صادق آتی ہے جن کی تشریحات فی ظلال القرآن اور معالم فی الطریق میں بکھری ہوئی ہیں۔ اس مختصر مقالے میں ان تمام تصورات سے بحث کرنا ممکن نہیں ہے، بلکہ صرف توحید کے حرکی اور ہمہ گیر تصور پر ایک سرسری نظر ڈالنی مقصود ہے۔
سید قطب یہ تصور پیش کرنے والے نہ پہلے شخص ہیں، نہ آخری۔ مختلف زمانوں میں اسلامی مفکرین نے اس حقیقت کو بیان کیا ہے اور مختلف اسالیب اور طریقوں سے اس کی وضاحت کی ہے۔ یہ اسلام کی بنیادی حقیقتوں میں سے ایک ہے۔ اس کی حیثیت ’’ریڑھ کی ہڈی‘‘ کی سی ہے، جس کے سہارے اسلام کا نظام قائم اور متحرک ہے۔ سید قطب کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے اس تصور کو غیر معمولی وسعت دی ہے اور اسے حیرت انگیز ہندسی نقشوں کے مطابق پیش کیا ہے۔ وہ ہمہ گیر نقطہ نظر کے مالک تھے جس کی بنا پر وہ مفرداتِ قرآن کو مختلف مقامات سے اکٹھا کرکے تصور کے اس بحرِ ذخار میں ضم کردیتے تھے۔ انہیں سیرت کا ایسا فہم حاصل ہوگیا تھا جو اس بنیادی تصور سے پوری طرح ہم آہنگ تھا۔
ان کا امتیاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس تصور کو بہت مناسب وقت میں پیش کیا اور اس کے ذریعے اس طاغوت کے عہد کا مقابلہ کیا جو لوگوں کے لیے ایسے قوانین وضع کررہا تھا جنہیں اللہ تعالیٰ نے جائز نہیں ٹھیرایا ہے، اور ان قوانین کے ذریعے وہ لوگوں کو اپنا اور اپنے اقتدار کا غلام بنا رہا تھا۔ انہوں نے اس تصور کے ذریعے ان ’’سیکولر‘‘ قدروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جو دین اور سیاست کے درمیان جدائی کی قائل تھیں، اور جنہوں نے لوگوں کے دل و دماغ کو متزلزل کردیا تھا اور انہیں اتنی بار دہرایا گیا تھا اور ان پر اتنا زور دیا گیا تھا کہ وہ بدیہیات میں سے معلوم ہونے لگی تھیں۔
سید قطب حقائق کو بہت مؤثر اور قائل کردینے والے اسلوب میں پیش کرتے تھے، اس طرح وہ تعلیم یافتہ طبقوں کے افکار و تصورات اور ان کی فکری بدیہیات کو بدل کر رکھ دیتے تھے، اور ان کی ازسرِنو تشکیل کرتے تھے۔ اسی لیے غالب گمان یہ ہے کہ ان کی پھانسی ایک اتفاقی واقعہ نہ تھا، بلکہ طاغوتی طاقتوں کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔
بہرحال توحید کے حرکی اور ہمہ گیر تصور اور دیگر بہت سی اقدار و مفاہیم میں سید قطبؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے درمیان پوری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہ مجرد خیال آرائی نہیں ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی شخص سید قطبؒ کی مذکورہ دونوں کتابوں (فی ظلال القرآن اور معالم فی الطریق) اور مولانا مودودیؒ کے متعدد کتابچوں خاص طور پر جہاد فی سبیل اللہ، شہادتِ حق، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں اور اسلام اور جاہلیت کے تقابلی مطالعے کے ذریعے اس حقیقت کو واشگاف کرسکتا ہے۔ یہ دونوں مفکرین ایک سرچشمے سے سیراب ہوتے ہیں، اس میں ذرا بھی شک نہیں اور یہ بدیہی حقیقت ہے۔ ساتھ ہی دونوں اس سرچشمے کے حقائق کا ایک ہی تصور رکھتے ہیں اور ایک ہی طریقے پر اس کی تعبیر و تشریح کرتے ہیں۔ دونوں ایک ہی انداز میں افکار کے تانے بانے بُنتے ہیں اور اپنے نتائجِ فکر کو بہت منطقی اور مؤثر اسلوب میں پیش کرتے ہیں۔
اس چیز کو ہم فی ظلال القرآن میں شروع سے آخر تک محسوس کرسکتے ہیں۔ یہاں مثال کے طور پر ہم سورۂ اعراف کو پیش کرتے ہیں۔ اس میں سید قطبؒ نے توحید کے حرکی اور ہمہ گیر تصور کو بہت مؤثر، مدلل اور جامع انداز میں پیش کیا ہے، جو مولانا مودودیؒ کے پیش کردہ تصور سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ دونوں عظیم مفکرین کے درمیان اس تصور میں کامل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
سید قطبؒ نے سورۂ اعراف کی تفسیر میں ایک مقام پر مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں‘‘ سے ایک طویل اقتباس نقل کیا ہے جو درج ذیل ہے:
’’انسانی زندگی کے مسائل میں جس کو تھوڑی سی بصیرت بھی حاصل ہوگی وہ اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوسکتا کہ انسانی معاملات کے بنائو اور بگاڑ کا آخری فیصلہ جس مسئلے پر منحصر ہے وہ یہ سوال ہے کہ معاملاتِ انسانی کی زمامِ کارکس کے ہاتھ میں ہے؟ جس طرح گاڑی ہمیشہ اسی سمت چلا کرتی ہے جس سمت پر ڈرائیور اُس کو لے جانا چاہتا ہے، اور دوسرے لوگ جو گاڑی میں بیٹھے ہوں خواستہ و ناخواستہ اسی سمت پر سفر کرنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسانی تمدن کی گاڑی بھی اسی سمت پر سفر کیا کرتی ہے جس سمت وہ لوگ جانا چاہتے ہیں جن کے ہاتھ میں تمدن کی باگیں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ زمین کے سارے ذرائع جن کے قابو میں ہوں، قوت و اقتدار کی باگیں جن کے ہاتھ میں ہوں، عام انسانوںکی زندگی جن کے دامن سے وابستہ ہو، خیالات و افکار و نظریات کو بنانے اور ڈھالنے کے وسائل جن کے قبضے میں ہوں، انفرادی سیرتوں کی تعمیر اور اجتماعی نظام کی تشکیل اور اخلاقی قدروں کی تعیین جن کے اختیار میں ہو، ان کی رہ نمائی، فرماں روائی کے رہتے ہوئے انسانیت بحیثیتِ مجموعی اُس راہ پر چلنے سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتی جس پر وہ اسے چلانا چاہتے ہوں۔ یہ رہ نما و فرماں روا اگر خدا پرست اور صالح لوگ ہوں تو لامحالہ زندگی کا سارا نظام خدا پرستی اور خیر و صلاح پر چلے گا۔ برے لوگ بھی اچھے بننے پر مجبور ہوں گے، بھلائیوں کو نشوونما نصیب ہوگا اور برائیاں اگر مٹیں گی نہیں تو کم از کم پروان بھی نہ چڑھ سکیں گی۔ لیکن اگر رہ نمائی و قیادت اور فرماں روائی کا یہ اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو خدا سے برگشتہ اور فسق و فجور میں سرگشتہ ہوں تو آپ سے آپ سارا نظامِ زندگی خدا سے بغاوت اور ظلم و بداخلاقی پر چلے گا۔ خیالات و نظریات، علوم، آداب، سیاست و معیشت، تہذیب و معاشرت، اخلاق و معاملات، عدل و قانون سب کے سب بحیثیتِ مجموعی بگڑ جائیں گے اور برائیاں خوب نشوونما پائیں گی‘‘۔
’’ظاہر بات ہے کہ اللہ کا دین اولاً تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ بالکلیہ بندۂ حق بن کر رہیں اور ان کی گردن میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کا حلقہ نہ ہو، پھر وہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ ہی کا قانون لوگوں کی زندگی کا قانون بن کر رہے۔ پھر اس کا مطالبہ یہ ہے کہ زمین سے فساد مٹے اور اُن منکرات کا استیصال کیا جائے جو اہلِ زمین پر اللہ کے غضب کے موجب ہوتے ہیں، اور ان خیرات و حسنات کو فروغ دیا جائے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔ ان تمام مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی اس طرح پورا نہیں ہوسکتا کہ نوعِ انسانی کی رہ نمائی و قیادت اور معاملاتِ انسانی کی سربراہ کاری ائمہ کفر و ضلال کے ہاتھوں میں ہو اور دینِ حق کے پیرو محض اُن کے ماتحت رہ کر اُن کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یادِ خدا کرتے رہیں۔ یہ مقاصد تو لازمی طور پر اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام اہلِ خیر و صلاح جو اللہ کی رضا کے طالب ہوں، اجتماعی قوت پیدا کریں اور سر دھڑ کی بازی لگاکر ایک ایسا نظامِ حق قائم کرنے کی سعی کریں جس میں امامت و رہ نمائی اور قیادت و فرماں روائی کا منصب مومنین صالحین کے ہاتھوں میں ہو۔ اس چیز کے بغیر وہ مدعا حاصل ہی نہیں ہوسکتا جو دین کا اصل مدعا ہے۔ اسی لیے دین میں امامتِ صالحہ کے قیام اور نظامِ حق کی اقامت کو مقصدی اہمیت حاصل ہے، اور اس چیز سے غفلت برتنے کے بعد کوئی عمل ایسا نہیں ہوسکتا جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو پہنچ سکے۔ غور کیجیے آخر قرآن و حدیث میں التزامِ جماعت اور سمع و طاعت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جماعت سے خروج اختیار کرے تو وہ واجب القتل ہے خواہ وہ کلمہ ٔ توحید کا قائل اور نماز، روزہ کا پابند ہی کیوں نہ ہو؟ کیا اس کی وجہ یہ اور صرف یہی نہیں ہے کہ امامتِ صالحہ اور نظامِ حق کا قیام و بقا دین کا حقیقی مقصد ہے، اور اس مقصد کا حصول اجتماعی طاقت پر موقوف ہے۔ لہٰذا جو شخص اجتماعی طاقت کو نقصان پہنچاتا ہے وہ اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کی تلافی نہ نماز سے ہوسکتی ہے اور نہ اقرارِ توحید سے۔ پھر دیکھیے کہ آخر اس دین میں جہاد کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے کہ اس سے جی چرانے اور منہ موڑنے والوں پر قرآن مجید نفاق کا حکم لگاتا ہے؟ جہاد نظامِ حق کی سعی کا ہی تو دوسرا نام ہے، اور قرآن اسی جہاد کو وہ کسوٹی قرار دیتا ہے جس پر آدمی کا ایمان پرکھا جاتا ہے۔ باَلفاظِ دیگر جس کے دل میں ایمان ہوگا وہ نہ تو نظامِ باطل کے تسلط پر راضی ہوسکتا ہے اور نہ نظامِ حق کے قیام کی جدوجہد میں جان و مال سے دریغ کرسکتا ہے، اور اگر کوئی اس معاملے میں کمزوری دکھاتا ہے تو اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے۔ پھر بھلا کوئی دوسرا عمل اسے کیا نفع پہنچا سکتا ہے؟‘‘
’’اسلام کے نقطۂ نظر سے امامتِ صالحہ کا قیام مرکزی اور مقصدی اہمیت رکھتا ہے، اور جو شخص اس دین پر ایمان لایا ہو اُس کا کام صرف اتنے ہی پر ختم نہیں ہوجاتا کہ اپنی زندگی کو حتی الامکان اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے، بلکہ عین اُس کے ایمان ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی تمام سعی و جہد کو اس ایک مقصد پر مرکوز کردے کہ زمامِ کار کفار و فساق کے ہاتھ سے نکل کر صالحین کے ہاتھ میں آئے اور وہ نظامِ حق قائم ہو جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق دنیا کے انتظام کو درست رکھے‘‘۔
پھر سید قطب اپنے الفاظ میں ایک سے زائد پہلوئوں سے اس تصور کی وضاحت کرتے ہیں، ان کا بیان سورج کی طرح روشن اور اس کی دھار تلوار کی طرح تیز ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’فرعون اور اُس کے لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے سے اللہ کے مکمل دین اور مکمل جاہلیت کے درمیان معرکہ آرائی کی حقیقت آشکارا ہوتی ہے اور واضح ہوتا ہے کہ طاغوت اس دین کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو کس طرح اپنے وجود کے لیے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کس طرح اپنے اور طاغوت کے درمیان معرکے کی حقیقت کا ادراک کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا:
(ترجمہ)’’اے فرعون! میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں۔ میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیلِ ماموریت لے کر آیا ہوں۔ لہٰذا تُو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے‘‘۔(الاعراف:104۔105)
ان آیات سے رب العالمین کی طرف دعوت کا مدلول واضح ہوتا ہے۔ اس میں اہلِ جہاں کی پرستش کو رب العالمین کی طرف پلٹایا گیا ہے، اس طرح اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کو قرار دیا گیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے تو اس کے کسی بندے (فرعون جیسے ظالم و جابر اور سرکش حکمراں) کو حق نہیں کہ ان سے اپنی پرستش کروائے۔ وہ صرف رب العالمین کے بندے ہیں۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی طرف تمام تر ربوبیت کو پلٹانے کا مطلب تمام تر حاکمیت کو اس کی طرف پلٹانا ہے۔ حاکمیت ربوبیت کا مظہر ہے۔ اس کا اظہار اُسی وقت ہوگا جب وہ ایک اللہ کی اطاعت کریں گے اور اس کے آگے سرِتسلیم خم کریں گے۔ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرنے والے وہ اُسی وقت ہوں گے جب صرف اسی کی اطاعت کریں گے، اور ان کی عبودیت اس ربوبیت یا باَلفاظِ دیگر اس حاکمیت کے لیے خالص ہوگی۔ اگر وہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی حاکمیت کی ماتحتی قبول کریں گے، جو شریعتِ الٰہی کے مطابق ان پر حکومت نہیںکرے گا تو گویا وہ اللہ کی ربوبیت کا انکار کرنے والے ہوں گے‘‘۔
مزید فرماتے ہیں:
’’زندگی صرف اللہ واحد پر ایمان اور ایک خدا کی بندگی کی بنیاد پر درست ہوسکتی ہے اور اس میں سدھار آسکتا ہے۔ زمین میں اُسی وقت فساد پیدا ہوتا ہے جب لوگوں کی زندگی میں خالص عبودیتِ الٰہی کا اظہار نہیں ہوتا۔ عبودیتِ الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا صرف ایک آقا ہو جس کی طرف وہ عبادت کے لیے متوجہ ہوں اور اس کی بندگی کریں۔ صرف اسی کے قانون کی پیروی کریں۔ اور ان کی زندگی انسانوں کی بدلتی خواہشات اور چھوٹی چھوٹی شہوات کی پابندی سے آزاد ہو۔ فساد لوگوں کی معاشرتی زندگی کے ساتھ ان کے تصورات میں بھی اُس وقت درآتا ہے جب اللہ کے علاوہ بہت سے رب بن جاتے ہیں جو لوگوں کی گردنوں پر حکومت کرتے ہیں۔ جب کہ ان کی عبودیت عقیدہ، عبادت اور شریعت کے پہلوئوں سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے تھی۔ انسان کو صرف ایک ربوبیت کے زیرسایہ ہی آزادی ملی ہے‘‘۔
ایک جگہ اور لکھتے ہیں:
’’انسان دو آقائوں کی خدمت نہیں کرسکتا اور دو معبودوں کی بندگی نہیں کرسکتا۔ جو شخص اللہ کا بندہ ہوگا وہ اس کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہوسکتا۔ اللہ کے رب العالمین ہونے کا اعلان فی الواقع انسان کی آزادی کا اعلان ہے۔ غیر اللہ کی ماتحتی، اطاعت، فرماں برداری اور عبودیت سے آزادی، انسانوں کے شر، خواہشات اور رسوم سے آزادی، انسانوں کی حکومت اور اقتدار سے آزادی۔ اللہ کے رب العالمین ہونے کے اعلان کے ساتھ اللہ کے سوا کسی اور کی اطاعت جمع نہیں ہوسکتی، اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی اپنی طرف سے قانون وضع کرکے دوسرے انسانوں پر حکومت جمائے‘‘۔
دونوں مفکرین (سید قطبؒ اور مولانا مودودیؒ) نے قرآن و سنت کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا اور دونوں کو مغربی تہذیب کے بہت سے مظاہر اور مناہج کا علم تھا۔ اس لیے کہ دونوں اس تہذیب کے خدوخال سے اچھی طرح واقف تھے اور اس کے بارے میں ماہرانہ گفتگو کرتے تھے۔ ان دونوں میں جس قدر عقائد کے معاملے میں پختگی اور اصالت تھی اور جس قدر وہ اس تہذیب کے مظاہر کا عقلی استدلال کے ذریعے رد کرتے تھے، اسی قدر انہوں نے تحریر و تنقید اور تحلیل و تجزیہ کرتے ہوئے مغربی تہذیب کے دلائل اور طریقۂ تحقیق سے فائدہ پہنچایا تھا۔ وہ دونوں انتہائی کشادہ ذہن کے مالک تھے۔ ان کا اصول یہ تھا کہ ’’حکمت‘‘ جہاں سے بھی ملے اسے لے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
بہرحال اس وقت ہم جس موضوع پر گفتگو کررہے ہیں اس میں دونوں کی فکر اور تحریر میں ہم آہنگی کا سبب یہ ہے کہ سید قطب نے خاص طور سے فی ظلال القرآن کے تنقیح شدہ آخری ایڈیشن میں قابلِ لحاظ حد تک مولانا مودودیؒ کی کتابوں سے اقتباسات لیے ہیں اور ان کے حوالے دیئے ہیں۔ ان حوالوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سید قطب کے دل میں مولانا مودودیؒ کی کتنی قدر و منزلت اور کس قدر محبت اور احترام تھا۔ وہ حوالہ دیتے وقت مولانا مودودیؒ کے لیے المسلم العظیم اورالمسلم الصادق اور ان کی تحریروں، کتابچوں کے لیے البحث القیّم، الرسالۃ القیمۃ، اور البحوث القیمۃ الدقیقۃ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
سید قطب نے فی ظلال القرآن میں 31 مقامات پر مولانا مودودیؒ کے حوالے دیئے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے معاصر مسلم مفکرین میں سب سے زیادہ حوالے مولانا مودودیؒ کے دیئے ہیں۔ یہ حوالے درج ذیل موضوعات پر ہیں:
’’دین کا مفہوم، اسلام کا مفہوم، الوہیت، ربوبیت اور حاکمیت کا مفہوم، عبادت کا مفہوم، جہاد کا مفہوم، جاہلیت کا مفہوم، سود، جنسی تعلقات، خاندان، شراب، اخلاقی قدریں‘‘۔
یہ اقتباسات اور حوالے مولانا مودودیؒ کی درج ذیل کتابوں (کے عربی تراجم) سے دیئے گئے ہیں: (1) جہاد فی سبیل اللہ، (2) سود، (3) اسلام اور جدید معاشی نظریات، (4) شہادتِ حق، (5) پردہ، (6) تفسیر سورۂ نور، (7) تنقیحات، (8) قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں، (9) دینیات، (10) تحریک ِاسلامی کی اخلاقی بنیادیں، (11) اسلام اور جاہلیت، (12) اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر۔
سید قطب نے بہت سے مقامات پر صرف حوالے دیئے ہیں، بعض مقامات پر اقتباسات نقل کیے ہیں۔ تفسیر سورۂ انفال میں انہوں نے طویل ترین اقتباس (بڑے سائز کے 15 صفحات کا) مولانا کے کتابچے جہاد فی سبیل اللہ سے لیا ہے۔ اس اقتباس سے پہلے انہوں نے یہ جملے تحریر کیے ہیں: ’’یہاں دینِ اسلام کے مزاج اور اس میں جہاد کے مزاج سے متعلق ایک مختصر اور قابلِ قدر بحث ہم عظیم مسلمان سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ امیر جماعت اسلامی پاکستان کی نقل کرنا چاہتے ہیں، جو انہوں نے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے عنوان سے کی ہے۔ اس سے ہم ایک طویل اقتباس نقل کریں گے۔ جو شخص بھی تحریک ِ اسلامی کی تشکیل میں اس اہم اور عمیق موضوع کا واضح اور دقیق فہم حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتا‘‘۔
صحیح بات یہ ہے کہ سید قطب کا مولانا مودودیؒ کے اقتباسات نقل کرنے اور حوالے دینے کا رویہ تعجب خیز اور دل کش ہے۔ مصر کا ایک عبقری دانش ور پاکستان کی اپنی جیسی شخصیت کا احترام کرتا ہے اور اس سے اخذ و استفادہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، بلکہ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ اس کا تذکرہ کرتا ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے حق میں یہ ایک قابلِ قدر شہادت ہے جو بہت سی شہادتوں سے بڑھ کر ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Close