پٹنہ

مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کیلئے سیاست میں حصہ داری بھی انتہائی اہم! گلریز ہدیٰ کا اردو صحافیوں کے ساتھ تبادلہ خیال

مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کیلئے سیاست میں حصہ داری بھی انتہائی اہم
۰ تعلیمی اور اقتصادی ترقی مسلمانوں کیلئے انتہائی ضروری
۰ مسلمان اپنے حقوق کیلئے احسا س کمتری سے باہر نکلیں
۰  جمہوریت کے تحفظ کیلئے مسلم ۔ دلت اور محروم طبقات کو متحد ہونے کی ضرورت
ماہر اقتصادیات اور عالمی بینک کے سابق ڈائریکٹر گلریز ہدیٰ کا اردو
صحافیوں کے ساتھ تبادلہ خیال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پٹنہ(حمزہ استھانوی): سبکدوش ائی اے ایس افسر اور عالمی بینک کے سابق ڈائریکٹرگلریز ہدیٰ
نے مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کیلئے تعلیمی اور اقتصادی شعبہ میں پیش رفت
کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ داری کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ماہر
اقتصادیات گلریز ہدیٰ نے  ہوٹل سمراٹ انٹرنیشنل میںاردوصحافیوں کے ساتھ
تبادلہ خیال کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی
قوم یا سماج کیلئےتعلیمی ترقی انتہائی اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ
اقتصادی ترقی بھی ضروری ہے اگر ہم معاشرہ خوشحال ہوگا تو ہمارے بچوں کیلئ
تعلیم کا راستہ بھی آسان ہوجائیگا ۔ اسکے لئے خود روزگار پر توجہ بہت
ضروری ہے ۔ گلریز ہدیٰ نے کہا کہ سماج کیلئے لڑکیوں کا تعلیم یافتہ ہونا
ضروری ہے ۔ اس نہج پر کام کرتے ہوئے انہوں نے حکمت فائونڈیشن کی تشکیل کی
ہے ۔ فائونڈیشن کے توسط سے انہوں نے اپنے آبائی حلقہ مغربی چمپارن سے
خود روزگار اور لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ایک مہم شروع کی ہے اس کےتحت ضلع
کے کثیر مسلم آبادی والے بلاکوں میں لڑکیوں کیلئے نور گرلس ہائی اسکول
کھولے جارہے ہیں۔ ابتک دو اسکول کھولے جاچکے ہیں جہاں لڑکیوں کو معیاری
تعلیم کی سہولت فراہم کرائی جارہی ہے ۔ اسی طرح لوگوں کو خود روزگار کی
طرف راغب کرنے کیلئے لئیر فارمنگ اور دوسری طرح کی ٹریننگ کا بھی
فائونڈیشن کی جانب سے نظم کیا گیا ہے جس سے کثیر تعداد میں علاقے کے لوگ
مستفیض ہوئے ہیں۔ گلریز ہدیٰ نے بتایا کہ گذشتہ تین چار برسوں سے مسلسل
چمپارن کے علاقے میں لوگوں کیلئے تعلیمی اور اقتصادی مہم چلانے کے دوران
انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہو ا کہ سماجی ترقی کیلئے سیاست میں بھی
مسلمانوں کی حصہ داری بہت ضروری ہے ۔ چمپارن میں مسلمانوں کی بڑی آبادی
ہے جو تعلیمی، اقتصادی اور سماجی طور سے پسماندگی کی شکار ہے۔ یہ بڑی
آبادی سیاست میں حاشیہ پر ہے ۔ یہ مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کی راہ میں
ایک بڑی رکاوٹ ہے اسے دور کرنے کا سدباب یہ ہے کہ مسلمان سیاست میں اپنی
حصہ داری کو یقینی بنانے کیلئے بھی ایک منظم پلان تیار کریں اور منصوبہ
بند طریقے سے اس سمت میں کوششیں کی جائیں ۔ اسی پس منظر میں انہوں نے
چمپارن کے علاقے میں مسلم ۔دلت اور پسماندہ طبقات کے علاوہ جنرل طبقے کے
اقتصادی طور سے کمزور لوگوں کو متحد کرنے کیلئے ایک سیاسی پلیٹ فارم تیار
کیا جائے ۔ چمپارن علاقے کے سرکردہ افراد کے ساتھ مختلف حلقوں میںمشاورتی
میٹنگ کے بعد انہوں نے راشٹریہ جن سنگھرش پارٹی ( آر جے ایس پی) تشکیل
دی ہے ۔ اس پارٹی میں چمپارن کے ایک مضبوط دلت لیڈر و سابق رکن پارلیمنٹ
و سابق ریاستی وزیر پرنماسی رام کو قومی جنرل سکریٹری کی ذمہ داری دی گئی
ہے ۔ ان کی پارٹی کا منصوبہ یہ ہے کہ مغربی چمپارن و مشرقی چمپارن اور
مضافات کے ضلعوں میں پارٹی کو تنظیمی سطح پر مضبوط کیا جائے تاکہ یہ
پارٹی اسمبلی انتخابات میں ان علاقوں میں اپنا ایک اچھا اثر قائم کرسکے ۔
پارٹی کے صدر گلریز ہدیٰ نے یہ واضح کیا کہ انکی سیاست کا مقصد مسلمانوں
اور محروم طبقے کے لوگوں کا تعلیمی ، اقتصادی اور سماجی استحکام ہے ۔ ان
طبقے کے اختیار کاری میں سماج کے دانشور طبقات اور میڈیا کا تعاون درکار
ہے ۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وہ جس جذبہ کے تحت منصوبہ بند طریقے سے
سچی نیت سے کام کر رہے ہیں ، انہیں ضرور کامیا بی ملےگی۔میڈیا کے
نمائندوں کی جانب سے مسلمانوں کے تعلق سے شہریت ترمیمی بل اور این آر سی
جیسے حساس مسائل کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ سب مسائل بھی مسلمانوں کے
کمزور سیاسی رویہ پر منحصر ہے اگر ہم سیاسی طور سے بیدار اور مضبوط
رہینگے اور قوت کا احساس کرائینگے تو یقینی طور سے فرقہ پرست طاقتوں کی
طرف سے پیدا کئے جانے والے نامساعد حالات کا بہ خوبی سامنا کرسکینگے ۔ اس
نظریہ سے بھی مسلمانوں کی سیاسی اختیار کاری انتہائی اہم ہے ۔
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close