پٹنہ

ائمہ کرام جمعہ کے خطبوں کے ذریعہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کی حقیقت اور مضراثرات بتائیں: امارت شرعیہ

حکومت کے جبری اور سیاہ قانون کے خلاف عوامی لڑائی اب عالمی بن گئی ہے، ہم سب کو اس میں اپنا اہم رول ادا کرنا چاہئے: محمد شبلی القاسمی

حکومت کے جبری اور سیاہ قانون کے خلاف عوامی لڑائی اب عالمی بن گئی ہے، ہم سب کو اس میں اپنا اہم رول ادا کرنا چاہئے: محمد شبلی القاسمی
پٹنہ۔ ۱۶؍جنوری: (عادل فریدی) امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے این آر سی ، سی سے اے اور این پی آر کے خلاف ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی سیاہ قانون ہے ،جو ملک کی سالمیت، جمہوریت اور سیکولرزم پر حملہ ہے اور اس کے تانے بانے کو ختم کرنے کے لیے لایا گیا ہے ، اس قانون نے ہندوستانی آئین اور دستور کا گلا گھونٹ دیا ہے ۔ اس قانون کے ذریعہ حکومت نے ہندوستانی آئین اور دستور میں دیے گئے مساوات اور مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق نہ کرنے کی یقین دہانی ختم کر دی ہے ، اور آئین کی روح کے خلاف قانون پاس کر لیا ہے جو سراسر ظالمانہ اور آمرانہ ہے ۔ آج پورے ملک میں اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاج اور مظاہرہ ہو رہا ہے۔ اور ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود سی اے اے، این پی آر اور این آر سی جیسے ظالمانہ قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج تھمنے کا نام نہیں لے رہا ، بلکہ جوں جوں دن گذر رہے ہیں احتجاج و مظاہرے شدید سے شدید تر ہو تے جا رہے ہیں۔ حکومت کے جبری اور سیاہ قانون کے خلاف شروع ہوئی عوامی لڑائی نہ صرف پورے ملک میں پھیل گئی ہے بلکہ اب یہ لڑائی عالمی بن گئی ہے، پوری دنیا میں اس قانون کی مذمت کی جا رہی ہے ، دنیا کے اہم لوگوں نے اس قانون کے مضرات بیان کیے ہیں ، لیکن اس کے با وجود حکومت وقت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے ، یہ حکومت ہٹلر کے نقش قدم پر چل رہی ہے ، اور اس ملک کو نازی اقتدار والا جرمنی بنا دینا چاہتی ہے ، حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کچھ دن ہنگامہ کر کے خاموش ہو جائے گی ، لیکن یہ اس کی بھول ہے ، اس ملک کے سیکولرعوام حکومت کی اس چال کو ہرگزکامیاب ہونے نہیں دیں گے،اور آئین و جمہوریت کو بچانے کے لیے اس لڑائی کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک یہ غیر آئینی قانون ختم نہیں ہو جاتا ہے ،یہ ہم سب کی لڑائی ہے اور ہم سب کو اس میں اپنا رول ادا کرنا ہے۔آج پورے ملک میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں، ایک جمہوری ملک میں پر امن رہتے ہوئے احتجاج کرنا قانونی اور جمہوری حق ہے ، یہ بات خوش آئند ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے انصاف پسند اور باضمیر لوگوں کی بڑی تعداد ان مظاہروں میں شرکت کررہی ہے اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کی اور آئین ہند کے تحفظ کی کوشش کر رہے ہیں، شاہین باغ کی طرز پر پورے ملک میں درجنوں شاہین باغ بن چکے ہیں جہاں مرد و خواتین مل کر اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاج اور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مولانا موصوف نے مزید کہا کہ پٹنہ کے سبزی باغ اور ہارون نگر سمیت ریاست بہار کی مختلف جگہوں میں کئی دنو ں سے مسلسل احتجاجی مظاہرہ جاری ہے ، جس میں مرد و خواتین پورے جوش و جذبے سے لگے ہیں ، امارت شرعیہ احتجاجی مظاہروں میں نہ صرف عملی طور پر شریک بلکہ ہر اس احتجاج و مظاہرہ کی مکمل حمایت کرتی ہے جو پر امن طریقہ سے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہو رہے ہیں امارت شرعیہ کے ذمہ داران و کارکنان، قضاۃ، ارکان شوریٰ وعاملہ، بلاک و ضلعوں کے صدر اور سکریٹری مظاہروں میں شریک ہورہے ہیں اور ہم وطن بھائیو ں اور بہنوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر یک آواز ہو کر اس سیاہ قانون کے خلاف اپنے جذبات و ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔جناب قائم مقا م ناظم صاحب نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ان مظاہروں کو مضبوط کریں ۔مولانا نے ائمہ کرام سے بھی اپیل کی کہ وہ جمعہ کے خطبوں کے ذریعہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کی حقیقت اور مضرات بتائیںاور ان مظاہروں کو کامیاب بنائیں جیسا کہ آپ کرتے رہے ہیں ۔مولانا موصوف نے امارت شرعیہ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ اول دن سے اس قانون کو واپس لینے کی تحریک چلا رہی ہے اور اسکے خلاف پوری قوت ، حکمت و بصیرت اور جرأت کے ساتھ کام کر رہی ہے ، امارت شرعیہ اس وقت اس تحریک کو ایک مذہب کا رنگ دینے سے بچانے کے لیے شب و روز کام کر رہی ہے ، مختلف غیر مسلم سیاسی ، غیر سیاسی جماعتوں سے مل کر انہیں اس تحریک کی کمان اپنے ہاتھوں میں لے کر آگے بڑھنے کی تدبیریں کر رہی ہے، اور یہ سلسلہ اس دن سے جا ری ہے ، جس دن یہ قانون راجیہ سبھا سے پاس ہوا ہے ۔ الحمد للہ اس میں کامیابی ملی اور مل رہی ہے ، ان جماعتوں نے اس تحریک کی کمان سنبھال لی ہے ، اور احتجاج و مظاہرہ ، دھرنا اور بند کا اہتمام کر رہی ہے ۔ مسلمان ان کے بینر تلے تحریک کا حصہ ہیں ۔ حضر ت امیرشریعت کی اس حکمت سے فرقہ پرستوں کی یہ سازش ناکام ہو گئی کہ اسے مذہب کا رنگ دے کر ناکام بنا دیا جائے ، اس سلسلہ میں اخبارات و دیگر ذرائع ابلاغ ، حضرات قضاۃ اور امارت شرعیہ کے متوسلین کی معرفت امارت شرعیہ کا پیغام عام مسلمانوں تک پہونچایا جا رہا ہے ، اس عمل میں امارت شرعیہ نے دوسری مذہبی ا ور ملی تنظیموں کو بھی ساتھ لے کر آگے بڑھنے کا اہتمام کیا ہے ۔اور بہار کی اہم ملی جماعتوں کے ساتھ کئی نشستیں ہوئی ہیں ، یہ قانون نہ صرف ملک کے دستور اساسی کے خلاف ہے ، بلکہ کئی عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے ضابطوں کے خلاف ہے، غیر دستوری اور غیر آئینی ہونے کے علاوہ قانون میں کئی خامیاں اور بڑے بڑے نقائص ہیں ، اس قانون کے ذریعہ نیشنل سیکورٹی کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، اور بھی کئی قانونی پیچیدگیاں ہیں جو اس قانون کے نفاذ سے پیدا ہوں گی جس کو سنبھالنا حکومت کے لیے ناممکن ہو جائے گا، اس لیے قانون دانو ں کے مشورہ سے اس قانون کو سپریم کورٹ میںچیلنج کیا گیا ہے اور مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔حضرت قائم مقام ناظم صاحب نے احتجاج و مظاہرہ کے سلسلہ میںمظاہرین کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ احتجاجی مظاہرہ ہر قسم کے تشدد سے بچتے ہوئے جمہوری اور پر امن طریقے پر کیا جائے ،جس علاقے میں مظاہرہ ہو وہاں کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے انصاف پسند باشندوں کو ساتھ لیاجائے، احتجاجی مظاہروں کو مذہبی رنگ نہ دیا جائے،مذہبی قسم کے نعرے لگانے سے احتیاط کیا جائے، جس علاقے میں احتجاجی مظاہرہ ہو وہاں کے علماء اورسمجھدار لوگوں کی رہنمائی اور قیادت میں احتجاجی مظاہرے کو منظم کیا جائے تا کہ وقتی جوش اور جذبات کی شدت کی وجہ سے غلط اقدامات سے بچا جاسکے ،بڑے سے بڑے احتجاجی مظاہرے میں زیادہ سے زیادہ تعداد کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جائے اور احتجاجی مظاہرے کو منظم کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جائے ،حتجاجی مظاہرے کی ویڈیو شوٹنگ کرکے اور اس کی اچھی تصویریں نکال کر بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر وائرل کیا جائے اور سچائی کو سامنے لانے والے ٹی وی چینلز مثلاً این ڈی ٹی وی کو بھیجا جائے ،احتجاجی مظاہرے کے دوران پوری طرح چوکنا رہا جائے تا کہ شرپسندوں کو شرانگیزی کا موقع نہ مل سکے اور انتظامیہ بھی کوئی غلط حرکت کرکے مظاہرہ کرنے والوں پر اس کا الزام نہ لگا سکے،احتجاجی مظاہروں میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جو دوسرے طبقات کے لوگ شریک ہوں وہ نمایاں طریقے پر نظر آئیں،احتجاجی مظاہروں کو مزید تقویت دینے اور ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے دیواروں مختلف سواریوں اور چوک چوراہوں پرNo NRC, No CAA، ہمیں شہریت ایکٹ منظور نہیں، این آر سی نہیں چلے گی وغیرہ تحریر کیے جائیں،احتجاجی مظاہروں میں ہندوستان کا قومی جھنڈا(ترنگا) بڑی تعداد میں ساتھ لیا جائے اور ہندوستان زندہ آباد، انقلاب زندہ آباد، جمہوریت زندہ آباد جیسے نعرے لگائے جائیں۔ریلی، جلوس، اجلاس ، دھرنا کے علاوہ اخباروں میں مضامین لکھ کر ، شعرا اپنا اشعار کے ذریعہ ، دیواروں پر سلوگن اور نعرے لکھ کر ، کینڈل مارچ کے ذریعہ ، پمفلٹ اور پلے کارڈ کے ذریعہ ، سپریم کورٹ اور حکومت کے پاس خطوط بھیج کر، سپریم کورٹ میں کیس درج کرا کر پر امن طریقہ سے اپنا احتجاج درج کرائیں ۔ ۲۶؍ جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب پورے ملک میں منائی جاتی ہے ، ا س بار اسے اور اہتمام سے کریں اور ملک کے آئین و دستور کی حفاظت کا عہد لیں ، سب لوگ مل کراس دن ملک کے بنیادی دستور اور اس کے ڈھانچے کی حفاظت کے اعلان کے ساتھ نئی توانائی لے کر آگے بڑھیں اور اس نئے قانون اور ان سبھی سازشوں کے بائکاٹ کا انقلابی فیصلہ لیں،جو دستور ہند بالخصوص اساسی دستور کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں، اور اسے میڈیا ،بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعہ عام کریں ۔اس وقت مختلف جگہوں سے یہ خبر آرہی ہے کہ مختلف نام سے آر ایس ایس کے ایجنٹ لوگوں کے گھروںپر جا کر ان سے بعض کاغذات مانگ رہے ہیں ، ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں اور کسی طرح کا کاغذ کسی کونہ دیں۔ اس کے علاوہ ایک گذارش تمام ائمہ اور علماء سے یہ ہے کہ جمعہ میں ہر مسجد میں اسی موضوع پر تقریر کی جائے اور برادران اسلام کو موجودہ حالات کی نزاکت اور آئندہ پیش آنے والے خطرات سے واقف کرایا جائے ۔ لوگوں میں اس سلسلہ میں بیداری پیدا کی جائے کہ کیوں کہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے ، ملک کے آئین کا مسئلہ ہے ، دستور میں دیے گئے مذہبی مساوات اور آزادی کی یقین دہانی کا مسئلہ ہے ، اس قانون کی زد میں صرف مسلمان نہیں آئیں گے بلکہ ملک میںبسنے والاہر شہری بالخصوص ہر غریب، مزدور، پسماندہ ، اور پچھڑا آئے گا ۔ اس لیے برادران وطن کو آگے کر کے ان کے کاندھا سے کاندھا ملا کر اس وقت تک اس تحریک کو باقی رکھیں جب تک حکومت اپنے قدم پیچھے ہٹانے کو مجبور نہ ہو جائے ۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close