مضامین و مقالات

کیا واقعی میں ہندوستان میں قومی یکجہتی کی ’شبنمی ہوائیں‘ چلنے لگی ہیں؟ محمد فرحان اختر 

کیا واقعی میں ہندوستان میں قومی یکجہتی کی ’شبنمی ہوائیں‘ چلنے لگی ہیں؟ محمد فرحان اختر
بابری مسجد پر ’کورٹ ‘ کا ’سپریم‘ فیصلہ مایوس کن،فیصلہ نہیں سمجھوتہ لگتا ہے، کھل کر سامنے آئی مسلم قیادت کی بے بسی، آل انڈیا ہیومن کیئر فائونڈیشن کے صدر حافظ فرحان اخترکا اظہار خیال
نئی دہلی: ہندوستان ہی پوری دنیا میں سب سے بڑے مقدمہ پر جس طرح سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے ، دھیرے دھیرے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایک نظر میں دیکھا جائے تو کوئی ایسی بات نہیں دکھتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف فیصلہ جائے۔ لیکن جہاں سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی اکثر دلیلوں کو قبول کیا اور فریق مخالف کی دلیلوں کو مستر کیااس سے یہ صاف دکھتا ہے کہ انصاف کے سب سے بڑے مندر’ سپریم کورٹ میں بھی سیاست اب حاوی ہوگئی ہے۔ اس انصاف کے مندر میں سب کی نگاہیں ہوتی تھیں اور مظلوم کا آخری سہارا سپریم کورٹ ہی تھا۔ لیکن اس فیصلہ سے سب کو مایوسی ہوئی ہے۔لیکن ایک بات کہنے میں مجھے کوئی حرج نہیں ہے بلکہ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پرہندوستانی مسلمانوں نے جس طرح صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔
گزشتہ کئی مہینوں سے ملک میں جو ماحول بن گیا تھا اور بابری مسجد تنازعہ کے سلسلے میں جس طرح سپریم کورٹ نے دونوں فریقکو مصالحت اور سمجھوتہ کے ذریعہ کوئی حتمی فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی اس سے اندازہ ہو گیا تھا کہ فیصلہ کیا ہونے والا ہے ۔بہر حال اس فیصلے سے قبل پورے ملک کا مسلمان ذہنی طور پر اس طرح کے فیصلے کے لئے تیار تھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے آخری دنوں میں جس طرح امن و امان کی اپیلوں کا سیلاب آن پڑا تھا اس سے بھی توقع یہی کی جا رہی تھی کہ فیصلہ سپریم کورٹ کا کچھ ایسا ہی آنے والا ہے۔
سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اس سے جیت تو یقینا مندر فریق کی ہوئی ہے لیکن ملک کے مسلمانوں نے اپنے خلاف آئے فیصلے پر جس صبر و استقلال اور امن کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔مسلمانوں کے لئے فیصلہ گرچہ مایوس کن ہے مگر حسب وعدہ اس کا احترام لازمی ہے۔فیصلے کے منظر عام پر آنے کے بعد مسلمانوں نے اپنے پر امن رد عمل کے ذریعہ دنیا کو یہ پیغام بھی دے دیا کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ گرچہ ہماری منشا کے موافق نہیں ہے مگر ہمیں ملک کے عدلیہ کا احترام کرنا ہے ،ملک کے قانون پر ہمارا مکمل اعتماد ہے ،اس لئے فیصلہ جو بھی ہے وہ قبول ہے۔مقدمے میں اہم فریق سنی وقف بورڈ ، مسلم پرسنل لاءبورڈ،جمعیة علمائے ہند نے پوری جدو جہد اور خلوص نیت کے ساتھ آخری دم تک مسجد کی بحالی کے لئے قانونی لڑائی لڑتے رہے، جہاں تک ممکن ہو سکا انہوںنے شواہد اور دلائل سے عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر فیصلہ ان کے برعکس آیا ۔جو مایوس کن تو ضرور ہے مگر ہمت ہارنے یا افسردہ ہونے کا وقت ہرگز نہیں ہے۔مقدمے میں تمام اہم فریقوں نے اس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے مسلمانوں کو مایوس نہ ہونے اور صبر و تحمل کے ساتھ ملک میں امن و امان کی اپیل کی جس پر مسلمانوں نے آمنا و صدقنا کہا۔بسا اوقات انسان کی زندگی میں ایسے متعدد مواقع آتے ہیں جہاں وہ صبرکوہی اپنا سب سے بڑا ہتھیار تصور کرتا ہے۔کچھ ایسے مواقع بھی آتے ہیں جہاں وہ عملی طور پر کچھ کرنے کی حالت میں ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ صبر کرتا ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے لئے یہ وقت بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔کیونکہ یہ ہمارا بنیادی عقیدہ ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ کے صدیوں پرانے معاملے میں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی بنچ نے چالیس دنوں کی روزانہ سماعت کے بعدمتفقہ طور پر اپنا فیصلہ سنایاہے۔عدالت عظمیٰ نے مندر معاملے کے اہم فریق نرموہی اکھاڑہ کے دعوے کو خارج کر دیا ،شیعہ وقف بورڈ کی عرضی کو بھی مسترد کرتے ہوئے رام للا براجمان اور سنی وقف بورڈ کو ہی اہم فریق تسلیم کیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں 2010میں دیئے گئے الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ متنازعہ اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے کو بھی غیر منطقی قرار دیا ۔آخرمیں رام للا وراجمان کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے متنازعہ زمین مندر کے حوالے کر دیا ۔۔چیف جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ،اورجسٹس ایس عبد النظیر پر مشتمل آئینی بنچ نے اس حساس معاملے میں یہ بھی تسلیم کیا کہ شواہد اور دلائل سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ بابری مسجد رام مندر کو منہدم کر کے تعمیر کی گئی لیکن یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ بابری مسجد خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی ۔ساتھ ہی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ 1949میں مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے مورتیوں کا رکھا جانا ایک غلط اور مسجد کے تقدس کو پامال کرنا تھا اور 1992میں شرپسندوںکے ذریعہ مسجد کوڈھایا جانا بھی قانون کی خلاف ورزی تھی۔سپریم کورٹ نے برسوں پرانے معاملے کو چالیس دنوں کی میراتھن سماعت کے بعد اب انجام تک پہنچا دیا ہے۔ضروری نہیں کہ فیصلے سے تمام فریق متفق ہوں۔یہ حقیقت بھی ہے کہ دو فریقوں کے درمیان جب کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو ایک فریق کو یقینا اپنے حق سے دستبردار ہونا پڑتا ہے ،فیصلہ اس کے لئے مایوس کن ضرور ہوتا ،یہ ضروری بھی نہیں کہ اس کی نظر میں فیصلہ درست ہو مگر ایک معاشرے اور سماج میں رہنے اور عدالت کی حیثیت کو قبول کرتے ہوئے اسے فیصلے پر سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔بابری مسجد قضیہ میں بھی عدالت عظمیٰ کا فیصلہ گر چہ مسلمانوں کی منشا کے موافق نہیں آیا مگر ایک جمہوری ملک کے امن پسند شہری ہونے کی وجہ سے فیصلے کو قبول کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ملک کے تمام مسلمانوں نے اس کا وعدہ بھی کیا تھا۔چنانچہ فیصلے کے بعد حسب وعدہ تمام مسلمانوں نے پورے ملک میں امن و امان کے ساتھ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے برادران وطن کے ساتھ بھائی چارے اور اتحاد و اتفاق کابے مثال نظیر پیش کیا ہے۔اپنے اس عمل سے مسلمانوں نے حکومت ہند ،انتظامیہ بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ ہمارا جمہوریت پر اعتماد کتنا مضبوط ہے اور عدالت عالیہ کے تئیں ہمارے دل میں کتنا احترام ہے۔
بہر حال سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ملک و بیرون میں آواز اٹھنے لگی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج نے بھی بابری مسجد معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سوال اٹھایا ہے۔ ریٹائرڈ جج جسٹس اشوک گنگولی نے اجودھیا معاملے میں آئے فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اجودھیا معاملے پر آئے فیصلے نے ان کے اندر شک پیدا کر دیا ہے اور فیصلے کے بعد وہ کافی پریشان ہو گئے تھے۔ دی ٹیلی گراف ‘ کے مطابق 72 سالہ جسٹس گنگولی نے کہا کہ نسلوں سے اقلیتوں نے دیکھا کہ وہاں پر ایک مسجد تھی۔ جسے منہدم کیا گیا۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس کے اوپر ایک مندر تعمیرکیا جائے گا۔ اس بات نے میرے دماغ میں شک پیدا کر دیا ہے۔ آئین کاطالب علم ہونے کی وجہ سے اسے قبول کر پانا میرے لئے کافی مشکل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی جگہ نماز ادا کی جاتی ہے اور نماز ادا کرنے والوں کی جگہ-خاص پر مسجد ہونے کا ایمان ہے، تو اسے چیلنج نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر 1856-57 میں نہیں، لیکن یقینی طور پر 1949 کے بعد نمازیں ادا کی گئی ہیں، اس کا ثبوت بھی ہے۔جب ہمارا آئین وجود میں آیا، تب وہاں نماز ادا کی جا رہی تھی، جس مقام پر نماز ادا کی جاتی ہے، اگر اس جگہ کو مسجد کی منظوری دی جاتی ہے، تو اقلیتی برادری کو اپنے مذہب کی آزادی کی حفاظت کا حق حاصل ہے، یہ آئین کے ذریعہ دیا گیا بنیادی حق ہے۔
وہیں دوسری طرف ملک کے مذہبی قائدین نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔صدر جمعیة علماءہند مولانا سید ارشد مدنی نے سب سے پہلے ہندوستان کے مسلمان اور برادران وطن سے یہ اپیل کی ہے کہ اس فیصلے کو ہار اور جیت کے نظریے سے نہ دیکھیں اور ملک میں امن وامان اوربھائی چارہ کے ماحول کو باقی رکھیں۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ اقتدار اعلیٰ ہے۔ انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ مسلمان مایوسی کا شکار نہ ہوں ، اللہ پر بھروسہ کریں اوراپنی مسجدوں کو آبادرکھیں۔ انہوں نے آگے کہا کہ ملک کے آئین میں ہمیں جو اختیارات دیے ہیں ان کا استعمال کرتے ہوئے جمعیة علماءہند نے قانونی طور پر آخری حدتک انصاف کی لڑائی لڑی ہے۔اس کے لئے ملک کے ممتاز وکلاءکی خدمات حاصل کی گئیں،ثبوت وشواہد اکٹھا کئے گئے اور قدیم دستاویزات کے تراجم کرواکر عدالت میں پیش کئے گئے یعنی اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کے لئے ہم جو کچھ کرسکتے تھے وہ کیا اور ہم اسی بنیاد پرپر امید تھے کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگامگر ایسا نہ ہوسکا۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے بھی کچھ اسی طرح کا بیان دیا۔اور انہوں نے کہا کہ ہم فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن فیصلہ سے مطمئن نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close