مضامین و مقالات

ہندو مسلم کے فتنے سے مسلم طبقہ ہوشیار ہو جائے – از : رفیع اللہ قاسمی

ہندو مسلم کے فتنے سے مسلم طبقہ ہوشیار ہو جائے – از : رفیع اللہ قاسمی

آج انسان دو ہی حصوں میں منقسم ہو سکتے ہیں : ایک مسلم دوسرے غیر مسلم۔ مذہب بھی دو ہی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے : ایک اسلام دوسرا غیر اسلام۔ دنیا میں جو بھی کام ہوں گے یاتو اچھے ہوں گے یا برے۔ ان کا کرنے والا مسلم ہوگا یا غیر مسلم۔ اخلاقی برائیاں تقریبا ہر دین دھرم اور ہر سماج و معاشرہ میں بری ہی سمجھی جاتی ہیں۔ زنا، چوری، ڈاکہ زنی، دوسروں کی عزت سے کھلواڑ، ظلم و زیادتی، ناانصافی اور گندگی وغیرہ اس طرح کی تمام کی تمام گری حرکتیں تقریبا ہر ایک کے نزدیک بری سمجھی جاتی ہیں۔ انکا کرنے والا خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔

جرائم اور گناہوں پر اسی وقت قابو پایا جا سکتا ہے جب ان گناہوں کو گناہ بہر صورت تسلیم کر لیا جائے۔ کرنے والا امیر ہو یا غریب، سیاسی شخص ہو یا غیر سیاسی، مسلم ہو یا غیر مسلم، حاکم ہو یا محکوم۔ گناہ کو گناہ سمجھ کر مجرم کی گرفت قانون کے مطابق کی جائے۔ عدل و انصاف کا نفاذ کم از کم جرائم کے معاملے میں ایمانداری کے ساتھ کیا جائے۔ تبھی جرائم کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

اگر جرائم پر روک ٹوک اور کاروائی چہرہ دیکھ کر کیا جائےگا یا مجرم کا مذھب دیکھ کر کیا جائےگا تو اس کا نقصان پورے بھارت کو اٹھانا پڑےگا۔ جب حاکموں سے عدل و انصاف مفقود ہوجائےگا تو اس کے برے اثرات کی جراثیم بھی بہت دور تک جائےگی۔ نفع اور نقصان کی سرحدیں نہیں ہوتیں۔ معمولی اچھائی یا برائی کے اثرات پوری دنیا میں پھیلتے ہیں۔ کچھ دشمن جرائم کو بھی مذھب کی عینک سے دیکھنے لگے ہیں۔ اگر مجرم ہندو ہوتا ہے تو اس کے جرائم کو چھپایا جاتا ہے اور مجرم جھوٹ یا سچ میں اگر مسلم نکل گیا تو ہر رائی کو پہاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ویسے برائی کے باب میں مسلمان اپنے لیےاگر ہر رائی کو پہاڑ ہی سمجھ لے تبھی ممکن ہے کہ اس سے بچا جا سکے۔ اسلام میں ہر برائی گناہ ہے۔ ہر غلط چیز غلط ہے۔ مسلمانوں کو ہر طرح کی برائی سے کوسوں دور رہنا چاہیئے۔ اس لئے بھی کہ دشمن موقع کی تلاش میں ہے کہ ایک مسلمان کا معمولی غیر اخلاقی حرکت بھی اسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ نہ بنا دیا جائے۔ معمولی معمولی چیز کو اسلام سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ اس وقت کا نیا فتنہ شروع ہوگیا ہے۔ اس فتنے سے بچنے کے لئے مسلمانوں کے ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ معمولی معمولی غیر اخلاقی حرکتوں سے بھی کوسوں دور رہے۔ دشمنوں کےذریعہ معمولی جرم کو بھی پہاڑ بنا کر پیش کئے جانے کے رویے کو مسلمان اپنے حق میں بہتر اور مثبت سمجھیں اور معمولی بھی برائی سے دور رہتے ہوئے مسلمان اپنے حق میں اس پیغام کو عام کریں کہ واقعتا مسلمان گناہوں، جرائم اور ہر طرح کی برائیوں سے کوسوں دور رہتا ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close