مضامین و مقالات

بابری مسجد۔ حکومت اور عدلیہ کے ظلم اور انصاف میں کیا فرق رہ گیا!ابو عمار محمد عبدالحلیم اطہرسہروردی

با بری مسجد۔ حکومت اور عدلیہ کے ظلم اور انصاف میں کیا فرق رہ گیا
ابو عمار محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی، صحافی و ادیب،روزنامہ کے بی این ٹائمز،گلبرگہ

تاریخ گواہ ہیکہ جب کبھی روئے زمین پر انسانوں نے ظلم کیا ہے ناانصافیاں کی ہین ،فساد برپا کیا ہے قدرت نے ان انسانوں کو عبرتناک سزائیں بھی دی ہیں ،چاہے وہ فرعون ہو ابو لہب وابو جہل ہو ،دنیا میں ہی خدانے انہیں نہ صرف ذلیل کیا بلکہ عبرتناک موت بھی دی اور صبح قیامت تک یہ ملعو ن قراردئیے گئے جن پر لعنت برستی رہے گی جہاں تک اسلام اور مسلمانوں کا تعلق ہے طلوع اسلام سے ہی اس کے خلاف سازشیں اور ظلم ہوتے رہے ہیں، ہر زمانے میں دشمنان اسلام اپنی بساط بھر کو شش کرتے رہے ہیں جب اللہ رب العزت نے دین حق کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو مخالف طاقتیں بھی کھل کر سامنے آگئیں پہلے تو رعب و دبدبہ کے ذریعہ کوشش کی گئی پھر بائیکاٹ کا سہار ا لیا جب ان ہتکھنڈوں سے بھی بات نہ بن سکی تو جنگوں کا خونی دور شروع کیا لیکن اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺکی امت کو ہر قدم پر سر خرو فرمایا جس قدر مخالف طاقتیں ناکام ہوتی گئیں اسلام اس سے زیادہ تیزی سے پھیلتا گیا اور یہ ناکام طاقتیں موقع کی تاک میں رہنے لگیں اور جب بھی موقع ملتا یہ شرپسند اسلام دشمن طاقتیں نقصان پہنچانے سے پیچھے نہیں ہٹتی اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی و نصرانیوں نے اپنی عیاری و مکاری اور ساری طاقت اسلام دشمنی میں لگادی آج دنیا بھر میں ان کے ساز شی شرپسند اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرم ہیں ان ہی یہودیوں اور نصرانیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمارے ملک ہندوستان میں اکثریتی قرقہ کی اکثریت مختلف تاویلات اور نظریات کے سہارے اسلام اور مسلمانوں کی دشمن بنی ہوئی ہے یہ دراصل ان ہی یہودیوں اور نصرانیوں کے پیروکار ہیں جو ملک میں اسلام اور مسلم دشمنی کی فضاء قائم کرنا چاہتے ہیں تاریخ جاننے والوں کو پتا ہے پانچ سوسال قبل جب شہنشاہ بابر کے حکم پر میر باقی نے ایودھیا کی سر زمین پر قدم رکھا تھا تو وہاں کچھ نہیں تھا بالکل ویران علاقہ تھا پہلے پہل تو میرباقی نے یہاں جنگوں میں مرنے والوں کیلئے قبرستان بنایا پھر ایک مسجد تعمیر کروائی نہ مسجد تعمیر کرواتے وقت اورنہ اس کے بعد400؍سال تک کہیں سے کسی نے یہ آواز نہیں اٹھائی کہ یہ ویرانہ رام کی جائے پیدائش ہے اس لئے کہ جو تاریخ رام سے متعلق بتائی گئی ہے وہ ایک راجکمار تھے اور راجہ دشرتھ کی اولاد تھے تو ایک راجہ کا بیٹا ویرانے میں کیوں پیدا ہونے لگا کیونکہ ایودھیا میں تو کسی راجہ کا محل نہیں تھا اور مندر بھی نہیں تو رام کہا ں پیدا ہوئے چند پنڈتوں کا تو یہاں تک کہنا ہیکہ جس ایودھیا میںتنازعہ چل رہا ہے وہ رام کا ایودھیا نہیں ہے دوسری بات راون جو ایک کٹر برہمن اور رام کا دشمن تھا وہ لنکا میں رہتا تھا جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو آج کے سری لنکا جو راون کے لنکا کے طورپر پیش کیا جا تارہا ہے میں اور ایودھیا میں کافی طویل فاصلہ ہے تو جب رام اور راون کی جنگ ہوئی تو ایودھیا سے لنکا کے درمیان کے علاقوں میں کیا ہوا اس تعلق سے تاریخ خاموش ہے۔ رام اور راون کے دور سے متعلق بھی تاریخ میں کوئی وضاحت نہیں ہے اور ان کے ہم عصروں کا بھی کہیں ذکر نہیںملتا ہے۔1857؍کے غدر کے بعد جب انگریزوں نے ہندوستان پر اپنا قبضہ جمانا شروع کیا تو چونکہ اس کو اس سرزمین پر قدم جمانے میں جو مشکلات پیش آئیں وہ مسلمان بادشاہوں کی وجہہ سے ہی آئیں تھیں اور مسلمانوں نے ہی غلامی کیخلاف سارے ملک کو بیدار کیا تھا تو اسی مکاروعیار قوم نے مسلم دشمنی کے نئے نئے باب کھول کر مسلمانوں سے دشمنی نبھائی اور نئے نئے فتنہ پیدا کرکے ہندوستان کی دوسری قوموں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کردیا اسی مکاروعیار قوم نے 100؍سال تک متحدہ ہندوستان میں لوٹ مچانے کے بعد جاتے جاتے تقسیم کی وہ قیامت بر پا کی جس میں بھڑکی نفرت کی آگ آج تک نہ بجھ سکی ان ہی یہودیوں و نصرانیوں کی نظریاتی اولاد نے سیاست کے سہارے غلامی سے نجات پانے کے نصف صدی بعد تک بھی چند ایسے مسائل کو جان بوجھ کر زندہ رکھا تھا کہ وقت آنے پر اپنے مفادا اور اقتدار کیلئے سیاست کی جاسکے ایسے کئی مسئلہ ملک میں موجود ہیں اوربابری مسجد معاملے کے بعدان لوگوں نے ان تمام مسائل کو دوبارہ گرم کرنے کے اشارے بھی دئیے ہیںبلکہ کھلے عام اعلان کردیا ہے کہ اب ان مسائل پر خاص توجہہ دیں گے19؍ویں صدی میں ہی بابری مسجدتنازعہ کو گرم کیا گیا اور دعوی کیا گیا کہ بابری مسجد احاطہ میں واقع چبوترہ رام کی جائے پیدائش ہے اور یہ طئے پایا کہ مسلمان بابری مسجد کے اندر اور ہندو مسجد احاطے کے رام چبوترے پر عبادت کریںگے یہ سلسلہ1949؍تک چلتا رہا1949؍ میں کانگریس کی حکومت میں چوری چھپے مسجد کے ممبر پر رام کی مورتی رکھ دی گئی1980؍کی دہائی میں وی ایچ پی اور بی جے پی نے سیاسی تحریک رام جنم استھان شروع کی 1986میں جب راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے مسجد کا تالا کھلوا کر شیلا نیاس کروایا اور1992میں جب نرسمہارائو وزیر اعظم تھے بابری مسجد شہید کی گئی اور اکثریتی طبقہ اپنے ایک ایسے بھگوان کی جائے پیدائش پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیاجسے تاریخ سے کبھی ثابت نہیںکیا جاسکا۔یہ سب باتیں اپنی جگہ دوسری جانب ہر ملک میں انصاف کا ایک نظام قائم ہے عدالتیں ملک کے ہر باشندے کو انصاف فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہیں جس کسی قوم سے یا اس کے ماننے والے سے ناانصافی ہوتی ہے وہ عدالت کا دروا زہ کھٹکھٹا تا ہے عدالت یہ تمیز کئے بغیر کہ کس کا کیا مذہب ہے اورکس قوم سے ہے انصاف فراہم کرتی ہے ۔
آج سے 70؍سال پہلے ایودھیا مسئلہ پر دونوں فریقوں نے عدالت کا دروازکھٹکھٹا یا تھا اسکے باوجود28؍برس قبل اس مسجد کو شہید بھی کردیا گیا عدالت 60؍سالوں تک اس مقدمہ کی سماعت اور کاروائی کرتی رہی اورجب فیصلہ سنایا تو اہل بصیرت حیران رہ گئے کیونکہ عدالت کا یہ منفر د فیصلہ ثبو توںاور حقیقت کی بنا پر نہیں بلکہ عقیدت کی بنا پر کیا گیا عدالت کا یہ کہنا ہیکہ کیونکہ ایک اکثریتی فرقہ کی عقیدت اس سرزمین سے وابستہ ہے تو انکے حق سے انکار نہیں کیا جاسکتا کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ عدالتیں اب ثبوت اور حقیقت کی بنیاد پر نہیں عقیدت کی بنیاد پر فیصلے سنانے لگی ہیں اس کے باوجود مسلمان اپنے دعویٰ سے پیچھے نہیں ہٹے کیونکہ ایک مرتبہ جہاںمسجد قائم ہوجاتی ہے صبح قیامت تک وہ مسجد ہی رہتی ہے چاہے طاقت اور حکومت کے زور پر اس جگہ مورتیاں ہی کیوں نہ بٹھائی جائیں ایک نہ ایک دن باطل کو ختم ہی ہونا ہے اور حق ہی غالب آنے والا ہے جو فیصلہ آیا تھاوہ ہائیکورٹ کا تھا اس کے خلاف سپریم کو رٹ سے رجوع کیا گیا اور امید تھی کہ عدالت عظمی سے مسلمانوں کو انصاف ملے گالیکن 9نومبر 2019کو عدالت عظمی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا وہ ایک مرتبہ پھر اکثریتی طبقہ کے حق میں دیا جس سے گذشتہ 70سال کی کوششوں کو شدید دھچکہ لگا ہے۔بابری مسجد سے متعلق عدالت کا فیصلہ تکلیف دہ اور توقعات کے برعکس ثابت ہوا۔ حالانکہ عدالت عظمی نے فرقہ پرستوں کے اس پروپگنڈے کو رد کر دیاہے کہ مندر توڑ کر مسجد بنائی گئی تھی اور یہ داغ جو مسلمانوں کے دامن انصاف پر سنگھ پریوار کی طرف سے لگایا جاتا رہا ہے وہ دھل گیا،مسلم فریق کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون اور ان کی ٹیم نے بابری مسجد کا مقدمہ بڑی محنت و مشقت کے ساتھ ثبوتوں اور دلیلوں کی بنیاد پر لڑا اور ہندو فریق سپریم کورٹ میں ان کے سامنے چاروں شانے چت ہوگیا تھا اس لئے امید یہ کی جارہی تھی کہ فیصلہ بابری مسجد کی تعمیر کے حق میں ہی انشاء اللہ آئے گا۔ لیکن ملک کی سب سے بڑی عدلیہ سپریم کورٹ نے ہندو اکثریت کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ثبوتوں اور دلیلوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا فیصلہ آستھا کی بنیاد پر سنا دیا۔حالانکہ سپریم کورٹ نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ بابری مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی، 1949ء تک اس میں پنچ وقتہ نماز برابر ہوتی رہی ہے، مسجد کے ممبر پر غیر قانونی طور رام کی مورتی رکھی گئی اور مسجد کو شہید کرکے مندر بنایا جانا بھی غلط تھا۔ سپریم کورٹ کا ان سب باتوں کا اقرار کرنے کے باوجود رام مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ دینا انصاف کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود ہم امن اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہوئے اس فیصلے کو قبول کرتے ہیں لیکن ہم اس کو انصاف کا نام نہیں دے سکتے ہیں۔مگر ایک ڈر بھی ہے کہ کل کو اگر میجوریٹی چاہے کہ رام مندر تو بن چکا، اب ہمیں رام راجیہ بھی چاہئے کیونکہ وہ بھی ہمارے اعتقاد کا حصہ ہے تو کیا یہی عدالت پھر مذہبی جذبات کی بنیاد پر فیصلہ سنائے گی اور ایک بار پھر میجوریٹی کے اعتقاد کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی؟یہ فیصلہ بہت ہی تکلیف دہ ہے، لیکن اس وقت پاس صبر جمیل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اس ہمالیائی ناانصافی کے سامنے موجودہ حالات میں مسلمانان ہند کے لئے اسے صبر اور خاموشی سے سہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ پر امن احتجاج کا حق بھی ہم سے چھین لیا گیا ہے اور یہ بھی اعلان ہو گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی قابل اعتراض مواد ڈالتا ہے تو اسے جیل جانا ہو گا بلکہ نیشنل سیکیوریٹی ایکٹ کے تحت اس کی گرفتاری ہو گی جس میں دو سال تک ضمانت نہیں ہوتی۔ اس وقت بہترین مشورہ یہی ہے کہ مسلمانان ہند صبر کریں اور اللہ پاک سے دعا کریں کہ حالات بدلے اور سب کو حکمت اور صبر سے نوازیں۔
اس پورے فیصلے میں ہمارے نزدیک ۵ایکڑ زمین بہت اہم ہے۔اگر بابری مسجد واقعی کسی مندر کی بنیادوں پر بنائی گئی تھی تو بس انہیں اس سے محروم کر دینا کافی تھا۔اور اتنا ہی انصاف کا تقاضہ تھا۔مسلمان اب بھی کچھ نہیں کر رہے ہیں تب بھی کچھ نہ کرتے ۔پھر یہ۵ایکڑ زمین کیوں؟ہمیں لگتا ہے کہ یہ منصفین کی مجرم ضمیری کا شاخسانہ ہے۔انھوں نے پانچ ایکڑ زمین کی لوری سنا کر اپنے ضمیر کو سلانے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف یہ لالی پاپ دے کر مسلمانوں کو بہلانے کی کوشش ہے۔مسجد کے بارے میں آنے والا سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کے لئے باعث تعجب تھا، سوائے سنگھ پریوار کے۔موجودہ فیصلے نے صرف مسلمانوں کو ہی محروم نہیں کیا ہے، بلکہ رام جنم بھومی کے اصلی ہندو مدعی یعنی نرموہی اکھاڑے کو بھی درکنار کر دیا ہے۔ اس کے بجائے وی ایچ پی؍آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم رام جنم بھومی نیاس کو،جسے سنگھ پریوار نے جنوری 1993 میں کھڑا کیا تھا، بابری مسجد کی ساری 2.77ایکڑ زمین دے دی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ انعام انہیں کودے دیا گیا ہے جنہوں نے دسمبر 1992 میں بابری مسجد کو ڈھایا تھا۔بعض ناعاقبت اندیش مسلمان کی طرف سے یہ بات کہی جاتی رہی کہ پہلے ہی اس مسئلے پر صلح کرلینی چاہئے تھی اور مقدمے کو یہاں تک نہیں لانا چاہئے تھا لیکن ایسا سوچنا قطعاً درست نہیں ہے کیوں کہ اگر مسلمان صلح کر کے مسجد کو مندر کے لئے دے دیتے تو وہ عند اللہ جوابدہ ہوتے اب ہم کہ سکتے ہیں کہ بحیثیت مسلمان ہم مسجد کو بچانے کی جو کوشش کر سکتے تھے ہم نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اگر ہم صلح کرکے مسجد کی زمین مندر کے لئے دے دیتے تو یہ اصولی طور پر بڑے نقصان کی بات ہوتی،ہم اللہ کے پاس بھی پکڑے جاتے اورآئندہ کسی بھی مسجد پر ہمارا اصرار قبول نہیں کیا جاتا اور کہا جاتا کہ جب آپ نے ایک مسجد دے دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے مذہب میںمسجد کو مندر کے لئے دینے کی گنجائش ہے،یہ صرف ایک مسجد کی لڑائی نہیں تھی، یہ مسلمانوں کے لیگل رائٹس کی لڑائی تھی، اپنے حق کی لڑائی تھی، اور حق کی لڑائی لڑی جاتی ہے، اس سے دستبردار نہیں ہوا جاتا، دستبرداری بزدل قوم کا شیوہ ہے، بہادر قومیں آخر وقت تک جنگ میں ڈٹی رہتی ہیں، ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے, کم سے کم دنیا کے سامنے آنا بھی تو ضروری تھا کہ ہم ڈٹے رہے، ہم لڑتے رہے, ہم نے پوری کوشش کی، مگر جب انصاف ہی اندھا ہوجائے تو ہم کیا کرسکتے ہیں، ہم سے چھین کر لیا گیا ہے، ہم مجبور ہیں، ہم راضی نہیں تھے، ہمیں رشوت بھی دی گئی، مگر ہم نے ٹھکرا دیا کیونکہ ہم بکنے والے لوگوں میں سے نہیں ہیں، نہ ہی پانچ ایکٹر زمین کی ہمیں چاہ ہے، یہ لڑائی صرف بابری مسجد کی نہیں تھی، یہ لڑائی ہندوستان میں ان کئی مساجد کی تھی جس پر شرپسندوں کی نگاہ گڑی ہوئی ہے، ہم ایک مسجد ہار گئے، تو شاید ہمیں اس ہار سے سیکھ ملے، اور آگے کے لئے نئی اسٹریٹجی تیار ہو۔ رام مندر کے حق میں فیصلہ آنا کوئی معمولی بات نہیں، یہ مستقبل کی ایک ایسی شروعات ہے جس کا ڈر بہت پہلے سے ستائے جارہا ہے، ہندو میجوریٹیرین کا جو پہلے خطرہ تھا وہ اب سچ ہوچکا ہے، پولیٹیشینز ہیرو بن چکے ہیں، بھکتی عروج پر پہلے ہی تھی، حالیہ کچھ فیصلوں نے متششدد ہندؤوں کے دلوں میں ہندو راشٹر کے قیام کی ایک امید جگا دی ہے، آنے والے دن ہندوستانی مسلمانوں پر نہایت سخت ہوسکتے ہیں، ان کے سامنے این.آر.سی کا عفریت ویسے ہی منہ پھاڑے کھڑے ہے، انہیں اب یقین ہونے لگا ہوگا کہ اس پورے ہندوستان میں ان کی کوئی سنوائی نہیں ہونے والی، اور ہندوستان ہی کیا پوری دنیا میں ان کی کوئی سنوائی نہیں ہونے والی، جب ایک اسٹیٹ کو مکمل کئی دنوں سے لاک ڈاؤن کرکے رکھا جاسکتاہے اور دنیا کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگ رہی تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں کیا ہوسکتا ہے۔
کیا کیا جائے کہ جب حکومت بہت زیادہ پاورفل ہو تو عدلیہ کمزور ہوجاتی ہے، کچھ یہی صورتحال اب ہندوستان میں دکھائی دے رہی ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کوشش اور اس نے جس مستعدی،حکمت عملی اور مہارت کے ساتھ مقدمے کی پیروی کی وہ بے حد قابل تحسین ہے،بورڈ نے دلائل وشواہد کی روشنی میں کورٹ کے سامنے یہ بات واضح کر دی تھی کہ بابری مسجدکسی مندر کو منہدم کرکے نہیں بنائی گئی ،بابری مسجد کیس کی مضبوط اور موثر پیروی کی گئی اور بورڈ کے وکلاء نے دلائل وشواہد کی روشنی میں کورٹ کے سامنے یہ بات واضح کر دی کہ بابری مسجدکسی مندر کو منہدم کرکے نہیں بنائی گئی تھی، اوراس مسجد میں نما ز باجماعت ہوتی رہی تھی۔ جس رات مسجد میں مو رتی رکھی گئی اس رات بھی عشاء کی نماز اداکی گئی۔ خودحکومت نے بھی جو دعویٰ دائر کیا اس میں اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا،کورٹ نے خود ملکیت کے مقدمہ میں یہ تسلیم کیا تھا کہ فیصلہ کی بنیاد آستھا نہیں بنے گی اور نہ ہی آثار قدیمہ کی رپورٹ، لیکن اس کے برعکس دونوں ہی بنیادوں کوکورٹ نے اپنے فیصلہ میں تسلیم کرلیا۔ اس کے باوجود بابری مسجد کی زمین مندر کے لئے دے دی گئی جس پرہمیں بے حد تکلیف ہے، اب بورڈ اس فیصلہ کاتفصیلی جائزہ لے لینے کے بعد نظرثانی کی درخواست داخل کرنے کے بارے میں غورکرسکتا ہے یا اگلے قدم کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا۔اور اپیل کی کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی ہدایات کاانتظار کریںاوربور ڈ کی طرف سے جو بھی ہدایات دی جائیں اس پر عمل کریں۔ہم ہندوستانی مسلمان اس وقت اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہے ہیں، اور یہ لڑائی ہمیں نہایت ٹھنڈے دماغ سے لڑنی ہونی گی، اور ایک لائحہ عمل کے ساتھ لڑنی ہوگی، اس ملک کے حالات نہایت تیزی سے بدلتے جارہے ہیں، اور بازی ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جارہی ہے، اس لئے جو ابھی ہے، اس کو سنبھال کر رکھنا، اور اس کی حفاظت کے لئے اپنے اندر اور اپنی آنے الی جنریشن کے اندر مزاحمت کی مشعل جلائے رکھنا بھی ضروری ہے، پھر چاہے مسجد کے لئے ہو یا مکمل مذہب کے لئے۔ہم سب صبر و تحمل کے ساتھ تمام دستیاب تدابیر اختیارکرتے ہوئے انصا ف اور حق کیلئے جدوجہد جاری رکھیںگے، انشاء اللہ ہمارا اتحاد اور متحدہ کوششیں ضرور کامیاب ہونگی ۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close