مضامین و مقالات

وہ میر باقی کی تھی جو مسجد جو عہد بابر کی تھی نشانی ! محمد سعد انصاری 

وہ میر باقی کی تھی جو مسجد جو عہد بابر کی تھی نشانی ! محمد سعد انصاری

اللہ کا گھر گرا کے ظالم یہ کیسا مند بنا رہے ہیں

دوستو کئ دنوں سے سوچ رہا تھا کہ بھارتی مسلمانوں کے لئے کچھ لکھوں اپنا پیغام آپ تک پہنچا دوں بڑے درد دل سے یہ پیغام آپ تک پہنچا رہا ہوں خدارا اس کو مکمل پڑھیں اور آگے شیئر کریں اگر آپ پڑھ بھی نہ سکے تو برائے مہربانی خدا کے واسطے اس پیغام کو ہر مسلمان تک پہنچا دو _______________اگر کوئ بھائ اس تحریر کو ہندی میں لکھ کر آگے شیئر کرے تو میری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو حج کی دولت سے مالامال فرمائے*

🔶 بابری مسجد ہمارے ہاتھوں سے نکل چکی ہے اب سوائے کف افسوس کے بھارتی مسلمان کے پاس کوئ چیز باقی نہیں رہ گئی یا صرف یہ بات یاد رکھنے کے 500 سالوں تک ایودھیا میں بابری مسجد اپنی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہوئ ہوئ تھی جس کو ہندو دہشت گردوں ہندو آتنکوادیوں نے شہید کر دیا تھا لیکن اس وقت بھی مسلمانوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑو تھا اور اپنے حق کو پانے کے لئے قانونی لڑائ لڑی سینکڑوں سالوں سے چل رہی اس لڑائ میں آخر دلائل اور ثبوتوں کو آستھا اور بد امن و دہشت گرد لوگوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے

*لیکن کچھ باتیں جو وہ ہیں جن کو اگر آج بھی ہماری قیادت نہ سمجھ سکی اور بھارتی مسلمان کو صحیح راستے ہر نہ لے کر آئ تو بہت برے دن بھارتی مسلمانوں پر آنے والے ہیں*

🔵 سب سے پہلی بات یہ کہ مسجد کے پکے اور طاقتور ثبوت ہونے کے باوجود کورٹ نے فیصلہ دہشت گردوں کے حق میں کیوں دے دیا؟

1⃣ نمبر ایک تو میں سب سے بڑی بات یہ مانتا ہوں کہ فیصلہ آنے سے پہلے ہماری قیادت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ *فیصلہ جو بھی آئے مسلمان اس کو ہر حال میں قبول کرے گا بھلے ہی اس کے خلاف کیوں نہ ہو اور مسلمانوں کو چاہئے کہ امن بنائے رکھیں*
اس اعلان کے چند بڑے نقصانات ہوئے
نمبر ایک تو یہ کہ شانتی اور بھائ چارے کا اعلان صرف مسلمانوں کی طرف سے کیا گیا جس کا بہت بڑا اثر ججس کی بینچ پر بھی پڑا ججس سمجھ گئے کہ اگر فیصلہ مسلمانوں کے خلاف بھی دے دیا گیا تو وہ قبول کر لینگے اور ان کی قیادت ان کو کسی بھی غلط قدم اٹھانے سے باز رہنے کا حکم دے گی جبکہ ہندوؤں کی قیادت کی طرف سے اس طرح کا کوئ بیان نہیں آیا کہ فیصلہ اگر رام مندر کے خلاف بھی آئے تو ہم مان لینگے کسی ایک دو فرد نے صرف منفی طور پر اس طرح کی بات کی اور وہ بھی صرف پروپیگنڈے اور حکمت عملی کے تحت جبکہ ہندوؤں کی طرف سے روی روی شنکر یہ اعلان کر چکے تھے کہ اگر فیصلہ رام مندر کے حق میں نہ آیا تو بھارت دوسرا سیریا بن جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اب ایک طرف اس قدر کٹر اور مضبوط عظم اور ارادے کہ پورے ملک کو سیریا بنا دیا جائے گا جبکہ دوسری طرف اتنے کمزور اور پست و ناکارہ عظم کہ فیصلہ ہر حال میں قبول کر لیا جائے گا*

"`میں مانتا ہوں کہ فیصلہ ہمارے حق میں نہ آنے کی یہ ایک اہم اور خاص وجہ ہے"`

2⃣ نمبر دو پر یہ بات کہ مسلمان ہر حال میں امن قائم رکھیں امن کے دامن کو نہ چھوڑیں

میرا ماننا یہ ہے کہ امن اور شانتی کی اپیل کرنے والے مسلم رہنماؤں نے اپنی بات کو پوری وضاحت کے ساتھ پیش نہیں کیا جس کا الٹا اثر پڑا

"`جن جن علماء نے امن سے رہنے کی اپیل کی شائد ان کو یقین تھا کہ فیصلہ مسجد کے حق میں آنے والا ہے اس لئے مسلمان جشن منا سکتے ہیں پھر دنگا بھڑک سکتا ہے اس لئے مسلمانوں کو پہلے ہی شانتی سے رہنے کے لئے کہا جائے لیکن یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ عوام کے سامنے نہیں آئ کہ ہمیں امن سے رہنے کے لئے کیوں کہا جا رہا ہے "`

اب ایک بات اور یہاں پر جو دیکھی گئی وہ یہ مسلم قوم اپنی قیادت کے اشاروں پر چلنے والی ہے اور جب قیادت نے اعلان کر دیا تھا کہ مسلمان کسی بھی طرح کی مزاحمت نہ کریں تو مسلم قوم بجائے اس کے کہ ان کے دلوں کے اندر بڑی بے چینی ہے ان کے دلوں کے اندر کڑھن موجود ہے لیکن یہاں سوال کھڑا یہ ہوتا ہے کہ *کیا امن امن اور شانتی اور بھائ چارے کا ٹھیکہ صرف مسلم قوم نے ہی اٹھا رکھا ہے جس کو موب لنچنگ کے ذریعے قتل کیا جا رہا جن کے ہزاروں گھروں کو جلا دیا گیا کیا بھائ چارے اور امن و شانتی کا ٹھیکہ صرف مسلمانوں پر فرض کر دیا گیا ہے؟*

*❓امن اور شانتی کی اپیلوں سے کیا حاصل کر لیا ❓*

یہ بات روز و روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب سے یہ ملک آزاد ہوا ہے تب سے بھارتی مسلمان بھائ چارے اور امن و شانتی کی باتیں کرتا ہوا چلا آ رہا ہے مختلف تنظیموں کے مختلف رہنماؤں کو ساتھ ملا کر ایکتا اور بھائ چارے کا پیغام دیا گیا اور آج بھی دیا جا رہا ہے

جبکہ دوسری طرف

ایک ایسی ذہنیت بھی موجود ہے جو مسلمانوں کے خون کی پیاسی جو مسلمانوں کو انسان نہیں بلکہ خنزیر اور سور سے بھی بدتر سمجھتی ہے وہ ذہنیت جو مسلمانوں کے بچے بچے کو بے رحمی سے قتل کر دینا چاہتی ہے صرف یہی نہیں
گجرات کے اندر جو کچھ ہوا وہ تو آپ سب کو معلوم ہے کہ کس طرح ماں اور باپ کے سامنے معصوم بچیوں کی عزتوں کو تار تار کیا گیا کس طرح چھوٹے چھوٹے بچوں کی گردنوں کو کاٹ دیا گیا اس کے بعد اس نام نہاد سیکیولر ملک میں بڑے بڑے فسادات ہوئے جن کے اندر نقصان صرف مسلمانوں کا ہوا مظفر نگر کے اندر مسلمانوں کو آرا مشین میں کاٹا گیا لاکھوں ہندو ہتھیار لیکر مسلمانوں کی بستیوں پر حملہ آوار ہوے اور آج یہ حال ہو چکا ہے کہ ایک کے بعد ایک ماب لنچنگ کی خبر سامنے آ رہی کوئ خبر نمایاں ہو جاتی ہے لیکن پھر بھی مجرموں کے خلاف کوئ تشفی بخش کاروائ نہیں ہوتی آج اس ملک کا یہ حال ہو چکا ہے کہ ایک داڑھی ٹوپی والا انسان اگر گھر سے نکلتا ہے تو بڑا محطاط ہو کر نکلتا ہے وہ خود ایک اجنبی سا محسوس کرتا ہے اور یہی حقیقت بھی ہے کہ داڑھی ٹوپی والے کو دیکھ کر ہر ہندوں کو جلن ہوتی ہے
صرف یہی نہیں مسلمانوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے تو ہندوؤں نے بڑے بڑے ٹریننگ کیمپس چالو کر دئے ہیں جن میں تلواروں بندوقوں اور غیر ملکی ہتھیاروں کی کھلے عام ٹریننگ یہ کر دی جا رہی ہے کہ ہم اپنی ہندو بہنوں کی عزت بچانے کیلئے یہ کام کر رہے اب سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اج تک کس صوبے کے اندر اکٹھا ہو کر ہندوؤں کی بہنوں کی عزتوں کو لوٹا ہے بلکہ وہ تو ہندو بہن کو اپنی سگی بہن جیسی عزت دیتے ہیں بات صاف ہے کہ یہ ٹریننگ ہندو بینوں کی عزت بچانے کے لئے نہیں بلکہ مسلم ماؤں بہنوں کی عزتوں کو تار تار کرنے کے لئے دی جا رہی ہے اور ہم سب لوگ اپنی آنکھوں سے یہ چیزیں دیکھ رہے ہیں لیکن پھر بھی بے خبر ہیں

🔶 باجود ان سب نا انصافیوں کے باوجود ان سب ظلمتوں باوجود ہمارے بچوں کی گردنیں کٹ جانے کے باوجود بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی ہو جانے کے ہماری طرف سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ بھارتی مسلمان آج بھی دنیا میں بسنے والے مسلمانوں سے زیادہ امن اور سکون سے جی رہا ہے کیا آپ کو پتہ ہے اس بیان کا اثر کیا ہوتا ہے؟
کیا آپ بھی بھارتی مسلمان کا وہ حال دیکھنا چاہتے ہیں جو سیریا اور فلسطین کے اندر ہو رہا ہے تو دیکھ لیجیے نا کونسا ہمارے اوپر ان سے کم ظلم ہو رہا ہے کیا ہماری غیرت اس وقت جاگے گی جب ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری ماؤں بہنوں کو بے عزت کر دیا جائے گا ہائے افسوس ہماری غیرت تو اس وقت بھی نہیں جاگتی کیا کریں کہ قیادت کے امن اور شانتی کے فامولے نے مسلمانوں کو اس قدر بے غیرت بنا دیا کہ وہ اپنے حق کے چھن جانے کے بعد بھی شانتی ہی شانتی کرتا ہوا نظر آتا ہے میرا مطلب یہ نہیں اب مسلمان امن اور شانتی کو چھوڑ کر جنگ شروع کر دیں بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ امن اور شانتی ان لوگوں کے ساتھ رکھیں جو ہمیں اپنا بھائ سمجھتے ہیں یا پھر حق اور سچ کے ساتھ ہیں وہ لوگ جو ہمیں انسان نہیں بلکہ کتے اور سور سے بھی بدتر سمجھتے ہیں ان کے ساتھ بھائ چارے کا معاملہ کرکے ہمیں کوئ سکون نہیں مل سکتا ہاں ان کے ساتھ بھائ چارا اور امن کا معاملہ کرکے ہماری بستیاں تو ویران ہو سکتی ہیں ہماری بہنیں تو بے عزت ہو سکتی ہمارے بچے تو مارے جا سکتے ہیں ہماری گردنوں کو تو کاٹا جا سکتا ہے لیکن ان دہشت گردوں کے ساتھ شانتی کا معاملہ کرکے ہمیں سکون نہیں مل سکتا

*📢 ہماری قیادت صاف کہے📢*

ہماری قیادت کو چاہئے کہ وہ صاف اعلان کرے کہ جو لوگ ہمیں بھائ مانتے ہیں ہم ان کو سروں پر بیٹھائیں گے ان کی عزت و احترام کرینگے لیکن جو لوگ ہمیں خنزیر اور کتوں سے بھی بدتر سمجھتے ہیں اور ہماری عزتوں کو تار تار کرنا چاہتے ہیں ہم ان کی اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے کم از کم اگر اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتے تو اینٹ کا جواب اینٹ سے تو دینا ہوگا
ہمیں صاف اعلان کرنا چاہئے اور اس بات پر عمل پیرا ہونا چاہئے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور ہیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں وہ واجب القتل ہیں ہم وہ زبان جو پیارے آقا کی شان میں گستاخی کرے اس کو کاٹ دینا مسلمان پر فرض ہے
ہمیں چاہئے کہ اپنے اسلام کو مضبوطی اور کٹرتا سے پکڑ لیں بھارت کے اندر سیکولرزم کو دفنایا جا چکا ہے اگر آج بھی کوئ اس غلط فہمی میں جی رہا ہے کہ بھارت میں سیکولرزم موجود ہے وہ آنے والے دنوں۔میں پچھتائے گا جب دوسرے لوگ اپنے مذہب کی شناخت کو کھلے عام اور ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں تو ہمارے بڑا بےوقوف کون ہوگا جو اتنے سچے مذہب کو مانتے ہوئے بھی اپنے مذہب کو چھپاتا پھرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔷 مسلمانوں سے بڑا بے وقوف کون ہوگا 🔷

آج دشمنان اسلام مسلمانوں کے خلاف کھل کر میدان عمل میں اتر چکا ہے اور مسلمانوں کو دبانے کے لئے ان پر بڑے بڑے الزامات و بہتانات کی بارش کی ہوئ جبکہ ہم وہ بےوقوف لوگ ہیں کہ خود کو دشمن اسلام کی نظروں میں اچھا دکھانے کے لئے خود مذہب اسلام کو بدنام کر رہے ہیں اور بہت بڑے بیغیرت بن چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر کیا وجہ ہے کہ آج کوئ مسلمان کھڑا ہوکر یہ نہیں کہ سکتا کہ میں ایک مجاہد ہوں اگر کہا تو فورا اس کو گرفتار کر لیا جائے گا کیوں کیونکہ ہم نے خود جہاد کو بدنام کر دیا ہے ہم نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ جہاد لوگوں کو قتل کرنے کا نام ہے
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنا حق پانے کے لئے اور ظالم کے ظلم سے بچنے کے لئے جہاد اچھا کوئ بھی مصلحتی راستہ نہیں ہے لیکن کیا کریں کہ خود ہم نے ہی جہاد کو بدنام کر دیا اور خود جہاد کو ایک غلط اور بھدا کام تسلیم کر لیا ہم نے یہ فکر کی کہ کیسے دنیا والوں کو خوش کیا جائے جبکہ یہ نہیں سوچا کہ وہ اللہ جو قرآن مجید میں جہاد کا ذکر کر رہا ہے جس کو ہم مانتے ہیں ہمیں اسے خوش کرنا ہے یا پھر دنیا والوں کو ؟

🔵آخری بات یہی ہے کہ دنیا والوں کی نظروں میں اچھے بننے کے لئے مسلمانوں نے اپنی غیرت کو پس پشت ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو اپنے مذہب کو پیش کرنے میں ایسی باتیں پیش کی جو خود شک میں ڈال دینے والی ہیں اب ذلت ہمارا مقدر ٹھری

اگر ہم عزت چاہتے ہیں تو اپنے مذہب کو کھل کر بیان کرنا ہوگا اور برائ کے خلاف شانتی سے نہیں شدت اور سختی سے کام کرنا ہوگا

والسلام

📝امت کا غمخوار

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close