مضامین و مقالات

مولانا سید سلمان ندوی اور بابری مسجد! محمّد طارق زماں

” مولانا سید سلمان ندوی اور بابری مسجد ”

محمّد طارق زماں ،  جبیل ، سعودی عرب

میں مولانا سلمان ندوی کو اکثر یو ٹیوب پہ سنتا رہتا تھا تو کبھی پیس ٹی وی پہ ، انکی کتابیں بھی کبھی کبھی نظروں سے گزریں ہیں -زندگی میں ایک بار رو برو انھیں سنے کا موقع بھی ملا ہے , اور انھیں بڑے ہی قریب سے سمجھنے کی کوشش بھی کی ہے –

اس میں کوئی شبہ نہیں کے کہ مولانا بہت ہی قابل شخصیت ہیں ,انھیں بہت سارے علم پہ عبور حاصل ہے اور انکے دل میں اپنی قوم کے لئے تڑپ بھی ہے – مگر جب ہم انھیں دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ یہ ہر وقت سرخیوں میں بنے رہنا چاہتے ہیں ، اگر صاف زبان میں میں کہوں تو نام و نمود کا بڑا چکر ہے اور کسی بات کی گہرائی میں جائے بغیر جذباتی پرواز پہ نکل پڑتے ہیں – یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے بغدادی کو خط لکھا تھا – جسے دنیا ابھی طے بھی نہیں کر پائ تھی کہ بغدادی اسرئیل کی خفیہ تنظیم موساد کا آدمی ہے یا واقعی مسلمان ہے –

اپنی حرکتوں سے اسی شخص نے سعودی عرب میں کئی ندویوں کی نوکری کھائی تھی – اور یہ وہی شخص بھی ہے جس نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے خلاف آواز بلند کی تھی – حتیٰ کے جو مسلم پرسنل لاء کے سپیکر تھے انکے خلاف میڈیا میں آ کر ایسی بیان بازی شروع کی کہ ان کے خلاف تھانہ میں کیس درج ہو گیا – انکی ایسی کی تیسی کرنے کی جیسے قسم کھا لی تھی مولانا نے – میری آنکھوں نے پہلی بار انکا دیوانہ پن دیکھا تھا – میں حیرت میں یہ سوچ رہا تھا – جسے لوگ اتنا قابل عالم سمجھتے ہیں – یہ بندا آخر کر کیا رہا ہے ،? یہ چاہتا کیا ہے -?

اور کبھی کبھی ایسی تقریر کرنی شروع کرتے ہیں جس سے خود قوم میں انتشار پیدا ہو جاتا ہے – ابھی حال میں ایک تقریر میں صحابہ کی شان میں , ان پہ , توہین کرنے کا الزام لگا ہے – یعنی کچھ نہ کچھ مولانا ایسا کرتے ہی ہیں جس سے کچھ ہنگامہ ہو ، وہ سرخیوں میں بنے رہیں –

ابھی ندوہ کا لے لیجیے تماشا کھڑا کیا ہوا ہے – وہ اپنی زبان سے بولیں نہ بولیں مگر انکا لہجہ بولتا ہے کہ موجودہ ناظم کے بعد انہیں وہ کرسی چاہیے -وہ حقیقت میں ندوہ کے کسی بھی عالم کو اپنے سامنے کچھ نہیں سمجھتے – آنا کے گھوڑے پہ سوار ہیں

انہوں نے بزرگ عالم دین اور جمیعت العلما ہند کے صدر جناب محمود مدنی کو خط لکھ کر کیا کیا نہیں کہا – یہ بھی جگ ظاہر ہے-

اویسی کو انہونے بے سر پیر کی کتنی باتیں کہیں ، فاروقی صاحب کو انہوں نے ہی الٹا سیدھا کہا – کیا کیا بتاوں جناب کے ترقیاتی کاموں کے بارے میں

اب دیکھئے بابری مسجد معاملے میں ان کا دخل – سارا مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک طرف اور وقت کے مسیحا اور دور اندیش مولانا سلمان ایک طرف – آج جو بھی فیصلہ آیا ہے یہ فیصلہ ان کے اور سری سری روی شنکر کے بیچ جو ایگریمنٹ ہوا تھا ،بس وہی ہے – یعنی کورٹ نے وہی فیصلہ دیا ہے جو سلمان ندوی اور سری سری روی شنکر میں طے ہوا تھا – یعنی مندر کے لئے مسجد شفٹ کی جا سکتی ہے اور اس کے بدلے میں کچھ زمین مسلمانوں کو بلکہ انھیں دے دی جائے – اور آج بھی مولانا. وہ زمین لینے کے لئے بے چین نظر آتے ہیں –

سنے میں آیا ہے کہ شاید مولانا نے اس زمین کے لئے یوگی سے ملاقات بھی کی ہے –

یہ حضرت مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بھی ختم کر دینا چاہتے ہیں – یہ ایک نئی تنظیم کھڑی کرنا چاہتے ہیں جو جوانوں کے ہاتھ میں ہو اور جوانوں کا ہاتھ حضرت کے ہاتھ میں- یہ شخص سارا کچھ اپنے قبضے میں رکھنا چاہتا ہے – زبان سے بھلے نہ کہیں مگر ایک عام آدمی بھی جب انہیں سنے گا پڑھے گا تو یہ اچھی طرح سے سمجھ جاےگا کہ مولانا کو کیا چاہیے ، مولانا کے دل دماغ میں کیا چل رہا ہے –

المختصر ! مولنا دانشمند تو کم ہیں فتنہ اور فساد کے بارود زیادہ ہیں – یہ قوم کو متحد کم منتشر زیادہ کرینگے – بچ میں فیس بک کے ذریعہ ایک نئی تنظیم بنانے کی کوشش بھی کی تھی مگر انکو ایسے ایسے کمنٹس ملے کہ دوکان جلد بند کرنی پڑی-

ایک عالم ہونے کی وجہ کر میں بھی عزت کرتا ہوں اور بھی لوگ کرتے ہیں مگر ایسا بھی تو نہ کریں کہ لوگ اس مقام کا بھی پاس لحاظ کرنا بھول جایں

مولنا کو چاہیے کہ دیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کے بجاے سب کے ساتھ مل کر اپنے عقل کا استمعال کریں – اپنے بزرگوں کا خیال کریں ( یہ بات بھی مجھ جیسے لوگوں کوبتانی پڑے گی ) اندرونی اختلاف کو مل جل کر حل کرنے کی کوشش کیا کریں – میڈیا میں نہ لایں ورنہ قوم اس سے اور بھی کمزور ہوگی –

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close