مضامین و مقالات

بابری مسجد کا پیغام بھارتی مسلمانوں کے نام! از : رفیع اللہ قاسمی

بابری مسجد کا پیغام بھارتی مسلمانوں کے نام

از : رفیع اللہ قاسمی

حالات ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ آج کا بچہ کل جوان اور کل کاجوان پرسوں بوڑھا ہو جائےگا۔ آج کا مغموم کل مسرور اور کل کا دکھی پرسوں سکھی ہوجائےگا۔ ایام بدلتے رہتے ہیں۔ آج جمعرات ہے کل جمعہ ہوجائےگا۔ تاریخیں بدلتی رہتی ہیں۔ آج 9/ نومبر ہے کل 10/ نومبر کا سورج طلوع ہوجائےگا۔ اب مجھے 9 / نومبر 2019 کی تاریخ ہمشیہ یاد رہےگی۔ یہ ادل بدل اللہ کا نظام ہے۔ کبھی میں(بابری مسجد) تمہارے قبضے میں تھی آج غیروں کے قبضوں میں ہوں۔ کبھی مجھ پر اللہ کی عبادت ہوتی تھی اب غیر اللہ کی عبادت ہوگی۔ آج تو میں مظلوم ہوں ہی لیکن اے مسلمانو! جب کبھی تمہارے قبضے میں تھی تب بھی میرے اوپر کچھ کم ظلم نہیں ہوا۔ روئے زمیں پر بسنے والے بہت ہی کم میری دیدار کے لیے آتے تھے۔ میں حقیقی سجدے سے محروم ہوگئی تھی۔ مجھے لوگوں نے تنہائی کا گھر بنا دیا تھا۔ راتوں کو اللہ کے حضور گڑگرڑانے والے لوگ ماضی میں ہوا کرتے تھے، اب میری چٹائی پر بیٹھ کر اللہ کے خوف سے رونے والا، اللہ سے مانگنے والا کوئی نہیں تھا۔ اگر کچھ لوگ تھے بھی تو وہ رسم کی ادائیگی کرتے رہے۔ رہ گئی رسم اذان روح بلالی نہ رہی۔اے مسلمانو! تم لوگ میری تمام بہنوں(دنیا کی تمام مساجد) پر بھی ظلم کر رہے ہو۔ میری محراب کے نیچے مصلے پر کھڑا ہونے والا کبھی بہت متقی اور پرہیزگار ہوتا تھا، مگر اب تمہیں وہی امام محبوب ہوتا ہے جو دو سے پانچ ہزار لے کر تمہاری رسم پوری کروادے۔ جس نماز کے پڑھنے کا حکم اللہ نے تمہیں قرآن مجید میں دیا تھا وہ نماز اب عنقا ہو گئی ہے۔ میں حقیقی سجدے سے محروم ہو گئی ہوں۔ میں تو علامہ اقبال کے اس مصرعے کو گنگنا کر آج کے نمازیوں کو جواب دیتی ہوں۔۔۔۔ تیرا دل تو ہے صنم آشنا تمہیں کیا ملےگا نماز میں۔ مگر تم بہرے ہو، تمہارا ذہن تو ادھر ادھر چکر لگاتا رہتا ہے۔ میری یہ گنگناہٹ بھی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے پاتی۔
اے مسلمانو!
تم نے تو یہ کوشش ضرور کی کہ کسی بھی طریقے سے ایک چھوٹی سی زمیں پر غیر اللہ کی پوجا نہ ہو لیکن بھارت کی اورتمام مساجد جو تقریبا ویران ہیں، مسجدیں نمازیوں سے خالی ہیں، فجر کی نماز میں چند بوڑھوں کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا؛ ان مساجد میں اللہ کی پوجا کس طرح ہو؟ اس کی فکر سے غافل رہے۔

میں(بابری مسجد) مسلمانوں کا شکر گزار ہوں جو تم نے مقدمہ کی کاروائی کا تمام تر قربانیوں کے ساتھ تیس سال تک سامنا کرتے رہے لیکن میں جو قدر نہیں کرتا اس کے پاس اب رہنا گوارا نہ کی۔ خیر! میں اللہ کے یہاں اس بات کی شہادت دے کر تمہاری مغفرت کی سفارش کروں گی کہ بھارتی مسلمانوں نے حتی المقدور یہ کوشش کی کہ اس زمین پر کسی بت کی پوجا نہ ہو؛ لیکن مجھے اندیشہ اس بات کا ہے کہ کہیں یہ برادران وطن میدان محشر میں تمہارے مقابل میں آکر یہ شہادت نہ دینے لگیں کہ اے مالک یوم الدین ان مسلمانوں نے ایک ٹکڑے زمیں کی فکر تو کی مگر ہم کروڑوں لوگوں کے دلوں میں بیٹھے بت کی کوئی فکر نہیں کی جہاں روزانہ غیر اللہ کی پوجا ہوتی تھی۔ ہماری آخرت کی کوئی فکر نہیں کی۔ روزانہ دنیاوی مقاصد کے لئے ایک دوسرے سے ملاقاتیں ہوتیں تھیں لیکن کسی نے ہمیں عذاب جہنم سے بچانے کی فکر نہیں کی۔ اور یہ اتنا سنگین جرم ہے کہ مجھے( بابری) اندیشہ ہے کہ کہیں اللہ تمہارے حق میں میری سفارش بھی اس جرم عظیم کی وجہ سے رد نہ کر دے۔
خیر! تم سے رخصت ہوتے ہوئے تمہیں ایک نصیحت کر جاتی ہوں کہ اب میری فکر نہ کرو بلکہ گھر کے سامنے بنی مسجد میں جانے کی فکر کرو۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close