مضامین و مقالات

مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کا اجمالی تعارف! انظر ربانی حنفی

مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کا اجمالی تعارف

مولانا ابوالکلام آزاد آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم اور قومی رہنما تھے مولانا موصوف رحمۃ اللہ علیہ سرزمین مکہ مکرمہ میں 11 نومبر 1888ء میں پیدا ہوئے اور الحمدللہ بہت ہی خوش قسمتی اور نیک بختی کی بات ہے کہ اسی مقام سے تعلق یافتہ ہیں جہاں سے ہمارے پیارے نبی آقا صلعم کا تعلق ہے
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا انکے والد بزرگوار محمد خیر الدین انہیں فیروز بخت جو انکا تاریخی نام تھا اسی سے موصوف مولانا کو پکارتے تھے اورمولانا کے والدہ ماجدہ کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا اور سلسلہ نسب جاکر شیخ جمال الدین افغانی سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے زمانے میں ہندوستان تشریف لائے تھے اور یہیں مستقل سکونت پزیر ہوگئے
1857 کے جنگ آزادی میں موصوف آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنی پڑی کئی سال عرب میں رہے مولانا رحمۃ اللہ علیہ کا بچپنہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا (دادا دادی اور نانا نانی) کے علاقے میں مولانا ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ابتائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد موصوف جامعہ ازہر کا رخ کیا اور الحمدللہ چودہ سال کی عمر قلیل اور معمولی عرصہ میں مشرقی علوم کا تمام نصاب مکمل کرلیا تھا مولانا موصوف کا ذہنی صلاحیتوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں (ماہوار جریدہ لسان الصدق )جاری کیا جسکی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی تعریف کی ہے اور 1914 ء چودہ میں الہلال نکالا یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری پوری اتر نے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ و بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا
مولانا موصوف رحمۃ اللہ علیہ بیک وقت عمدہ انشاء پرداز. سحر بیان خطیب. بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے اگر چہ مولانا سیاسی مسلک میں آل انڈیا کانگریس کے ہمنوا تھے لیکن انکے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا یہی وجہ تھی کہ تقسیم کے بعد جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وقار کو صدمہ پہونچنے کا اندیشہ ہوا تو مولانا آگے بڑھے اور انکے وقار کو ٹھیس اور صدمہ پہونچنے سے بچالیا اور اللہ تعالیٰ ساتھ دیا الحمدللہ اور موصوف رحمۃ اللہ علیہ کی بہت خدمات اور حسین کار نامہ ہیں جنکو بیان کرنا مشکل نہیں مشکل تر ہے مولانا رحمۃ اللہ علیہ خدمت خلق کرتے کرتے اور ہندوستان کی ترقی اور بھلا سوچتے سوچتے 22فروری 1958ء میں جانبحق اور اللہ کو پیارے ہوگئے اللہ تعالیٰ مرحوم موصوف کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین
راقم الحروف. انظر ربانی حنفی

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close