مضامین و مقالات

گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا!مولانا فیاض احمد صدیقی

گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا!
*تحریر ✒️مولانا فیاض احمد صدیقی انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :*
               *{کل نفس ذآئقة الموت}*
ایسا ذی روح کون ہے جسے موت نہیں آئے گی ؟
کون ہے جو موت کا مزہ چکھے بغیر دنیا میں باقی رہے گا ؟
کون ہے جو نوشتہ تقدیر کے علی الرغم اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو موت کے سایے سے دور کردے ؟
کسی ہوشمند سے یہ سوالات کئے جائیں تو بالیقیں اس کا جواب یہی ہوگا کہ ایسا کوئی نہیں جو موت سے بھاگ سکے ،انسان لاکھ جتن اور کوشش اور جدوجہد کرلے پھر بھی موت ایک نہ ایک دن ضرور بالضرور آدبوچے گی ۔
جب موت کا وقت آتاہے تو ایک ساعت پیھپے ہوتا ہے نہ ایک ساعت آگئے ۔خواہ کوئی دولت میں قارون ۔ظلم میں ضحاک ،خوبصورتی میں یوسفؑ ،صبر میں ایوب ؒ،لسانیت میں موسیٰ ؑ ،خاموشی میں زکریا ؑ،رضا جوئی میں ابراہیم ؑ ،حکومت میں سلیمان ؑ،صداقت میں ابوبکر صدیق ؓ،حیا داری میں عثمان ؓ،شجاعت میں علی ؓ،فصاحت و بلاغت میں سحبان ،حکمت میں لقمان ،دانش میں ارسطو ،سخاوت میں حاتم، شاعری میں فردوسی ،فلسفہ میں امام غزالی ؒ،
فقہ میں امام ابوحنیفہؒ ،نشانہ بازی میں بہرام گور،کسب حلال میں سلطان ناصرالدین ؒ،رتبہ شہادت میں امام حسین ؓ، تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطی ، شریعت میں منت اللہ بہاری ؒہی کیوں نہ ہو ہر ایک جاندار کو موت کا مزے چکھنا ہے انہيں مایہ ناز رفیع القدر نمونہ اسلاف فخر المحدثین ،ثانی علامہ انور شاہ کشمیری مصنف کتب کثیر استاد الاساتذہ بحر العلوم حضرت اقدس مولانا غلام نبی کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی تھی
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ ،کل ہماری باری ہے
9ربیع الاول 1441ھجری بروز جمعرات بوقت 6بجکر کچھ منٹ پر دھلی کے پنٹھ ہسپتال میں جوارِ رحمت چلے گئے :
اتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
سن کر یقین نہیں ہوا مسلسل اطلاع آتی رہی پھر بھی یقین نہیں ہوا یقین کرنے کیلے احقر نے اپنے قریبی دوست سے معلوم کیا تو انہوں نے تصدیق کی جی محترم انتقال ہوگیا ہے اسکے بعد ذہن یقین کرنے پر مجبور ہوا
اللہ رب العزت نے حضرت والا کو بے پناہ خصوصیات و امتیازات سے نوازا تھا ،
خوش اخلاق ،بہترین قلم کار، و خطیب ،علم مطالعہ ،سادگی ،حسن اخلاق ،حسن کردار ،ملنسار ی، تواضع ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ،انکساری انکی ذات کا حصہ ،سرشت کا جزء لاینفک تھیں ،یہی حضرت والا کی جامع اور مانع قابل احترام شخصیت تھیں ۔
حق تعالیٰ مولانا مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے،ان کی مخلصانہ دینی خدمات کا بہتر سے بہتر بدل عطاء فرمائے خصوصاً دارالعلوم وقف دیوبند کو ان کا نعمل البدل عطاءفرمائے اور ان کی کمی کو غیر معمولی غم والم کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ باری تعالی ان کو اعلیٰ علیین میں مقام کریم عطاء فرمائے اور حضرت والا کے اعزہ اقراء اور خاندان کو صبرجمیل عطاء فرمائیں ۔
شکریہ اے قبرتک پنہونچانے والوشکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
دعا کا طالب:
فیاض احمد صدیقی رحیمی انعام وہار سبھاپور دھلی این سی
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close