مضامین و مقالات

اک حرف وفا لکھا سو وہ بھی مٹ گیا! اشفاق احمد القاسمی

اک حرف وفا لکھا سو وہ بھی مٹ گیا

اشفاق احمد القاسمی

آتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
کل نفس ذآئقة الموت
ایسا ذی روح کون ہے جسے موت نہیں آئے گی ؟
کون ہے جو موت کا مزہ چکھے بغیر دنیا میی باقی رہے گا ؟
کون ہے جو نوشتہ تقدیر کے علی الرغم اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو موت کے سایے سے دور کردے ؟
کسی ہوشمند سے یہ سوالات کئے جائیں تو بالیقیں اس کا جواب یہی ہوگا کہ ایسا کوئی نہیں جو موت سے بھاگ سکے ،انسان لاکھ جتن اور کوشش اور جدوجہد کرلے پھر بھی موت ایک نہ ایک دن ضرور بالضرور آدبوچے گی ۔
جب موت کا وقت آتاہے تو ایک ساعت پیھپے ہوتا ہے نہ ایک ساعت آگئے ۔خواہ کوئی دولت میی قارون ۔ظلم میی ضحاک ،خوبصورتی میی یوسفؑ ،صبر میی ایوب ؒ،لسانیت میی موسیٰ ؑ ،خاموشی میی زکریا ؑ،رضا جوئی میی ابراہیم ؑ ،حکومت میں سلیمان ؑ،صداقت میں ابوبکر صدیق ؓ،حیا داری میں عثمان ؓ،شجاعت میی علی ؓ،فصاحت و بلاغت میی سحبان ،حکمت میں لقمان ،دانش میی ارسطو ،سخاوت میں حاتم، شاعری میں فردوسی ،فلسفہ میی امام غزالی ؒ،
فقہ میی امام ابوحنیفہؒ ،نشانہ بازی میی بہرام گور،کسب حلال میں سلطان ناصرالدین ؒ،رتبہ شہادت میں امام حسین ؓ، تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطی ، شریعت میی منت اللہ بہاری ؒہی کیوں نہ ہو ہر ایک جاندار کو موت کا مزے چکھنا ہے انہيں مایہ ناز رفیع القدر نمونہ اسلاف فخر المحدثین ،ثانی علامہ انور شاہ کشمیری مصنف کتب کثیر استاد الاساتذہ بحر العلوم حضرت اقدس مولانا غلام نبی کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی تھی
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ ،کل ہماری باری ہے
9ربیع الاول 1441ھجری بروز جمعرات بوقت 6بجکر 10منٹ پر دھلی کے پنٹھ ہسپتال میی جوارِ رحمت چلے گئے :
اتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
سن کر یقین نہیں ہوا مسلسل اطلاع آتی رہی پھر بھی یقین نہیں ہوا یقین کرنے کیلے احقر حضرت مولانا شمشاد صاحب رحمانی کو فون کیا حضرت نے تصدیق کی جی محترم انتقال ہوگیا ہے اسکے بعد ذہن یقین کرنے پر مجبور ہوا
اللہ رب العزت نے حضرت والا کو بے پناہ خصوصیات و امتیازات سے نوازا تھا ،
خوش اخلاق ،بہترین قلم کار، و خطیب ،علم مطالعہ ،سادگی ،حسن اخلاق ،حسن کردار ،ملنسار ی، تواضع ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ،انکساری انکی ذات کا حصہ ،سرشت کا جزء لاینفک تھیں ،یہی حضرت والا کی جامع اور مانع قابل احترام شخصیت تھیں ۔
حق تعالیٰ مولانا مرحوم کو جوار رحمت میی جگہ عطاء فرمائے ،ان کی مخلصانہ دینی خدمات کا بہتر سے بہتر بدل عطاء فرمائے ،خصوصاً دارالعلوم وقف دیوبند کو ان کا نعمل البدل عطاء فرمائے ،اور ان کی کمی کو غیر معمولی غم والم کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے دعا گو ہیی کہ باری تعالی ان کو اعلیٰ علیین میی مقام کریم عطاء فرمائے اور حضرت والا کے اعزہ اقراء اور خاندان کو صبرجمیل عطاء فرمائیں ۔
شکریہ اے قبرتک پنہونچانے والوشکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم

دعا کا طالب
اشفاق احمد القاسمی
خادم
معھد الکتاب والسنہ ضلع نوادہ بہار
9570671460
7667115435

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close