مضامین و مقالات

غیروں کی منظم سازش اوراپنوں کی بےحسی! مسلم لڑکیوں کا غیرمسلموں کے فریب میں آنا!دین اور دنیا کا خسارہ!ہدایت اللہ ندوی

غیروں کی منظم سازش اور اپنوں کی بےحسی !! مسلم لڑکیوں کا غیرمسلموں کے فریب میں آنا ! دین اور دنیا کا خسارہ !!!

کچھ خبریں انتہائی دلدوز اور جاں سوز ہوتی ہیں ۔سننے یا پڑھنے کے بعد کچھ لمحہ تک یقین کر پانا مشکل ہوتا ہے ۔ لیکن وہ حقیقت ہوتی ہیں انہیں جھٹلانا خود کو بے جا تسلی دینا اور اپنے آپ کو اندھیرے میں رکھنے کے مترادف ہے ۔ ایسی ہی ایک خبر مسلم لڑکیوں کا غیر مسلموں کے ساتھ عشق و معاشقہ اور پھر انکے ساتھ شادی کرنا ہے ۔
جذبات اور احساسات انسان کی کمزوری ہیں جو عقل کو ماؤف کردیتی ہیں ۔ صنف نازک ان معاملہ میں ہمیشہ سے بہت کمزور پائی گئی ہے ۔ اسکے جذبات ہمیشہ اسکی عقل پر حاوی رہے ہیں ۔ اسے بہکانا اور بہلانا قدرے آسان ہے ۔
ملک عزیز میں برادران وطن کی اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سےمنفی سوچ میں روز بروز اضافہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ جس تیزی سے نفرت کو پھیلایا جارہا ہے اور مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان پہونچانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی مسلم لڑکیوں کو اپنی جھوٹی محبت کی جال میں پھانسنا بھی ہے ۔ ایسی خبروں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں کوئی مسلم لڑکی کسی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ بھاگ کر شادی رچاتی ہے اور مجبوراً یا برضا اسے ہندو مذہب قبول کروایا جاتا ہے۔ ایسی بھی خبریں آئی ہیں کہ ایک مدت کے بعد پھر اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جا تا ہے ۔ ایسی صورت میں نہ وہ گھر کی رہتی ہے نہ گھاٹ کی ۔
شدت پسند تنظیموں کی طرف سے ایسے لڑکوں کو جو مسلم لڑکیوں کو اپنی جال میں پھانستے ہیں ان کی نہ صرف یہ کہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ باقاعدہ ان کی قانونی اور مالی مدد بھی کی جاتی ہے ۔ ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کی معصوم دوشیزائیں غیروں کے فریب کا شکار ہو کر مذہب اور ملت سے اپنا رشتہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیتی ہیں ۔
اس سے بڑھ کر تشویش کی چیز قوم کی بے حسی ہے ۔ مسلسل ایسے واقعات کے رونما ہونے کے باوجود اپنے دین اور ایمان اور عزت کی حفاظت کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل مرتب نہ کرنا ایک افسوسناک امر ہے ۔ اگر وقت رہتے اس کا سدباب نہیں کیا گیا تو آنے والے دنوں میں آنکڑے اور بھی بھیانک ہو سکتے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے آخر قوم کی معصومائیں اس طرح کی جال میں کیسی پھستی چلی جاتی ہیں ۔ اس کی وجہ جہاں ایک طرف صحیح اسلامی تربیت کا فقدان ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کا مغربی اور غیر اسلامی کلچر سے متاثر ہو کر اپنی معصماؤں شتر بے مہار چھوڑ دینا ہے ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لئے بشارت دی ہے جو اپنی بچیوں / بچی کی صحیح پرورش اور نگہداشت کرتا ہے اور اسے صالح تربیت دیتا ہے۔
اس طرح کے ناخوشگوار واقعات سے بچنے کیلئے جہاں انہیں صحیح اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا جانا ضروری ہے وہیں موجودہ پر فتن دور کے فتنہ انگیز اوزار اور اسباب سے انہیں دور رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔
ایک خیرخواہ کا کہنا ہے کہ “اول تو لڑکیوں کوموبائل فون نہ دیاجائے ،اور اگر واقعی والدین کو لگتاہے کہ ہماری بچی کے پاس فون کاہونا ضروری ہے تو سادہ ہینڈ سیٹ دے دیں۔ اونچایا اینڈرائیڈ فون ضروری نہیں۔اگر والدین کومحسوس ہوتاہے کہ انٹرنیٹ کااستعمال تعلیم کے لیے مفید ہے تو گھر میں انٹرنیٹ کنیکشن کا اہتمام کریں،یہ احتیاط اس لیے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے آج کچھ خواتین اپناقیمتی وقت بھی ضائع کررہی ہیں اور اپنی عصمت سے بھی ہاتھ دھو رہی ہیں۔کیا ہم ایسے واقعات نہیں جانتے کہ سوشل میڈیاکے ذریعے لڑکا اور لڑکی عشق و معاشقے کی باتیں کررہے ہیں مگرجب ملاقات ہوئی تو وہ دونوں آپس میں بھائی بہن نکلے یا باپ بیٹی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بچیوں کے ریچارج خود کروائیں،بہت سے ایسے واقعات بھی سامنے آئے کہ جب مسلم لڑکیاں غیروں کی موبائل شاپ سے ریچارج کرواتی ہیں، دوکاندار کے پاس نمبر جانے کے سبب بعد میں وہ یا اس کے دوست لڑکی کو پریشان کرتے ہیں ۔والدین کوچاہیے کہ اسکول اورکالج کے ذریعے نکلنے والی ٹرپ میں شمولیت سے بھی اپنی بچیوں کوروکیں۔روزآنہ اسکول اورکالج کے گیٹ تک گھرکاکوئی بھی ذمہ دار شخص انھیں پہنچانے جائے اور واپسی میں اپنے ساتھ لائے۔یہی کام کوچنگ کلاسیس جاتے وقت بھی کریں بلکہ ممکن ہوتو کوچنگ کلاس کے باہر ہی کھڑے رہیں اور اختتام پر ساتھ لائیں،یہ اس لیے ممکن ہے کہ کالج کی بہ نسبت کوچنگ کلاس کاوقت کم ہوتاہے۔حتی الامکان کوشش کریں کہ مسلم علاقوں ہی میں ٹیوشن کے لیے بھیجیں،غیر مسلم علاقوں میں جوکوچنگ کلاسیس ہوں اگرچہ وہاں مسلم اساتذہ پڑھاتے ہوںمگر پھر بھی احتیاط کریں۔اس عمل کی حکمت اہل دانش سے مخفی نہیں ۔ اکسٹرا کلاسیس اور سہیلیوں کے گھر کی کسی بھی قسم کی تقریب میں بھیجنے سے پہلے تحقیق وتفتیش کر لیں۔کالج میں منعقد ہونے والی گیدرنگ میںبھی شامل ہونے سے روکیں کیونکہ اب گیدرنگ میں فلمی گانوں پر ڈانس کرنا ایک عام بات ہے۔حیرت ہوتی ہے ہمیں قوم کے معماروں(اساتذہ)پرجو بچوں کے لیے ایسے پروگرامات کاانعقاد کرتے ہیں جو بچوں کی اخلاقی گراوٹ کاسبب بنتے ہیں۔والدین کوچاہیے کہ احتیاطی تدابیر کااستعمال انتہائی حکمت عملی سے کریں کہیں ایسا نہ ہوکہ ہمارے ہی بچے ہماری نظروں میں مشکوک ہوجائیں یاہم ان کااعتماد کھوبیٹھیں۔”
یاد رکھیں اسلام عورت کی “مطلق آزادی “ کا قائل نہیں ۔ “ آزادئی نسواں “ اس دور کا سب سے بڑا فراڈ اور ایک انتہائی سوچا سمجھا Scam ہے ۔ اس سے جہاں ایک طرف لوگوں کو مذہب بیزار کیا گیا وہیں عورت کی عصمت اور عفت کی سر عام نیلامی کی گئی ۔اور یہاں تو عفت اور عصمت کے ساتھ دین سےبھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے اس سے بڑھ کر خرابی کیا ہو سکتی ہے ۔
اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے (آمیں ) ۔
ہدایت اللہ ندوی
دوحہ ، قطر

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close