امام حسین ؓ کی شہادت کا مقصد اور آج کے مسلمان !از: عظمیٰ مزمل ملا

امام حسین ؓ کی شہادت کا مقصد اور آج کے مسلمان
از: عظمیٰ مزمل ملا(8095847276)

رواں مہینہ اسلامی سال کا سب سے پہلا اور تاریخی اعتبار سے بہت ہی اہمیت و فضائل والا مہینہ ہے۔احادیث میں اس مہینہ کو اللہ کے مہینہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔رمضان کے روزوں کی فرضیت سے قبل مسلمانوں پر یوم عاشورہ( محرم الحرام کی دسویں تاریخ) کا روزہ فرض تھا لیکن ہجرت کے بعد رمضان کے روزوں کی فرضیت سے یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ ہجرت کے بعد اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کو یہودیوں کے متعلق یہ خبر ملی کہ وہ یومِ عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت کی۔ یہودیوں نے بتایا کہ اسی دن حضرت موسی ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون سے نجات دی تھی اور فرعون کو غرقاب کیا تھا۔تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ حضرت موسی ؑ سے قربت کے زیادہ حقدار ہم مسلمان ہیں۔ اس لئے اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہم مسلمان ہیں۔ لیکن یہودیوںسے مشابہت کے خطرہ سے اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے 2؍ روزے رکھنے کا حکم دیا۔ لیکن جب کبھی محرم الحرام کا ذکر مسلمانوںکے کانوں سے ٹکراتا ہے تو سب سے پہلے انہیں حضرت امام حسین ؓ و کربلا کا سانحہ یاد آتا ہے۔ حالانکہ اس کی فضیلت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے ہی موجود ہے۔خیر یہ حسن ِ اتفاق تھا کہ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت بھی کربلا کے میدان میں اسی دن واقع ہوئی۔ لیکن عام فہم مسلمانوں کے ساتھ اکثر علمائے کرام بھی اس ماہ بابرکت کو سانحہ ٔ کربلا و شہادتِ امام ِ حسین ؓ سے منسوب کرتے ہیں۔ظلم تو یہ ہے کہ شہادتِ حسین ؓ کے مقصد کو بھلا کر شیعوں کے پھیلائے ہوئے طور طریقوں پر عمل کیا جاتا ہیں۔نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عظیم مقصد کے تحت اپنی جان کی قربانی دی تھی اس کو یکسر بھلا دیا گیا ہے۔ امام حسین ؓ کی قربانی محض ایک عظیم واقع ہی نہیں تھی بلکہ اس دن کربلاء کے میدان میں ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی گئی جو ہر دور میں غیور و باوقار مسلمانوں کو اسلام کی خاطر قربانیاں پیش کرنے کا درس دیتی ہے۔امامِ حسین ؓ نے اپنے مقدس خون سے ظالم کے چہرے کا نقاب الٹ دیا اور یہ پیغام دے گئے کہ ہر ذی شعور کو ببانگ دہل مظلوم کی حمایت اور حق کے لئے آواز بلند کرتے رہنا چاہئے۔ اگر اس راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑے یا پھر اپنے عزیزو اقارب کی قربانیاں دینی ہوں تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔اس موقع پر یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس کے سبب حضرت امام حسین ؓ نے جان دینا گنوارا کیا ، خاندان و قبیلوں کے سر کٹوانے پر راضی ہوگئے لیکن مصلحت کے نام پر بزدلی کو نہ اپنایا۔کربلاء کے اس اصل پیغام کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔امام حسین ؓ جس شریعت محمدی ؐ کے پیروکار تھے اس میں تغیر و تبدل کیا جارہا تھا۔ خلافتِ اسلامیہ بادشاہت و ملوکیت کی طرف گامزن تھی۔ نواسہ ٔ رسول اور جنت کے سردار ہونے کی حیثیت سے امام حسین ؓ کو یہ بات ہرگز پسند نہ آئی کہ ان کے حیات ِ مبارکہ میں شریعتِ اسلامیہ میں تحریف کی جائے۔ انہوںنے اس تحریف کے خلاف پرچمِ بغاوت بلند کیا اور جان جانِ آفریں کے حوالے کردیا۔لیکن افسوس آج حضرت حسین ؓ سے محبت کے دعوے کرنے والے اس مقصدِ عظیم کو سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر ہیں۔ امامِ حسین ؓ نے اس وقت شریعتِ محمدیؐ میں تھوڑی سی بھی مداخلت کو برداشت نہ کیا اور رہتی دنیا تک قربانی کی ایک انوکھی مثال قائم کردی۔لیکن آج مسلمانوں کے آنکھوں کے سامنے شریعتِ محمدی ؐ کا مذاق اڑایا جاتاہے۔ روز بروز اس میں نِت نئے طریقوں سے مداخلت کی جاتی ہے۔ احکامِ شریعت پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔ لیکن حسین کے ماننے والے تو ہیں لیکن ان کے اندر حسینیت مفقود ہے۔ یا پھر حسین کے ماننے والوں کو اپنی جان اور مال و متاع زیادہ عزیز ہے۔ اسی لئے تو میں کہتی ہو کہ حضرت امام حسین ؓ تو جامِ شہادت نوش فرما کر ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگئے جبکہ حسینیت سے خالی حسین ؓ کے نام نہاد مداح جھوٹی مصلحت اور حکمت کا لبادہ اوڑھ کر شہادت پیش کرنے سے قاصر اور زندہ لاش کی طرح زندگی گزاررہے ہیں۔اسلام کی تاریخ شہادتوں اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ جب تک قربانیاں اور شہادتیں نہیں ہوں گی اسلام کی آبیاری نا ممکن ہے۔ محض حسینیت کے نعرے لگانے اور پھر اپنے دلوں میں دنیا کی بے پناہ محبت رکھنے والے جھوٹے دعویدار ہیں۔اگر کسی کے دل میں ذرا سی بھی حسینیت موجود ہے تو وہ اسلام کے تحفظ کی خاطر اور اس کے اندر تحریف کو نا پسند کرتے ہوئے جان تو دے سکتا ہے لیکن کفار سے رحم و کرم کی بھینک مانگتا نہیں پھرتا۔آج ملک میں سب کو اپنی جان پیاری ہے۔ مال و متاغ، بیوی بچوں کی محبت ، مکان ، تجارت بلکہ ہر چیز کی اصلی محبت موجود ہے لیکن جب امام حسین ؓ کا ذکر آتا ہے تو ان کی محبت صرف زبانی دعووں تک ہی محدود ہے ۔ نواسۂ رسول ؐ نے اپنے خاندان، عورتوں اور بچوں کے ہمراہ کربلاء کے میدان کو اپنے مقدس خون سے گلزار بناتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ شریعت سب سے بڑھ کر ہے۔ جب شریعت ِ محمدیؐ کی خاطر حضرت امام حسین ؓ اتنی بڑی قربانی پیش کرسکتے ہیں تو پھر ہم کیا چیز ہیں۔امام حسین ؓ کے خطبات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سمجھ آجائے گی کہ اسلامی معاشرے کی سیاسی و سماجی حالات، اسلام و مسلمین کی پستی و انحطاط کے اسباب و وجوہات کاصرف تذکرہ کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ نجات کی راہ اسی میں مضمر ہے کہ وقتِ یزید کو پہنچانے اور اپنے فریضہ کی بروقت ادائیگی کا اہتمام کریں۔امام حسین ؓ کی شہادت کے اصل و صحیح مقصد کو آئندہ نسلوں تک پہنچائے اور عملی میدان میں قدم رکھیں۔ظالم کے خلاف آواز بلندکرکے مظلوم کی حمایت کرتے ہوئے کربلاء کی جیسی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کریں ورنہ تاریخ ہمیں بزدلوں کی طرح یاد کریں گی۔ہم زندہ دل قوم ہیں اور زندہ دلی میں ہی یقین رکھتے ہیں۔ ان قوموں کو جینے کا کوئی حق نہیں جو اپنے مذہب کے لئے بھی لڑنا نہیں جانتیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں