اعتماد سے یقین تک (اصلاحی مضامین ) مصنف:جہانگیر قیاس مبصر:محسن خان(حیدرآباد‘تلنگانہ)

اعتماد سے یقین تک (اصلاحی مضامین )

مصنف : جہانگیر قیاس
مبصر : محسن خان(حیدرآباد‘تلنگانہ)
ای میل : mohsin_246@yahoo.com
موبائیل : 9397994441

جہانگیر قیاسؔ کانام حیدرآباد کے ابھرتے ہوئے ادیب وشاعر کے طورپرلیاجاتا ہے۔ ’’اعتماد سے یقین تک‘‘ ان کی دوسری تصنیف ہے۔ اس سے قبل آپ کا شعری مجموعہ’’اظہار قیاس ‘‘ منظرعام پرآچکا ہے۔ ’’اعتماد سے یقین تک ‘‘ کتاب میں جہانگیر قیاسؔ نے اپنی 37سالہ ملازمت کے دوران حاصل ہوئے تجربوں کے نچوڑ کو مضامین کی شکل میں پیش کیا ہے۔ سماج کے حالات‘ برائیوں ‘بدلتے نظریات‘ تہذیب میں تبدیلی‘دم توڑتی انسانیت‘ زندگی کی تلخیوں‘ جذبات ورشتوں سے عاری معاشرہ‘ مطلب پرستی‘ لوگو ںکی نفسیات ‘رشتوں میں دوری وغیرہ پراردوادب میں کئی ناول‘افسانے‘کہانیاں‘ مضامین اور کتابیں لکھی گئی ہیں اوران کو اشعار کے ذریعہ بھی پیش کیاگیا ہے لیکن ان حالات کووہی شخص بہترطورپرپیش کرسکتاہے جس نے خود ان کوعملی طورپر محسوس کیا ہو۔جہانگیر قیاس چوں کہ پولیس میں ہے اوران کا ہر طرح کے لوگو ں سے سابقہ پڑتا ہے اور وہ زمینی حالات کواپنی آنکھوں سے دیکھتے اورپرکھتے ہیں۔ اسی لیے کتاب کا سہارا لیتے ہوئے جہانگیر قیاس نے سماج کوآئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔حال ہی میںزیر تبصرہ کتاب کی رسم اجراء تقریب منعقد ہوئی جس میں کئی اسکالرس نے کتاب پراظہار خیال کیا ۔ تمام مبصرین کا اتفاق ہے کہ اس کتاب میں شامل تمام مضامین حقیقی واقعات پرمبنی ہیں ۔جس کے پڑھنے سے قاری نہ صرف بہت کچھ سیکھتا ہے بلکہ اس میں اصلاحی جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ خاص کر موجودہ اکیسویں صدی کی نوجوانوں نسل کوپیش نظررکھتے ہوئے اس کتاب کولکھاگیا ہے۔ موجودہ دور میں سماج میں پیش آنے والی دشواریوں ‘پریشانیوں اوراخلاقی گراوٹ کا بھی کتاب میں جائزہ لیاگیا ہے ۔
کتاب کے مضامین پڑھنے سے ماہرنفسیات مرحوم ڈاکٹرمجید خان کی یاد آجاتی ہے جن کے مضامین انتہائی معلوماتی اور کارآمد ہوتے تھے اور دماغ پرانمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ اسی طرز پر جہانگیر قیاسؔ نے حقیقی واقعات کومضامین کی شکل میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
جہانگیر قیاس کتاب کے عنوان کے متعلق لکھتے ہیں :
’’جہاں تک میرے اس نثری مجموعہ’’اعتماد سے یقین ‘‘ کا تعلق ہے ‘تجویز اس لیے کیا ہے کہ ایک چھوٹے لڑکے نے اپنے باپ سے سوال کیا ‘ بابا ماسٹر صاحب پوچھ رہے ہیں کہ یقین اور اعتماد میں کیا فرق ہے تووالد نے کہا بیٹا تم میرے بیٹے ہو ‘بچے نے کہاہاں‘یہ اعتماد ہے اور تم اپنی ممی کے بھی بیٹے ہو ‘ہاں ‘یہ یقین ہے۔ جب میرے پاس کوئی شکایات آتی ہے ‘میں اس پراعتماد کرتا ہوں اور جب تحقیقات کے ایک طویل سفر کے بعد جب حقیقت سامنے آتی ہے تو میں یقین کوپہنچ جاتا ہوں۔ اس طرح اعتماد اوریقین کے اس چھوٹے سے فرق کواجاگر کرنے کے لیے میرا اپنا مضمون ’’اعتماد سے یقین تک‘‘ اس کتاب میں شامل ہے اور وہی اس مجموعہ مضامین کو’’اعتماد سے یقین تک‘‘ سے معنون کرنے میں میرا پیش نظر ہے‘‘۔ (ص:21)
کتاب کے عنوان کے تعلق سے جہانگیر قیاسؔ کو کسی سے مشورہ لینا چاہیے تھا ’’اعتماد سے یقین‘‘نام سے ظاہرہورہا ہے کہ یہ شخصیت سازی یا اسٹوڈنٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے لکھی گئی کتاب ظاہرہورہی ہے جبکہ اس میں اصلاحی مضامین شامل ہے۔ کتاب کا عنوان اگرکچھ اصلاحی ہوتا تو بہترہوتا۔کتاب کے عنوان کے تعلق سے جہانگیر قیاس ؔ نے جس بچے کے لطیفہ کا ذکرکیا ہے وہ انتہائی طفلانہ نظرآتا ہے کیوں کہ اس جوا ب سے بچے کے ذہن میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہوں گے ۔

کتاب کاانتساب مصنف نے اپنے ارکان خاندان کے نام معنون کیا ہے ۔
’’میری خدمت گزار شریک حیات‘میرے دونوں فرمانبردار بیٹے محمدظہیر احمد‘محمدزیداحمد اور تینوں بھولی بھالی بیٹیوں عشرت راشدی ‘ فرحت تحسین ‘رفعت نوشین کے نام…!جن کی حد درجہ فرمانبرداری اور خلوص نے مجھے زندگی جینے کا حوصلہ بخشا ‘‘۔(ص:7) انتساب پریہ کہا جاسکتا ہے کہ یقینی طورپر یہی وہ اصل رشتے ہیں جو کسی بھی غرض وغایت سے پاک‘ سچی محبتوں کے امین ہوتے ہیں جو آپ کی خوشی میں خوش اور آپ کے غم میں غمزدہ ہوجاتے ہیںاور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے جہانگیر قیاس نے کتاب کا انتساب اپنے افراد خاندان کے نام معنون کیا ہے۔ کتاب میں دوتہنیتی قطعات سید سمیع اللہ حسینی سمیع ؔاور یوسف روشؔ کے شامل کیے گئے ہیں۔
کتاب میں سابق ڈائرکٹر اردواکیڈیمی تلنگانہ پروفیسر ایس اے شکور کا پیام کے ساتھ شہرحیدرآباد کے مشہو رومعروف اویبوں وشعراء نے کتاب پراورجہانگیر قیاس کی شخصیت پرلکھے مضامین کو شامل کیاگیا ہے۔جن میں سب سے پہلا مضمون جہانگیر قیاس کے استاد ڈاکٹرسلیم عابدی کا ہے جنہوں نے ’’جہانگیر قیاسؔ میری نظر میں ‘‘لکھا ہے۔ اس کے ساتھ ڈاکٹرراہی نے’’جہانگیر قیاسؔ ایک ہمہ جہت شاعر‘‘ ڈاکٹر م۔ ق ۔سلیم نے ’’حساس دل انسان‘‘ اورنادرالمسدوسی نے ’’اعتماد سے یقین تک :جہانگیر قیاسؔ کا پہلا پڑائو‘‘عنوانات کے تحت اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ مجموعی طورپرتمام نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جہانگیر قیاس نے سادہ اور عام زبان میں معاشرہ میں پنپ رہی برائیوں کی طرف اشارہ کیا ہے اوراس کا سدباب بھی بتایا ہے اورمبصرین نے قیاس کو ایک حساس شاعر ونثرنگار قراردیا ہے۔ کتاب میں پیش لفظ کوشامل نہیںکیاگیا ہے۔ پیش لفظ مروجہ روایات کے مطابق ہونا چاہئے تھا۔ اہل علم کاخیال ہے کہ پیش لفظ کتاب کا عرقِ کلام ہوتا ہے۔ مصنف کوچاہئے تھا کہ وہ کسی یونیورسٹی کے پروفیسر یا کتاب میں شامل مضامین کی طرز پر لکھنے والے کسی مضمون نگار سے اپنا پیش لفظ تحریر کرواتے تو بہتررہتا ۔کتاب کی شروعات میں پیش لفظ ‘دیباچہ یاانتساب کے صفحوں کو کتاب کی صفحوں میں شامل نہیں کیا جاتا لیکن ان کورومن اعداد میں شمار کیا جاتا ہے ۔ لیکن مصنف نے کتاب کے انتساب پربھی صفحہ نمبر لکھا ہے یہ معمولی سی غلطی ہے لیکن کتاب لکھنے کے اصول ہوتے ہیں جن سے نئے لکھنے والوں کا واقف ہونا بیحد ضروری ہوتا ہے۔ مصنف نے ’’مجھے کچھ کہنا ہے‘‘ کے تحت کتاب لکھنے کے مقصد کوبیان کرتے ہوئے کہاکہ :
’’ یہ کتاب اصلاحی مضامین پرمشتمل ہے ۔ یہ مضامین دراصل محکمہ پولیس میں میرے چل رہے37سالہ آنکھو ںدیکھے واقعات‘ زندگی کے نشیب وفراز‘ اس کی تلخ وشیریں یادیں‘ مختلف شخصیت سے جڑی ایسی باتیں جومجھے اور دوسروں کوجینے کا ہنر سکھاتے ہیں ‘محکمہ جاتی سطح پر پیش آنے والے تجربات کا نچوڑ ہے۔ میں نے ہر لمحہ ہر لحظ زندگی کے تجربات حاصل کئے۔آپ کو میرے مضامین میں کہیں بھی افسانہ پن نظر نہیں آئے گا بلکہ زندگی کی حقیقتوں کو میں نے صفحہ قرطاس پر مضامین کی شکل میں اُتاردیا ہے‘‘۔(ص:21)
کتاب کا پہلا مضمون دعوت توشہ ہے جس میں بتایاگیاکہ اختر صاحب دعوتوں میں جب جاتے ہیں تواپنے ساتھ پالیتھین لیکر جاتے ہیں اور وہ داعی محفل سے درخواست کرتے کہ وہ دعوت میں کھانا نہیں کھائیں گے بلکہ اس کوگھرجاکراپنے گھروالوں کے ساتھ سکون سے کھائیں گے۔ حیدرآباد ی دعوتیں ساری دنیا میں اپنی فضول خرچی او رریا کاری کی وجہ سے کافی بدنام ہوچکی ہیں۔ رات دیرگئے لوگ دعوتوں میں شریک ہوکر ہمہ اقسام کے کھانے کھارہے ہیں اور اپنی صحت سے بھی کھلواڑ کررہے ہیں ۔ایک کے بعددیگر ڈیشیس کھانے کی دوڑمیں ٹھیک سے کھاناچباکرنہیں کھارہے ہیں اوراپنے جسم کوبیمارکررہے ہیں۔دعوتوں میں دسترخوان پر ہونے والی لوٹ مار سے بھی مضمون میں شامل اختر صاحب اکثر نالاں رہتے تھے۔ اخترصاحب کے بارے میں جہانگیر قیاس لکھتے ہیں کہ :
’’ بات دراصل یہ ہے کہ اختربھائی کونہایت اطمینان سے کھانے کی عادت تھی۔ اس وجہ سے وہ دیگر کے مقابلے میں بہت کم کھاپاتے تھے۔ اس طرح ان کا کوٹہ پورا نہ ہوتا تو وہ دعوت میں اپنے داعی محفل سے توشہ دینے کی فرمائش کرتے تاکہ گھرجاکر اطمینان سے سیر ہوجائیں ۔اپنی اس منفردعادت کی وجہ سے وہ دوست احباب ‘خاندان ومحلہ میں کافی مشہور ہوگئے تھے‘‘۔(دعوت توشہ‘ص:24)
لیکن اخترصاحب جن دعوتوں میں شریک ہوتے ہیں بعدمیں انہیں بھی دعو ت دیتے ہیں اس کے لیے انہو ںنے ایک چھوٹی دعوت کا بھی اہتمام کیاتھا اور سب کوتوشہ پہنچایاتھا۔
’’ میرے خیال سے اختر بھائی اپنی اس منفرد دعوت کے ذریعہ لوگوں کویہ پیغام دینا چاہ رہے تھے کہ کھانے کو اتنا ادب واحترام سے کھایاجائے وہ اتنا مزہ دیتا ہے اور ساتھ میں بیوی بچے ہو ں تواس کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ (دعوت توشہ‘ص:25)
سیل فون جوآج کے معاشرہ کی سب سے اہم ضرورت بن گیا ہے۔ فون جو ایک دوسرے سے بات کرنے کا ذریعہ ہوتاتھا لیکن آج کل نیوفیوچرس اورسوشیل میڈیا کی وجہ سے لوگ فون پربات کرنے کے بجائے انٹرنیٹ کی دنیا میں گم ہوگئے ہیں اور ایک دوسرے کوکال کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ کوئی مجبوری میں کال کرتا ہے توخفا ہوجاتے ہیں اور فون ریسیو کرنے کے بجائے فیس بک اور واٹس پرمصروف ہوجاتے ہیں ۔چاہے سامنے والا کتنی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہو وہ اس پردھیان نہیں دیتے۔ اس تعلق سے جہانگیر قیاسؔ اپنے مضمون سیل فون میں لکھتے ہیں :
’’ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پانچ مرتبہ کال کرنے پربھی لفٹ نہیں کرتے اگر ضرورت ہوتو فوراً کال اٹھالیتے ہیں۔ میں آج کل اس طرح کے لوگوں سے دوری اختیار کررکھا ہوں‘‘( سیل فون‘ص:28)
کتاب کے عنوان کے تحت لکھے گئے مضمون ’’اعتماد سے یقین تک‘‘ میںبچوں کی نفسیات کوجاننے کے لیے میاں بیوی ایک ڈھونگ کرتے ہیں اور باپ کی دوسری شادی کرانے کا ڈھونگ رچاتے ہیں ۔ ایک برقعہ میں ملبوس زنخے کے ساتھ شوہرگھومتا ہے تاکہ بچوں کو باور کراسکے کہ باپ ایک دوسری عورت کے ساتھ گھوم رہاہے ‘اس کے ذریعہ میاں بیوی بچوں کی نفسیات اور وہ اپنے والد پرکتنا یقین اور اعتماد رکھتے ہیں اس کوپیش کیاگیا ہے ‘ جبکہ اس مضمون کے آخر میں باپ ‘ زنخے کوگھرمیں لاکربتادیتا ہے کہ اصل مجرا کیاتھا ۔مصنف ‘مضمون میں بچوں کی نفسیات جاننے سے پہلے اگر اس با ت پرغورکرتے کہ وہ اپنے بچے کوکسی برقعہ پوش خاتون کے ساتھ دیکھتے توکیا وہ اس پرشک نہیں کرتے ؟شک کرنا فطری عمل ہے ۔آپ سرِ بازاربرقعہ میں کسی غیرمحرم کے ساتھ گھومیں گے تو شک ضرور پیدا ہوگا ۔ یہ مضمون اپنے عنوان سے انصاف کرتا مجھے نظرنہیں آیا ۔ایک طرف مصنف اپنی حرکتوں سے شک کا دروازہ کھولتا ہے تو دوسری طرف یہ وہم رکھتا ہے کہ اس پر کوئی انگلی نہ اٹھائے اور باپ پر اولادمکمل واندھا اعتماد رکھیں ۔ باپ کی اہمیت پرقیاس مضمون میں لکھتے ہیں:
’’ آٹو پردیکھیے ’’ماں کی دعا‘‘ اور آٹوز پر باپ کو بھی ملاکر ’’ماں باپ کی دعا‘‘لکھادیکھا مگر کوئی ایک بھی آٹو پر صرف اور صرف’’باپ کی دعا‘‘لکھا ہوا نہیں ہوتا کیوں کہ باپ اکیلا دعا دینے کا مستحق نہیں یا پھر خدا جانے لوگ کس چیز کا اثراپنے مزاج ومذاق میں لیے ہوئے ہیں؟ ‘‘(اعتماد سے یقین تک‘ص:35)
مضمون ’’کیونکہ اس میں رسک ہے‘‘ میں بائیک چلانے پررِسک ‘ہائی وے سفر پر رسک اور بیٹی کوسسرال میں پیش آنے والی تکلیفوں کو پیش کیا۔ اس طرح ایک مضمون میں کئی مثالیں دیتے ہوئے فیملی کوکس طرح جوڑے رکھاجاتا ہے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے لڑکیوں کے والدین سے درخواست کی کہ وہ دوسروں کی باتوں میں آکر اپنی بچی کاگھربرباد نہ کریں۔
’’حکمت ‘‘مضمون میں مصنف نے گنگا جمنی تہذیب کوپیش کیا ہے۔ رائو نامی ہندوشخص اور ان کے درمیان مذہب پرہوئے مکالمہ کوبہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے اگراس پرآج کے موجودہ حالات پرعمل کیاجائے توپھرایک بار ہندوستا ن رواداری والا ملک بن جائے گا:
’’راو صاحب نے پھر کہنا شروع کیا ‘اب دیکھونا اذاں کا جو سسٹم ہے اس کا مطلب ہے کہ آدمی دنیا کی زندگی میں گم ہوجاتا ہے ‘ اُس کواذاں کی آواز سن کر ہی یاد آتا ہے اورمجھے بھی اذاں سن کر وقت یاد آتا ہے اورمیرے رب کوبھی میں آپ کی اذاں سن کر یاد کرتا ہوں کیوں کہ میں بھی زندگی کی بھول بھلیوں میں گم ہوجاتا ہوں۔‘‘(حکمت‘ص:56)
’’یہ کھڑکی جو بند رہتی ہے‘‘میں قیاسؔ نے بتانے کی کوشش کہ مسلم علاقو ںمیں صبح کی اولین ساعتوں میں کوئی بیدارنہیں ہوتا جبکہ غیرمسلم علاقوں میں لوگ بیدار ہوجاتے ہیں اور گھر کی صاف صفائی اور غسل کرکے تیار ہوکر اخبارات کے مطالعہ اوردیگرکامو ںمیں مصروف ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے اس مضمون میں صبح کی واکنگ کی اہمیت کوبتایا ہے ۔ حیدرآباد کی بدلتی تہذیب کی طرف اس طرح انہوں نے اشارہ کیاکہ:
’’ حیدرآباد میں بہت کم لوگ حیدرآباد ی ہیں۔ اکثرگائوں یا دوسری ریاستوں سے یہاں آکرمستقل طورپرآباد ہوگئے ہیں۔ جس کی وجہ سے حیدرآبادی تہذیب کوبہت بڑا نقصان ہوا ہے‘ مگر بعدمیں یہ لوگ یہاں کی تہذیب کودھیرے دھیرے اپنارہے ہیں‘‘(یہ کھڑکی جو بند رہتی ہے‘ص:81)
’’کرایہ واڑہ ‘‘مضمون میں انہوں نے بدلتے حیدرآباد کی تصویر کھینچی ہے اوربتایا ہے کہ لوگ باہر کمانے چلے جاتے ہیں اور ایک خطیررقم جمع کرکے یہاں زمینات خریدتے ہیں اور ایک اور مستقل سرمایہ حاصل کرنے کی نیت سے اس گھریا فلیٹ کوکرایہ پردیدیتے ہیں مگربعض شاطر کرایہ دار اس کاناجائز فائدہ اٹھاکرمکان پرقبضہ کرلیتے ہیں۔ اس مضمون میں اس متعلق پیش آنے والے واقعات کو بیان کیاگیا ہے:
’’ اب دھوکہ کس طرح کھاتے ہیں ایک آدمی سیدھا سادا آکرآپ سے گھرکرائے کومانگتا ہے ۔آپ اُس کی تحقیق کے بغیر گھرکرایہ پردے دیتے ہیں ۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہرآنے والا خراب ہے مگر اصول بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔آپ معلوم کریں ورنہ بعد میں پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹنے پڑیں گے یا عدالت کے‘ اسی طرح شادی کے معاملے میں بغیر اچھی تحقیق کے بس رسمی دریافت کے بعد لڑکی کی شادی کردی جاتی ہے اور نتائج آپ خود اخباروں میں دیکھ رہے ہیں‘‘۔(کرایہ واڑہ‘ص:114)
’’بستر مرگ ‘‘اس کتاب کا آخری مضمون ہے جس کوپڑھنے سے قارئین کی آنکھیں ضرور اشکبار ہوں گی۔ اس میں انہوں نے بتایاکہ ڈیوٹی کے دوران ایک گائو ںمیں ان کی گاڑی خراب ہوگئی تھی اور وہ لوگ اس گائوں میں قیام کرنے پرمجبور ہوگئے اورایک جگہ انہیں ایک بسترملا جس کوانہوں استعمال کیا اوراس پررات میں سوگئے اور انہیں گدّے سے پیسے حاصل ہوئے۔ بعدمیں انہیں یہ احساس ہوا کہ یہ کسی شخص کا بسترمرگ تھااوراس کے گھروالوں نے انتقال کے بعد اسے پھینک دیاتھا اوراس میں موجود پیسوں سے بے خبر تھے۔
’’ میں نے سلام کیا اور بسترکے اندر جوپیسے نکلے اس کا ذکر کیا وہ بہت متعجب ہوگئیں اورگھر کے تمام لوگ جمع ہوگئے اورانہوں نے کہا کہ وہ بسترہم لوگوں نے بسترمرگ ہونے کی وجہ سے پھینک دیاتھا کیوں کہ اس پر اچھے آدمی کا سونا مصیبت کا باعث ہوسکتا ہے ۔ یہ اوہام پرستی تھی۔ میں نے کہا میں تورات بھرآرام سے سویا ‘یہ دوہزار روپئے اس بستر سے نکلے جوآپ لوگوں کی امانت ہے وہ لوگ خوش ہوگئے‘‘۔(بستر مرگ‘ص:119)
کتاب میں شامل دیگرمضامین دووقتیہ ولیمہ‘ مفت ہوئے بدنام‘ کیونکہ اس میں رسک ہے‘ کیا خود نمائی انسانی کمزوری ہے ‘ دوبول میٹھے‘ ایک بھکاری سے انٹرویو‘ اب کون سنے گا اپنی بات‘ اچانک‘ تیرا تودیکھ‘ کہیں توآسمان سے ستارے تو ڑلائیں‘ جوبوایا وہ پایا‘ کالی ڈوری‘ علاج چاہئے یا برتائو‘ اختلاف سے انتشار تک‘ قیاس کوہردم سنبھالا کرو پڑھنے کے قابل ہیں اور اس سے موجودہ معاشرہ کی عکاسی ہوتی ہے اور یہ تمام مضامین دل کوچھونے والے اور ایک مثبت سبق دیتے ہیں۔ جہانگیر قیاس نے اپنے مضامین میں موقع ومحل کے لحاظ سے قرآنی آیات‘ احادیث‘ارشادات اوراقوال کا استعمال کیا ہے جواس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ دینی علوم سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں اوروہ قوم کیلئے دردمندانہ دل رکھتے ہیں اور معاشرہ کی اصلاح کے لیے فکر مند نظرآتے ہیں۔
کتاب میں کتابت کی تھوڑی بہت غلطیاں پائی جاتی ہیں اوربعض مضامین میں مصنف ایک واقعہ کے فوری بعد دوسرے واقعہ کو حوالے کے طورپر پیش کرتے ہوئے ایک مضمون میں تین چار واقعات جوڑ دیتا ہے جس کو دیکھ کرلگتا ہے کہ وہ قاری کوسمجھانے کے لیے بے چین ہے ۔یہ کتاب موجودہ معاشرہ کے لیے بہت ہی اہمیت کے حامل ہے خاص کرنوجوانوں تک اس کتاب کا پہنچنا بیحد لازمی ہے۔ موجودہ بدلتے سماج میں اس کتاب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
میں امید کرتا ہوں کہ جہانگیر قیاس اپنی ملازمت کے دوران حاصل تجربات‘متاثر کرنے والے حادثات‘ گھنائونے واقعات ‘ لوگوں کے نفسیات اوردیگرسماج سے جڑے مسائل کو اپنی آنے والی کتابو ںمیں پیش کرتے رہیں گے اور مزید اردو ادب کے مطالعہ کے بعد جب وہ اپنا قلم اٹھائیں گے تو اس میں معاشرے کی بھلائی اور بہتری کا پہلو زیادہ موثرانداز میں جلوہ گرہوگا اور قوم اس سے مستفید ہوگی اوریہی وجہ ان کودیگرقلمکارو ںسے منفرد بناکر ممتاز کردے گی۔امید ہے کہ علمی اور ادبی حلقوں میں اس کتاب کی حد درجہ پذیرائی ہوگی۔ کتاب ھدی بک ڈپو پرانی حویلی یا مصنف کے مکان فتح شاہ نگر سے فون نمبرات: 7901106497‘ 9948614555پر ربط کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔ تبصرہ کااختتام میں‘ جہانگیر قیاس کی اصلاحی کوششوں پر ان کے پسندیدہ شاعر علامہ اقبال کے ایک شعر کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں:

جھپٹنا‘ پلٹنا‘ پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
٭٭٭

Mohsin Khan
Mobile : 9397994441
Email : mohsin_246@yahoo.com

اپنا تبصرہ بھیجیں