عید الاضحٰی کا پیغام امت مسلمہ کے نام : مفتی فہیم الدین رحمانی قاسمی

عید الاضحٰی کا پیغام امت مسلمہ کے نام مفتی فہیم الدین رحمانی قاسمی     

     دنیاوی دستور کی طرح اخروی اصول بھی ہے کہ محب اور عاشق کی آزمائش ہوتی ہے جو جس قدر نزدیک ہوتا ہے اتنا ہی اس کا امتحان بھی لیا جاتا ہے پھر خداوند قدوس کا دستور ہے کہ جو اس کا مقرب اور محبوب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس کے ساتھ وہ نہیں ہوتا جو عام انسانوں کے ساتھ ہے بلکہ اس کو آزمائش اور امتحان کی سخت سے سخت منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے قدم قدم پر جاں نثاری اور تسلیم ورضا اور خود سپردگی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے فخر رسل ہادئ سبل سرورِ دوجہاں سید الکونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ہم گروہ انبیاء اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے امتحان کی صعوبتوں میں ڈالے جاتے ہیں قربانئ عید الاضحٰے بھی ایک عاشق حقیقی اور خدا کی نزدیکی کی آزمائش میں پورے اترنے اور دعوائے عاشقی میں کامل ہونے کی ایک باپ بیٹے کی داستان ہے جس کو دنیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بیٹے کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے تقریباً پانچ ہزار سال پرانی بات ہے نینوا اور شہر بابل تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور عیش و عشرت کا مرکز تھا جہاں اسباب و راحت کی ہر چیز مہیا تھی اگر کمی تھی تو صرف ایک خدا کی پرستش اور خدا کے ماننے والوں کی اس وقت کا بادشاہ،، نمرود ،، اس علاقہ کا فرمانروا تھا جو صرف بادشاہ اور حکمران ہی نہیں بلکہ خدائی کا دعویدار تھا جس کی عبادت ہرشخص پر لازم و ضروری تھی اس ماحول میں خدا نے اپنے برگزیدہ پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیدا کیا تاکہ گمراہوں کو راہِ راست پر لائیں اور گناہوں کی دلدل میں پھنسے انسانوں کو صحیح راستہ دکھا ئیں   

                                              تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پلکر جوان ہوئے تو سب سے پہلے اس وقت کی سب سے بڑی طاقت ،، نمرود ،، سے واسطہ پڑا نمرود نے ہزار کوششیں کیں کہ ابراہیم بھی آوروں کی طرح مجھے خدا کہے مگر ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کی باطل خدائی نہ صرف یہ کہ تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ آج کی زبان میں اس کے خلاف علم بغاوت بلند بھی کردیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود سے کہا کہ اگر تمہارا دعویٰ خدائی درست ہے تو میرا خدا وہ ہے جو ہر روز سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے اگر تیری خدائی کا دعویٰ واقعی سچا ہے تو تو سورج مغرب کی طرف سے آگا کردکھا یہ وہ وقت تھا جب بڑے بڑے سورما نمرود کی باطل خدائی کے سامنے سرنگوں ہوکر اس کی خدائی پر مہر تصدیق ثبت کر چکے تھے ایسے وقت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حق کی آواز بلند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے نتیجے میں مادی طاقت کے نشہ میں چور ،، نمرود ،، نے آپ کو دہکتی آگ میں ڈالنے کا حکم دے دیا لیکن آپ کے تیور میں کوئی شکن نہ آیا آپ نے حق کی خاطر شعلوں میں کود نا پسند کیا لیکن باطل کے سامنے سر نہ جھکا یا.   یہیں آکر سچے عاشق کی قربانیوں اور آزمائشوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ جب بڑھاپے کی عمر پہنچی اور چھیاسی سال کے ہوگئے اس وقت تک آپ کو کوئی اولاد نہیں تھی خواہش تھی کہ اس پیغام حق کا کوئی امین اور رکھوالا ہو جس ملت کی بنیاد آپ کے ہاتھوں رکھی گئی تھی وہ اس کو چلا سکے اور باقی رکھ سکے – بڑی آرزوؤں تمناؤں اور دعاؤں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک خوبصورت اور عمدہ سیرت کا بچہ عطاء فرمایا جس کا نام اسماعیل رکھا امیدوں کا یہ مرکز بڑھاپے کا یہ سہارا جب جوان ہوا تو امتحان کی ایک منزل آئی. عشق و محبت کی آزمائش ایسی آزمائش جس کا نظارہ چشم فلک نے کبھی پہلے نہ دیکھا تھا خدا کی طرف سے خواب میں حکم ملتا ہے ،، ابراہیم علیہ السلام،، اپنے آخری سہارے سے بھی دست بردار ہو جاؤ میری راہ میں اپنی چہیتی اولاد کو قربان کردو   آپ نے حکم کی تعمیل میں ذبح کرنے کے لئے اسماعیل کو پیشانی کے بل لٹا دیا غیب سے آواز آئی. اے ابراہیم! تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا تو ہم اسی طرح مخلصوں کو بدلہ دیتے ہیں     

    چنانچہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی عظیم قربانی اور وفا شعاری اس قدر پسند آئی کہ رہتی دنیا تک،، خلیل اللہ،، کے پیارے لقب کو آپ کے لئے زندہ و جاوید بنادیا اور ہر سال سنت ابراہیمی کو بصورت قربانی واجب قرار دے دیا.  قربانی محض ریت و رواج نہیں بلکہ تجدید ایمان و عمل اور اللہ کے ماسواء کی محبت کو قربان کرنے کا نام ہے سنت ابراہیمی کی تعمیل میں شجاعت و مردانگی حق پرستی حق آگہی کے جلوے نظر آتے ہیں کمال عبدیت کا عکس معلوم ہوتا ہے اپنے لاڈلے کی گردن پر اپنے ہی ہاتھوں چھری چلائی ہے اس میں گویا تعلیم ہے کہ آپ اس وقت تک موحد نہیں بن سکتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان و مال قربان نہ کردو 

  انسانیت کا احترام جذبہء اخوت بدلہ اور انتقام سے نفرت بڑائی سے پاک خدا پر بھروسہ حق کی نصرت و حمایت باطل کے خلاف صدا برابری اور مساوات کردار سازی پاک بازی جان لیواؤں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ملک میں صالح نظام اور درست معاشرہ کے لئے قربانی کا جذبہ لے کر آتا ہے! 

  خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ ھدایت الاسلام انعام وہار سبھاپور دہلی وچیرمین شیخ الھند ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ آف انڈیا وامام و خطیب جامع مسجد انصار وہار

اپنا تبصرہ بھیجیں