جانوروں کی قربانی سے پہلے اپنے نفس کو قربان کیجئے۔از : مفتی محمد رضوان عالم قاسمی، استاد مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ

جانوروں کی قربانی سے پہلے اپنے نفس کو قربان کیجئے ———————–از ⬅ مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاد مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ 

         اسلامی سال کا اول و آخر دونوں ماہ عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور دنیائے انسانیت پر یہ بات واضح ہے کہ یہ دونوں قربانیوں کا مقصد رضائے الٰہی اور کلمہ حق کی سربلندی تھی اس میں کسی کا کوئی اپنا مفاد نہیں تھا اس لئے دونوں قربانیوں کے دور رس نتائج برآمد ہوئے اور ان دونوں قربانیوں کی وجہ سے آج تک  لوگوں کو حق پرستی پر جمنے اور باطل کے سامنے ڈٹے رہنے کا حوصلہ مل رہا ہے میں اپنی قوم کے لوگوں سے کہوں گا کہ چھوٹے بڑے جانوروں کی قربانی تو قربانی کے جذبہ کو باقی رکھنے کیلئے سالانہ ریہرسل ہے لیکن یاد رکھیئے ! سربلندی پانے کیلئے جب تک ہم اپنے نفس پرستی، خودغرضی اور انانیت کی قربانی نہیں دیں گے جانوروں کی قربانیوں کا مقصد حاصل نہیں ہوگا پرانے زمانے سے لوگ یہ بات کہتے آ رہے ہیں اور بخاری شریف کی پہلی حدیث بھی یہی ہے کہ ہر چیز کا دارومدار نیتوں پر ہے اس لیئے ہملوگوں کو اللہ تعالٰی کی جانب سے خیر و برکت ، رحمت و وسعت ، محبت و الفت ، مدد و نصرت اور اللہ کے بندوں کی تائید و ہمدردی  پانے کے لئے اپنی اپنی نیت درست رکھنی چاہئے آپ جو کچھ بھی قربانی کرتے ہیں اس جانور کا کچھ بھی اللہ کے یہاں نہیں پہونچتا بلکہ صرف آپ کی نیت پہونچتی ہے اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دین دنیا کے ہر معاملے میں پہلے اپنی نیت درست سمت میں رکھیں ورنہ جو خدا عزت کا مالک ہے وہی ہماری بدنیتی کی وجہ سے کسی کے ہاتھوں ہمیں ذلیل و رسوا بھی کر سکتا ہے بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج ہماری بدنیتی اور زبان و دل کے فاصلے کی وجہ سے ہی سماجی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے معاشرتی برائیاں بڑھ رہی ہے  یاد رکھیئے !  قومیں قربانیوں کے نتیجے میں آزادی و سربلندی حاصل کرتی ہے دنیا میں جس قوم نے بھی کامیابی و سربلندی حاصل کی ہے اس کے پیچھے اس قوم کے قربانیوں کی تاریخ ہے اس لئے آپ اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھیں یہ فتنہ کا دور ہے  کسی کا دامن تھامنے یا کسی کی بات پر یقین کرنے سے پہلے اس کی زندگی اور اس کے کارناموں کو دیکھیں تاکہ آپ دھوکہ کھانے سے بچ سکیں ملک کی سیاست کا رخ بدلتا جا رہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قوم کو ڈسنے کے لیے کوئی اژدہا بل سے باہر آنے کی تیاری کر رہا ہے اس لئے ملت اسلامیہ کے تمام بھائیوں سے کہوں گا وہ جانوروں کی قربانی سے پہلے پہلے اپنے اپنے نفس کی قربانی دیں اور اسلام کے اعلی اخلاق و کردار کو اپنی شخصی و اجتماعی زندگی کا نمونہ بنائیں قربانی کے اس تہوار کے موقع پر فریضہ حج بھی ادا کیا جاتا ہے اس فریضے کی ادائیگی کا ایک خاص پیغام یہ بھی ہے کہ ایک کلمہ کے پڑھنے والے ایک خدا کو ماننے والے رنگ و نسل ، زبان و علاقہ، ذات و برادری سے اوپر اٹھ کر ہر حال میں آپسی اتحاد و اتفاق کو یقینی بنائیں اور شیطان کو کنکریاں مار کر دور بھگائیں اگر ہم اس پر عمل پیرا رہے تو انشاءاللہ کامیابی ہمارے قدموں میں ہوگی ورنہ الامان الحفیظ

اپنا تبصرہ بھیجیں