جب بَہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں ۔ تحریر: عاصم طاہر اعظمی

جب بَہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں ۔ تحریر: عاصم طاہر اعظمی
7860601011 9307861011 

 وطن عزیز کی جشنِ آزادی 15 اگست کوبڑے ہی شان و شوکت دھوم دھام سے منائی جاتی ہے،ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں خاص کر علمائے کرام کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہے، ساتھ ہی ساتھ مدارس اسلامیہ بھی اس میں شانہ بشانہ شامل تھے، جنگ آزادی کی داستان بہت طویل اور انتہائی دردناک ہے جس کا احاطہ ایک چھوٹے سے مضمون میں ممکن نہیں، ہندوستان کی تحریک آزادی کی ایک سچی حقیقت یہ بھی ہے کہ علمائے کرام نے اس جنگ کو جہاد کا نام دیا تھا، 1857ء میں علمائے کرام نے جو جہاد کا فتویٰ دیا اور اس کی خوب تشہیر پورے ملک میں کی گئی جس سے پورے ملک میں آزادی کی لہر دوڑ گئی، علمائے کرام کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں نے بھی اس جنگِ آزادی میں دل و جان سے حصہ لیا اور انتہائی درجہ کی تکلیفیں برداشت کیں اور ہزاروں علمائے کرام کو انگریزوں نے جوشِ انتقام میں پھانسی پر لٹکا دیا اور علمائے کرام نے بڑے عزم و حوصلہ سے مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندوں کو قبول کر لیا تھا،  آزادی وطن کا جذبہ اور وسیع منصوبہ  شیر میسور نامی کتاب میں قیصر مصطفیٰ صاحب لکھتے ہیں سلطان ٹیپو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وطن کی آزادی مقصد زیست سمجھتا تھا، جب شہزادہ تھا اس وقت بھی اس کے یہی جذبات تھے اور جب حاکم بااختیار کی حیثیت سے تخت نشین ہوا تو کھل کر انگریزوں کے سب سے بڑے حریف کی حیثیت سے سامنے آیا، اس نے 1782ء میں تخت نشین ہونے کے بعد اپنے دربار میں سب سے پہلی تقریر کی اس سے ان کے جذبات کی صحیح عکاسی ہوتی ہے  کہا کہ “میں ایک حقیر انسان ہوں میری حکومت اور وجاہت بھی مٹنے والی ہے میری زندگی بھی ناقابل اعتبار ہے تاہم میرا فرض ہے کہ جب تک زندہ رہوں وطن کی حفاظت اور آزادی کے لیے جہاد کرتا رہوں ہزاروں آدمی وطن کے لیے موت کے گھاٹ اتر سکتے ہیں لیکن حب وطن کے جذبات کبھی مٹ نہیں سکتے”یہ بڑا المیہ اور سانحہ ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل بہت ہی کم جانتی ہے کہ جنگِ آزادی میں علما کا کوئی کردار و کارنامہ رہا ہے؟ جب کہ سچائی یہ ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان کی حکومت مسلمانوں سے چھینا تھا اس لیے کہ دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمانوں نے آزادی کے لیے بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں، بڑے بڑے علمائے اسلام نے جنگ آزادی کا بگل بجایا اور خود پیش پیش رہے، جنگِ آزادی کے دوران اور شکست کے بعد گرفتار یوں کے وقت طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں اور صابر و شاکر رہے ملک و ملت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی پیچھے نہ ہٹے۔ جب پڑا وقت گلستاں پہ تو خوں ہم نے دیا جب بَہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں 
 ہمارے اسلاف جنہوں نے تن کے گورے من کے کالوں کے ناپاک قبضہ سے وطن عزیز ملک ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ ان بزرگان دین نے اپنے تن من دھن کی بازی لگادی اور پیہم جدوجہد اور مسلسل کاوش کے ذریعہ انگریزوں کے پنجے سے وطن عزیز کو نجات دلایا، ۲۷؍ رمضان المبارک کی مقدس شب ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہمارا پیارا ملک آزاد ہوا۔ایک طرف ہمارے آباء و اجدادکی یہ سرفروشانہ کاوشیں ہیں، دوسری طرف موجودہ زمانے میں ہم مسلمانوں کو درپیش چیلنجیز ہیں کہ ہمیں ہر میدان میں امتیازی سلوک اور ترجیحی برتاؤ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔بعض فسطائی طاقتیں ہمیں ملک سے نکالنے تک کی باتیں کررہی ہیں جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ وطن عزیز کی آزادی ہمارے اسلاف کرام کی مرہون منت ہے۔وطن کے چپے چپے پر ہمارے آباء و اجداد نے لہو کا نذرانہ پیش کرکے ہمیں آزادی کا تحفہ دیا ہے۔ہمارے ملک کا گوشہ گوشہ ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا شاہد ہے۔چشم فلک نے ہندوستانی مسلمانوں کے کوہ کن عزم و حوصلے کو دیکھا کہ انہوں نے جب انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد ہی چین و سکون کی سانس لی۔ اس کے بعد بھی آج ایسے لوگ جن کا آزادی ہند میں کوئی قابل ذکر کارنامہ نہیں ہے،وہ ہمیں ملک سے نکالنے کی دھمکی دیتے ہیں۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے عزم و استقلال کا انگریز بھی قائل تھا تو پھر آج ہمارے حب الوطنی پر شک کرنا اور اسے مشکوک قرار دینا انتہائی شرمناک اور بے ہودہ حرکت ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت جو آج دگرگوں ہو گئی ہے وہ یکایک نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کے خلاف تقریباً سو سال سے ایک تحریک چلائی جارہی ہے اور یہ ثابت کیا جارہا ہے کہ ان کو ہندوستان میں رہنے کا حق نہیں ہے اگر ان کو ہندوستان میں رہنا ہے تو وہ ہندو بن کر رہیں، تقسیم ہند نے اس نظریہ کو مزید تقویت پہنچائی کہ مسلمانوں نے اپنا ایک ملک بنا لیا ہے تو پھر ہندوستان میں ان کا کیا رہ گیا؟ چنانچہ یہ نعرہ بھی سنا گیا کہ ”مسلمانوں کے دواستھان، پاکستان یا قبرستان” اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہندوستان میں سو پچاس نہیں، سو دوسو نہیں ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات کیے گئے، اور کرائے گئے، جن میں مسلمانوں کی ہزاروں جان یں گئیں بے شمار جائیدادیں اور املاک کی تباہی ہوئی، اس نظریہ کو مودی حکومت آنے کے بعد بہت قوت اور حوصلہ ملا،  جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا،فی الحال موب لنچنگ ایک اشو آپ کے سامنے ہے اسی لنچنگ معاملے میں ابھی حال ہی میں جھارکنڈ کے تبریز انصاری کا جس بے رحمی سے مارا گیا وہ ساری دنیا کے سامنے ہے،اس کے علاوہ روزآنہ کہیں نہ کہیں کوئی لنچنگ کے کیس سننے میں آرہے ہیں بظاہر یہ چھوٹے چھوٹے واقعات اور چھوٹی چھوٹی باتیں نظر آتی ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک مستحکم نظریہ اور منصوبہ ہے اس لیے اس صورتحال کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ دیر سویر مستقبل میں ایک وقت آئیگا جب مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کے لیے ویسی ہی مہم زور پکڑ جائیگی جیسی اسپین سے سینکڑوں سال حکومت کرنے کے بعد بھی مسلمانوں کا صفایا کر دیا گیا تھا، اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی سابق میں اس کی مثال اسپین میں گزر چکی ہے اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ دنوں لاکھوں مسلمانوں کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے مجبور ہوجانا ایک ممکن واقعہ ہماری نظروں کے سامنے ہے، لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد کا ہونا ایسا ہونے کے لئے کوئی مانع اور رکاوٹ نہیں ہے، ذہن میں لائیے کہ اگر اکثریت، پولس اور قانون تینوں ہم خیال ہو جائیں تو چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کا سوال ہی کیا بڑے بڑے شہروں کی آبادیوں کو چند گھنٹوں میں ان کو گھروں سے نکالا جا سکتا ہے، اس طرح آپ دیکھیں تو پچھلی تاریخ اور موجودہ دنیا کی صورتحال اور عقل یہ تینوں چیزیں اس اندیشہ اور خطرہ کو یقینی بتاتے ہیں، مساجد اور مدارس کا قدیم سلسلہ، مسلم تنظیموں، جماعتوں اور خانقاہوں کا شاندار نظام کوئی رکاوٹ نہیں بن سکیں گے، سب کے سب زمین بوس ہوجائیں گے، ایسے حالات میں ہمیں ہمت ہار کر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہنا ہے، قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے، تم کمزور نہ پڑو، اور نہ غم زدہ ہو ، اگر تم حقیقی مومن رہوگے تو کامیابی تمہارے ہی قدم چومے گی،( آل عمران: ۱۳۹) یعنی اللہ کے ساتھ لَو اور لگاؤ کے ساتھ میدان عمل میں سرگرم عمل ہونا ہے، اپنے اعمال کی درستگی کے ساتھ مذکورہ میدان میں اخوت و محبت سے کام کرنا ہے، تب کہیں جاکر کامیابی سے ہمنار ہوسکیں گے، اور ایک جگہ فرمایا : اگر تمہیں زخم پہنچے ہیں تو تمہارے مد مقابل کو بھی اس طرح کے زخم پہنچے ہیں، یعنی تمہارے جو مد مقابل ہیں وہ بھی چوٹ کھائے ، انہیں بھی ناکامیوں اور نامرادیوں سے واسطہ پڑا ہے ،یکبارگی اس منزل تک نہیں پہنچے ، اس کی پیچھے انہوں نے جدوجہد کی ہے، کوشش کی ہے ، ہم آپس میں بس ایک دوسرے سے دست وگریباں اور خوابِ خرگوش میں مدہوش رہے ہیں، مد مقابل نے میدان میں ایک جٹ ہو کر کام کیا ہے،تو گویا ہمیں بھی ایک جٹ ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے وطن عزیز میں اس وقت نفرت کی آگ کو جو بڑھاوا مل رہا ہے کسی سے مخفی نہیں ہے ایسے حالات میں اخوت و بھائی چارگی کے چراغ کو روشن کرنا ہوگا،جیسا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ نے کیا ہی خوب کہا ہے نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے ہندی مسلمانوں تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میںاخیر میں دعا ہے کہ اے بارالٰہا! تو ہمارے ملک کو دشمنوں کے شرو فساد سے محفوظ رکھ ۔ ہمارے وطن عزیز کو دن دونی رات چوگنی ترقی نصیب فرما۔اے اللہ! تو سرزمین ہندوستان کو امن و آشتی کا گہوارہ بنادے اور اسے مزید ترقیوں سے نواز تاکہ وہ ہر میدان میں بلندمقام پر فائز ہو۔ آمین یا رب العالمین 

اپنا تبصرہ بھیجیں