مضامین و مقالات

مودی بھکت یا مدنی بھکت؟ پرستش کا چشمہ کب تک؟ احساس نایاب

مودی بھکت یا مدنی بھکت پرستش کا چشمہ کب تک ؟
احساس نایاب ( شیموگہ, کرناٹک )

ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے دل و دماغ  عجیب سی الجھن میں مبتلا ہے خاص کر مسلمانوں کی قیادت کا دم بھرنے والے ملی و سیاسی قائدین کی بےحسی دیکھ کر پریشانی دوبالا ہوجاتی ہے کیونکہ یہاں دشمن کا وار محض جسم کو زخمی کر رہا ہے مگر اپنوں کی منافقت سے مسلمانوں کی روح چھلنی ہورہی ہے ایسے میں سمجھ نہیں آرہا کس کو رہنما, قوم کا ہمدرد سمجھیں. جبکہ انسان اپنے مفاد کے خاطر اس حد تک گرسکتا ہے کہ وہ دشمنان اسلام کے ساتھ مل کر قوم کا مستقبل بھی داؤ پہ لگانے سے پیچھے نہیں ہٹتا . ورنہ
سوال ہی نہ تھا دشمن کی فتح یابی کاہماری صف میں منافق اگر نہیں آتے ……..
یوں تو 2019 میں مودی کا دوبارہ اقتدار حاصل کرنا بھی مسلمانوں کے لئے کسی عذاب و آزمائش سے کم نہ تھا کہ اس پہ اپنوں کی بڑھتی منافقت عنقریب آنے والی بہت بڑی آفت  کی اور اشارہ کررہی ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے آج تک جتنی بھی قومیں, بادشاہوں کی بادشاہت زوال پزیر ہوئی ہیں اُس کے پیچھے دشمنوں سے زیادہ منافقوں کا ہاتھ رہا ہے  ورنہ دشمنوں میں اتنا دم کہاں تھا وہ تو اپنوں کے ہاتھ گریباں تک پہنچے ……
 جی ہاں فانی دنیا کی چاہت , نام و نمود کی لالچ نے انسان کو اندھا بنادیا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کو بھلاکر اللہ سبحان تعالیٰ کے احکامات کو جھٹلاکر اپنے فرائض اپنی ذمہ داریوں سے نظریں چرا رہا ہے یہاں تک کہ اپنے آباواجداد کی کڑی محنت اُن کی بےلوث قربانیوں کو بھی خاک میں ملا رہا ہے.مثال کے طور پہ جمیعت کو ہی لیں . جس جمیعت نے ایک عرصے سے خدا کی خوشنودی کے خاطر خدمت خلق کو اپنا اہم فریضہ سمجھا اور ہر لمحہ نیک مقاصد کو پورا کرنے کی جدوجہد کرتی رہی آج وہی جمیعت کی بنیاد ایک فرد کی وجہ سے لڑکھڑاتی نظر آرہی ہے جس کی وجہ سے آج جمیعت ہر عام و خواص مسلمان کے سوالوں کے گھیرے میں آچکی ہے. کل تک آنکھ اٹھاکر دیکھنے  کی مجال کسی میں نہ تھی آج وہیں لاکھوں, کروڑوں انگلیاں اُٹھ رہی ہیں اور یہ سب کچھ محمود مدنی جی کی مہربانیاں کا نتیجہ ہے …..  لیکن یہاں پہ ہم دوبارہ اپنی بات دہرائینگے کہ جمیعت کسی ایک  فرد یا ایک پریوار کی ملکیت نہیں ہے جو ایک شخص اپنی من مانی کریں اور سالوں کی محنت, قربانیوں کو رائیگاں کردیں …….کبھی کبھی تو حیرانگی ہوتی ہے . کیا واقعی میں یہ جمیعت وہی سوسالہ پرانی تنظیم ہے جس سے جُڑے علما و اکابرین نے آزادی کے خاطر اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا تھا, کیا یہ وہی مذہبی رہنما ہیں جن کی جراءت, بہادری, بیباکی, سچائی و ایمانداری کی گواہی آسمان کہ فرشتہ دیا کرتے تھے . جنہونے انگریزوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارا تھا ؟؟؟ کیا سچ میں یہ وہی جمیعت ہے جو آج حکمت و مصلحت  کے نام پہ مسلم نوجوانوں کو بزدلی کا سبق پڑھارہی ہے اور اپنی کمزوریوں و ناکامیوں کو حکمت کی چادر میں چھپارہی ہے ؟؟؟
شاید نہیں اُس جمیعت اور اس جمیعت میں بہت فرق ہے اور یہ بدلاؤ تو اُسی وقت سے شروع ہوگیا جب کانگریس کے ساتھ ہمارے چند اہل علم حضرات کا دوستانہ عروج پہ تھا . وہیں سے اللہ والوں کے اندر سیاسی بو آنے لگی پھر خود پرستی وجود میں آئی اور اقتدار , عہدے کے خاطر آپسی رشاکشی نے اپنا اثر دکھایا , اپنوں نے اپنوں ہی کی مخالفت کی , سیاسی رسوخ و دب دبہ کو استعمال کر ہندوستان کے نامور مدرسہ میں احتجاج کروایا اور دیکھتے ہی دیکھتے فوج کو تعینات کیا گیا یہاں تک کہ فوج کے ذریعے گولیاں چلوائی گئیں جس میں معصوم طلبہ بھی جان بحق ہوئے اور اس حادثہ کی وجہ محض دنیا پرستی تھی. افسوس اس دنیا پرستی میں انسانوں نے نہ مساجدوں کا لحاظ رکھا نہ مدارسوں کا …….. اور نہ ہی اپنے خونی رشتوں کا احترام کیا …….  کل تک جو کانگریس کے سہارے تھے آج وہ  بی جے پی میں اپنا مستقبل تلاش کررہے ہیں . جبکہ یہ سمجھ نہیں پارہے کہ بی جے پی تو وہ خطرناک شکاری ہے جو مسلمانوں کا شکار کرنے کے خاطر مدنی جی کو چارہ بناکر استعمال کررہی ہے اور مدنی جی قوم کو ……… اور یہ سب کچھ دیکھتے سمجھتے ہوئے آج ہمیں خود پہ اور مسلمانوں کی کم عقلی, بھولے پن پہ غصہ آرہا ہے کہ کیا اسی دن کے لئے مسلمانوں نے ان مفاد پرستوں کو اپنا رہبر , رہنماء, مسیحا مان کر ان پہ آنکھیں موند کر یقین کرتے رہے, انہیں اپنا ہمدرد قائد سمجھتے رہے ؟ کیا اسی دن کے لئے ہم نے انہیں سر آنکھوں پہ بٹھائے رکھا ؟ اُن کے ہر فیصلے پہ گردن جھکاکر حامی بھری,  اُن کی ایک پکار پہ لبیک کہتے رہے ؟
تاکہ یہ آج ہمارے جذبات ہمارے یقین ہمارے اعتماد اور ان سے جُڑی ہماری امیدوں کو اپنے پیروں تلے بےرحمی سے کُچل دیں ؟ مستقبل کو لے کر سجے تصوراتی محل کو ایک ہی پل میں تاش کے پتوں کے مانند ڈھیر کردیں  ؟ دشمنوں کے ساتھ مل کر دشمن ہی کی زبان بولنے لگ جائیں ؟ اپنوں کی گردنوں پہ چلائی جارہی چھُریاں دیکھ کر نظریں پھیرلیں ؟ اپنے ہی ملک میں مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کروادیں  ؟ اور فرقہ پرستوں کے ہاتھوں قوم  کا سودا کرنے لگ جائیں ؟
نہیں ہرگز نہیں, ہم نے اس دن کے لئے تو انہیں اتنا اونچا مقام نہیں دیا تھا . جو یہ ہماری لاشوں پہ اپنے محل سجائیں , ہماری مجبوری , لاچاری پہ پیر رکھ کر کامیابی کی سیڑھیاں طئے کریں ……. نہیں ہرگز نہیں, کبھی بھی نہیں ………..
کسی واحد شخص کی مفاد کے خاطر ہم اپنی قوم کو سولی پہ چڑھتے ہرگز نہیں دیکھ سکتے. دو , چار نام نہاد اہل علم حضرات کے خاطر سینکڑوں,  لاکھوں نیک صفت, تقوی پرست علمائے دین کو بدنام ہوتا نہیں دیکھ سکتے, تاناشاہ حکمران کی تعصبانہ قوانین کی وجہ سے بھولی بھالی قوم کا پریشان ہونا ” این آر سی کے خوف سے سائرا جیسی معصوم بہنوں کی خودکشی ہمیں ہرگز منظور نہیں …….آخر کیوں ہر بار ہمارے ہی بھائی بہن ظالم سرکار کی تعصبی پالسیوں کی آگ میں جلیں ؟؟؟
آج بیشک ہندوستان کے ساتھ ساتھ ساری دنیا دیکھ رہی ہے , کیسے “این آر سی کے نام پہ مسلمانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے جس میں سرکاری ملازمین سے لے کر فوجی افسر اور رسوخ دار سیاستدان کسی کو بھی نہیں بخشا جارہا ایسے میں ذرا سوچیں  عام غریب مسلمانوں کا کیا حال ہورہا ہوگا جب اُن کے آگے اُن کے اپنوں کو , ماں کے آگے بچوں کو,  بیوی کے آگے شوہر کو غیر ملکی کہا جائے گا تو اُس عورت پہ اُن بچوں پہ کیا گذرتی ہوگی اپنوں سے بچھڑنے کا تصور بھی جان لیوا ہوتا ہے ایسے میں جس پہ بیتتی ہے اُس پہ تو قیامت گذرتی ہوگی تبھی سائرہ جیسی خواتین نے خوف کے مارے خودکشی کرلی  ………
ان تمام حالات کو قریب سے جانتے بوجھتے چھوٹے مدنی جی کا وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنا اور دوران گفتگو کشمیر 370 و  35A  کو منسوخ کئے جانے اور این آر سی جیسی جاہلانہ و ظالمانہ بل کی تائید کرتے ہوئے آسام کی طرح پورے ملک میں اس کو نافذ کرنے کی بات کہنا مسلمانوں پہ ظلم ہے …… کیا یہ پریشان آسامی مسلمانوں کے حالات سے واقف نہیں ہیں ؟ کیا یہ بھاجپا کی کھوٹی نیت سے آگاہ نہیں ہیں ؟ جو انہونے خود سے ملک کے تمام مسلمانوں کو این آر سی کی آگ میں جھوکنے کا فیصلہ کرلیا ………بات صرف اتنے پہ نہیں رکی بلکہ مدنی جی نے تو حد کردی.  آئے دن  اپنے بےتکھے بیانات سے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں.  کبھی بادشاہ اورنگزیب کو شیواجی سے کمتر کہہ کر, کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا موازنہ رام اور کرشن سے کرکے ( نعوذبااللہ) ,  تو کبھی پاکستان نہ جانے پہ جاہلانہ بیان دے کر ………….  آخر ان کی یہ اوٹ پٹانگ باتیں مسلمان کیوں اور کب تک برداشت کریں  ؟
اس پہ ستم ظریفی تو دیکھیں خود اپنے گھر میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہوئے, آزاد فضاؤں میں سانس لیتے ہوئے بےگناہ کشمیریوں کے زخموں پہ نمک چھڑکا جارہا ہے جو بیچارے 64 دنوں سے بھوکے پیاسے زبردستی گھروں میں قید کئے گئے ہیں.  اُس پہ چھوٹے مدنی جی کی جانب سے مجبور کشمیریوں کو یہ نصیحت دی جاتی ہے کہ وہ ” کشمیر میں کسی بھی طرح کی علیحدگی پسند تحریکات کو بڑھاوا نہ دیں ”  ہم پوری طرح سے بھارت کے ساتھ ہیں ” اس طرح کا بیان دے کر آخر یہ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا یہ مظلوم کشمیریوں کو ہی موردالزام ٹہرانے کی کوشش ہے ؟؟؟…….
اگر مدنی جی کشمیریوں کی مدد نہیں کرسکتے تو نہ کریں کسی کو کوئ گلہ نہیں کوئ شکایت نہیں. لیکن خدارا اُن کی مظلومیت کا مذاق تو نہ اڑائیں , فی الحال اُن معصوموں پہ جو ظلم ڈھائے جارہے ہیں وہی بہت ہیں اُس پہ اُنہیں کو موردالزام ٹہرا کر اُن کی پریشانیوں میں مزید اضافہ نہ کریں .
جنہیں کشمیر جاکر کشمیریوں کے حالات جاننے سے کوئی غرض نہیں وہ 370 کی تائید کرنے بھاجپا کے فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کے خاطر راتوں رات 20 کروڑ مسلمانوں کے ترجمان بن کر سیدھے جنیوا پرواز کرگئے اور عالمی سطح  پہ زبردستی خود کو مسلمانوں کا قائد بناکے پیش کیا  جو سراسر دھوکہ ہے, بےایمانی ہے , مظلوموں کے ساتھ ناانصافی ہے. برعکس دنیا کے آگے تاناشاہ حکمران و بھاچپائیوں کی حوصلہ افزائ کرنے کے برابر ہے …….
 ویسے بھی کئیوں کی زبان پہ یہ سوال ہے کہ جنیوا جانے کے لئے مدنی جی کے پاس اتنا پیسہ آیا کہاں سے ؟ اور اتنے سارے علما و اکابرین کو چھوڑ کر آخر کیوں چھوٹے مدنی جی کو ہی دعوت نامہ دیا گیا ؟خیر کہیں سے بھی ملا ہو . لیکن کاشششششش چھوٹے مدنی جی اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے اور عالمی میڈیا کے آگے ہندوستانی فوج کے ذریعے کشمیریوں پہ کئے جارہے مظالم کا تذکرہ کرتے, ہندوستان میں ہورہے ماب لنچنگ اور عصمت دری کے واقعات و دیگر مظالم پہ کھل کر آواز اٹھاتے,  سرکار کی غلط پالسیوں کے خلاف کھل کر بات کرتے . مگر افسوس ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ امت شاہ سے ملاقات کے بعد مدنی کی امت شاہ ہی کی بولی بولنے لگے اور اپنے حلقے احباب کو میاں میٹھو کی طرح میٹھی گولی کھلاتے رہے جس کا اثر کچھ یوں ہورہا ہے کہ آج مسلمانوں ہی کے بیچ تفریق بڑھ چکی ہے اور مسلمان آپسی لڑائی جھگڑے میں مصروف ہوگئے ہیں,  اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ یہ بھی بھاجپا کی سازش کا ہی حصہ ہے. مدنی جی کو مہرا بناکر مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی سازش ہے.آخر آر ایس ایس ایک وقت انگریزوں کی دلالی جو کرتی رہی ہے جس سے دیوائڈ اینڈ رول پولیسی کا استعمال کرنا وہ بخوبی جانتی ہے.  اور یہ بات ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتے ہیں کہ آج مدنی جی کو آر ایس ایس نے استعمال کر لیا ہے تبھی مدنی جی اور امت شاہ کی بولی بول رہے ہیں ورنہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا ہے کہ حال ہی میں ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے این آر سی کے متعلق امت شاہ نے ڈھکے چھپے انداز میں کہہ دیا کہ ہندوستان میں ہندو,  دلت,  سکھ,  عیسائی, جین, بُدھ فلاں فلاں سبھی کو ہندوستانی شہریت دی جائیگی بجائے اُن کے جن کا نام تقریر میں جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا جس سے بھاجپائیوں کی نیت صاف صاف جھلکتی ہے ویسے یہ اور بات ہے جہاں امت شاہ  ملک کا وزیر داخلہ این آر سی کا مقصد کھُل  کر نہیں بتاسکا وہیں بی جے پی کا کام آسان کرتے ہوئے چھوٹے مدنی جی نے نیشنل میڈیا پر بات کرتے ہوئے صاف صاف لفظوں میں اس بات کو واضح کردیا ہے کہ اگر کوئی ہندو غیر ملک سے ہندوستان آیا ہے تو حکومت کو چاہئیے اسے ہندوستانی شہریت دے دے,  لیکن اگر کسی بھی ملک سے کوئی مسلمان ہندوستان آیا ہے تو اسے ہم ہندوستان میں قبول کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں,  کوئی بھی مسلمان اپنا ملک چھوڑ کر میرے ملک میں کیوں آئے گا ؟ مجھے ہرگز قبول نہیں,  مجھے کوئی بھی مسلمان نہیں چاہئیے, اگر کوئی مسلمان ” گھس بیٹھیا ” بن کر آیا ہے تو اسے ہم سب کو مل کر نکالنا چاہئیے,  باہر ملک کا کوئی بھی مسلمان ہمیں ہندوستان میں نہیں چاہئے …….   ان کے اس بیان پہ ہندی مسلمان پوچھ رہے ہیں. کیوں بھائی میاں مدنی جی آخر آپ کو اُمت مسلمہ سے کیا تکلیف ہورہی ہے ؟ کیا کوئ مسلمان آپ کے گھر آپ کی چوکھٹ پہ کھڑا ہوکر آپ کی جائیداد مانگ رہا ہے یا آپ کے حلق کا نوالا چھین رہا ہے جو آپ کو مسلمان قبول نہیں ہیں ؟ یا مسلمانوں نے آپ سے کہا ہے کہ ہمیں اپنے دینی بھائ بہنوں سے ملک میں پریشانی تکلیف ہورہی ہے ؟ جو آپ ان معصوم بےبس مسلمانوں کو ملک بدر کرنے پہ تُلے ہیں ؟ آخر کونسی تکلیف ہورہی ہے بتا بھی دیں تاکہ آپ کے ساتھ سبھی کو پتہ چلے ؟ یا مسلمان اس کو بھاجپا اور آپ کی ملی بھگت سمجھیں یا یہ سمجھیں کہ بھاجپائیوں نے آپ کی کسی دُکتی نبص پہ پیر رکھ دیا ہے جس سے نجات پانے کے خاطر آپ ان سنگھیوں کی حمایت میں اس قدر خودغرض, بےحس ہوچکے ہیں کہ آج آپ کو انسانیت اور دینی رشتہ بھی یاد نہیں رہا …..
اگر بھول گئے ہیں تو یاد کریں  اُمت مسلمہ ایک جسم کے مانند ہیں , ایک دوسرے کے درد, تکلیف سے عالم اسلام کرراہ اٹھتا ہے اس لئے مسلمان بھلے ہندوستان کا ہو پاکستان کا ہو یا نخلستان کا ہو, یا قبرستان کا, ہیں تو سارے ہمارے اپنے  بھائی بہن ہمارے جسم کا اٹوٹ حصہ , جس کو کوئی جدا نہیں کرسکتا.پہلے ہی ایک مفاد پرست جنونی شخص کے پاگلپن بیوقوفی نے 1947 میں ہم سے ہمارے کئی بھائ بہنوں کو جدا کردیا ہے ابھی دوبارہ اُس تاریخ کو نہیں دہرانے دیا جائے گا .
 ویسے بھی ظالم حکمران کے ڈر خوف سے جو اپنے بھائی کو بھائ نہیں کہہ سکتے انہیں ہم اپنا قائد ماننے کی بات تو بہت دور کی ہے بلکہ مسلمان انہیں اپنا کہنے سے بھی شرم محسوس کرتے ہیں .اور آپ کیا مسلمانوں کو قبول نہیں کریں گے بلکہ آج مسلمان خود آپ کا بائیکاٹ کرتا ہے اور بڑے ہی دکھ کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے جو اپنے ایک چچا کے نہ ہوسکے وہ 20 کروڑ مسلمانوں کے کیا ہونگے , جنہونے جمعیت کو دو حصوں میں بانٹ دیا وہ کیا خاک ہندو مسلم  ایکتا کو مظبوط کرینگے
یقیناً آج جو بھی مدنی بھکت اس مضمون کو پڑھینگے آگ بگولہ ہوجائینگے, گالی گلوج بکیں گے کیونکہ شاید آپ سبھی کو صرف ایک مدنی سے محبت ہوگی لیکن الحمدللہ ہمیں اپنے 20 کروڑ مسلمان بھائی بہنوں سے محبت ہے , پوری امت مسلمہ کے درد, کرب کا احساس ہے .  اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آج بھکتوں کے آگے آقاؤں کی حقیقت بیان کرنا , اندھوں کی بستی میں آئینہ فروخت کرنے کے برابر ہے چاہے وہ مودی بھکت ہوں یا مدنی بھکت.  باوجود ہم بھی مجبور ہیں اس لئے ناچاہتے ہوئے بھی اس موضوع پر اپنے مقدس قلم کو جنبش دے رہے ہیں ورنہ ہماری کسی سے کوئی ذاتی رنجش تو ہے نہیں . اور ہماری آپ تمام مسلم بھائیوں سے بھی مودبانہ گزارش ہے خدارا اپنی آنکھوں پر پڑے پرستش کے چشمہ کو اتار کر اپنے مظلوم بھائیوں کے بےبس چہروں کو دیکھیں ناکہ نظریاتی اختلاف کو آپسی جنگ کی وجہ بنائیں   ذرا سوچیں ایک شخص کی وجہ سے قوم کو کتنا نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور مظلوم روہنگیا مسلمانوں کا آخر کیا قسور ہے, بیچارے برما کے وحشی درندوں کے ستائے اپنوں کو گنوا کر اپنی جان بچاتے ہوئے یہاں پناہ گزیں ہیں.  ابھی این آر سی کے جال میں پھنسا کر انہیں ملک سے نکلنے کو کہا گیا تو وہ مجبور کہاں جائینگے  ؟؟؟؟کیا دوبارہ اُنہیں برمی گِدھوں کی غذا بنانا آپ کو قبول ہے ؟؟؟؟  یقین جانیں اپنوں سے کسی کو کوئی دشمنی نہیں ہوتی. رہی بات محمود مدنی جی کی تو وہ بھی قابل احترام ضرور ہیں لیکن فی الوقت اُن کی سوچ اُن کے بیانات اُن کے اقدام صحیح نہیں ہیں اور کوئی بھی مسلمان یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ ایک انسان کی وجہ سے دنیا کے آگے جمیعت کا نام بگڑے . اللہ نہ کریں اگر ایسا ہوا تو یہ پوری قوم کے لئے نقصاندہ ہے کیونکہ آئندہ مسلمانوں کو اپنے علما و اکابرین پر سے اعتماد اٹھ جائے گا وہ مایوس نا امید ہوجائینگے اور وقت رہتے محمود مدنی جی کے متنازع بیانات پہ لگام نہیں کسی گئی تو ملک میں ہندو مسلم اتحاد ہو نہ ہو ,  مسلمان ضرور تنکوں کے مانند بکھر جائینگے,  اور جس طرح تقسیم کی وجہ سے ہندوستاں میں مسلمانوں کی طاقت گھٹ کر آدھی سے بھی کم ہوگئی تھی ٹھیک اُسی طرح تاریخ دوبارہ دہرائی جائے گی ……… اس لئے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جمیعت سے جڑے تمام ذمہ داراں کو چاہئیے کہ وہ اپنے لبوں کو جنبش دیں , خاص کر محترم ارشد مدنی صاحب اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنی بزرگی کی لاج رکھیں اور آگے بڑھ کر اپنے ضدی سرکش بھتیجے محمود مدنی جی کو سمجھائیں . ورنہ اللہ نہ کریں ایک شخص کی وجہ سے مسلمانوں کا جمیعت کے ساتھ ساتھ مذہبی رہنماؤں پر سے بھی اعتبار اٹھ جائے گا 

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Close