ابھی وقت نہیں آیا، دل سے دل تک! ارقم امیر سندھی

ہندوستانی مسلمان ایک اضطراری صورت حال سے دوچار ہیں، ایک طرف خون اور خوف میں ڈوبا کشمیر ہے دوسری طرف آنسو بہاتے، اجڑے آسامی مسلمان، آئے روز بہتا مظلوم نہتے مسلمانوں کا خون۔ یقینا یہ حالات مایوس کن ہیں، مگر مسلمانوں کو قرآن بتاتاہے کہ مایوسی اور ناامیدی کفر ہے۔ تاریخ گواہ ہے، امت محمدیہ موت سے ڈر کر راہ نہیں چھوڑتی بلکہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق و صداقت کا پرچم بلند کرتی ہے۔

شہادت ہے مطلوب ومقصود مؤمن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
ہزاروں انسانوں کے قتل کے مجرم سے حضرت مدنی حفظہ اللہ نے ملاقات کیا کی! امن پسند فاختائیں خوشی کے ترانے گن گنانے لگ گئی، اس ملاقات کو صبح پر وقار کی نوید سمجھ کر پاگل ہوئی جارہی ہیں۔ کوئی انہیں بتائے ریاستی سطح کی سازشیں ہماری سوچ و فکر سے کافی بلند اور اونچی ہوا کرتی ہیں۔ کیا ابو جہل کے گھر پر آقا بار بار نہیں گئے مگر نتیجہ تو وہی ڈھاک کے تین پات رہا۔

معافی جناب! معافی، خطاءً آقائے نامدار کا اسم مبارک زبان پر آگیا، نہ یہ ختم و دورد کی مجلس ہے نہ یہ اصلاحی و خانقاہی جلسہ پھر مولائے کل کا ذکر کیوں ! دراصل ہم محدود دینی دائرے سے باہر گاندھی جی کے پیروکار،جمہوریت کے ٹھیکے دار اور بابا صاحب کے نام لیوا ہیں۔ امت مسلمہ کے عالمی تصور سے جان چھڑاکر قومی یکجہتی کا بدبودار نعرہ لگانے والے، وطن نامی بت کی چوکھٹ کے پجاری۔ ہمیں ضحوک و قتال نبی سے کیا نسبت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک طریقہ اور عمل یہ ہے کہ ایک مسلمان کی حفاظت کی خاطر خود اور چودہ سو صحابہ کی جانوں کو داؤ پر لگا دیا، جنگی تیاری اور ہتھیاروں کی قلت کے باوجود صرف اس لیے موت پر بیعت فرمائی کہ کافروں کو ہمت کیسے ہوئی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کی۔ ایک یہودی قبیلے کو صرف اس لیے تہ وبالا فرمایا انہوں نے ایک مسلمان بیٹی کے سر سے چادر اتار پھینکی تھی۔

حالیہ ملاقات کا پس منظر شاید وہ مودی کی بے وقوفی ہو جو وہ نوٹ بندی کی طرح پھر سے کر گزرا ہے۔ اب یہ غلطی گلے کی ہڈی بن چکی ہے، جسے نہ نگل سکتا ہے اور نہ اگل۔ نو لاکھ انڈین وردی پوش کو تعینات کرنے کے باوجود ایک پل سکون نہیں۔ اس فیصلے سے کشمیریوں کا اعتماد تو خاک میں ملاہی ہے اب تو پورا ملک ہاتھوں سے نکلتا دکھائی دے رہا، تحریک خالصتان نے پر و پرزے نکالنے شروع کردیئے ہیں، ناگالینڈ وغیرہ اہم ریاستوں کے تیور بھی بدلے بدلے سے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہم نکسل واد اور تمل ٹائیگر سے اب تک نجات نہ پاسکے۔ ایسے وقت میں این آر سی پر عارضی نرمی اور مسلم قیادت سے ملاقات شاید وہ پتہ ہے جس کی آڑ میں اضطراری طور پر وقت گزاری ہوں۔ اسی کا نام تو ہے چانکیہ پالیسی۔

باقی اور کوئی خوش فہمی پالنا، موہن سے حضرت مدنی کی ملاقات کو فتح یا روشن مستقبل کی نوید سمجھنا سب سے بڑی بھول ہوسکتی ہے۔ تقریبا سوسال قبل جس جماعت کے بانیوں نے عمومی دھارے سے ہٹ کر سخت مصائب اور حالات کا سامنا کرکے ایک نظریاتی جماعت کی بنیاد رکھی۔ پھر وہ جماعت اسی نظریات پر پلی بڑی۔ گرمی سردی دیکھی پر کبھی اپنے نظریات کا سودا نہیں کیا۔ پھر اسی افکار کی بدولت وہ پورے ملک پر بلا شرکت غیر حاکم بن بیٹھی ہو۔ وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کے ثمرات چن رہی ہے۔ ایسے وقت میں ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے نظریات سے ایک قدم پیچھے رکھ سکتی ہے! اس سادگی پے کون نہ مرجائے اے خدا!

جس کا بنیادی مقصد و مشن ہو کہ مسلمانوں کو ڈرا دھمکار کر، مال وجاہ کا لالچ یا کسی بھی طریق سے ہندو بنایا جائے۔ گر یہ نہ ہوسکے تو ملک بدر کردیا جائے۔ شدھی تحریک اور گھر واپسی اسی مشن کا حصہ تھی۔ یہ بات کسی پر ڈھکی چھپی نہیں کہ آر ایس ایس کے افکار میں ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
کبھی قریب جاکر آپ ان کے اندر کی باتیں سننے کی کوشش کریں۔ تو آپ حیران ہوں گے کہ جھوٹ اور فریب کا مرض ان کو اس حد تک لگ چکا ہے، اب اس کا علاج آپریش کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ ماضی کو اپنی متعصب آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ انہیں ٹیپو سلطان، اورنگزیب اور بابر سے اتنی نفرت ہے جتنی ایک مسلمان کو سور سے ہوتی ہے۔
وہ اپنے مذہبی صحیفوں کے مطابق ایک ایسی جنگ کے منتظر ہیں، جس میں باطل (مسلمانوں) کو ختم ہونا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اس جنگ میں ھمالیہ سے دیوتا اتر کر ادھرم لوگوں کو قتل کریں گے۔ یوں وہ فاتح بن کر چھا جائیں اور برِ صغیر میں رام راج آجائے گا۔ ان دنوں یہ خوش فہمی سر چڑھ کر بول رہی ہےـ آخری زمانہ (کل یگ) آچکا ہے۔ معرکہ بس برپا ہونے کو ہے، اس کا سپہ سالار موذی ملعون ہے۔ یہ عارضی فکر نہیں بلکہ ان کو اس پر یقین کامل ہے۔ آئے روز مظلوم مسلمانوں کا قتل، اس پر مسلم قیادت کی شرمناک حد تک خاموشی نے انہیں اور پر امید کردیا ہے۔ ایسے افکار و نظریات کے حاملین سے خیر کی توقع یاللعجب۔
ہمارے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ فریق مخالف نے آج تک پر خبر چلائی، مدنی دوسال سے ملاقات کی درخواست پے درخواست کئے جارہے تھے، تب جاکر ملاقات ممکن ہوئی وہ بھی رات گئے۔ خدا نہ کرے ایسا ہو۔ گر ایسا ہوا ہے تو مسلم دشمن طاقت یہ سمجھے گی اس کی ہجومی دہشت گردانہ کاروائیوں نے مسلمانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔
صلح گر برابری پے ہو توکوئی قباحت نہیں۔ ایک طرف سے پیش کش معاملے کو بگاڑ سکتی ہے۔
رکھے جو ہم سے تعلق برابری پے رکھے
کسی کے ناز اٹھانے کے ہم نہیں قائل

آپ کہیں گے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر صلح فرمائی تھی۔ اسی طرح طالبان کو بھی بالآخر صلح کرنی پڑی؟ ایک دانشور فرماتے ہیں: آج تک کوئی اہم مختلف فیہ مسئلہ مذاکرات سے حل نہیں ہوا۔ نسیم حجازی کہتے ہیں کہ جغرافیہ کے ٹیڑھے خطوط نوک تلوار سے سیدھے کیے جاتے ہیں۔ طالبان کی امریکہ سے اسی وقت بات ممکن ہوئی جب امریکہ نامی پاگل جانور کے دانت توڑ دیئے گئے۔ ان کی مذاکرات کی میز کے پیچھے جنگ کا سخت ترین بیک گراؤنڈ ہے۔ اسی طرح مشرکین مکہ سے صلح اتنی ہی سہل تھی تو آپ ہجرت سے قبل فرمالیتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو ہم سے بڑے بڑے اور آسان آفر ہوئے تھے۔ قریش کہنے لگے محمد آپ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنا بند کردو ۔ ہم قومی ایکتا اور اتحاد کے لیے بس حاضر ہیں۔ آج کی عام فہم اور سادہ زبان میں کہدو کہ گنگا جمنا تہذیب کی پیش کش تھی، نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیش کش ٹھکرادی۔ ہم اسی کے لیے مرے جارہے ہی، طرح طرح کی ذلتیں اٹھاتے ہیں مگر قربان جاؤں آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ آپ نے یہ پیش کش حقارت کے ساتھ ٹھکرادی۔ گر ہم ہوتے تو مصلحت کے نام پر ابوجہل کے قدموں میں لوٹ رہے ہوتے۔

میدان بدر میں کفار مکہ کا غرور، گھمنڈ اور دماغ میں موجود بھوت ایک ضرب سے ہی چکنا چور ہوچکاتھا۔ رہی سہی انانیت کفار مکہ احد میں چھوڑ کر بھاگ آئے تھے۔ ان سخت مراحل سے گزر کر جب کفار مکہ کی عقل ٹھکانے آئی تب مسلمانوں اور قریش کے بیچ میں جو حدیبیہ میں صلح ہوئی اس کے دور رس اثرات سارے جہاں نے دیکھے۔

جب تک توا گرم نہ اس سے پہلے ڈالی جانے والی روٹی ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے۔ وقت سے پہلے کیا ہوا کام اکثر مضر ہواکرتاہے۔ ابھی وقت نہیں آیا صلح وصفائی کا۔ ان کے دماغ میں موجود بھوت عنقریب بے قابو ہونے والاہے۔ یہ اور ظلم وستم کریں گے اور ادھم مچائیں گے۔ہجومی تشدد کی راہ نہ روکی گئی تو یہ طوفانی صورت اختیار کرلے گا۔مسلم نوجوانوں پر دہشت گردی کاالزام لگاکر مارنا شروع کردیاجائے۔ پھر وہ وقت دور نہیں جب ہمارا پیارا ملک آپسی خلفشار کا شکار ہوجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں