حضرت حُسین رضی اللہ عنہ کی حَسِین زندگی! نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول کا ایمان افروز تذکرہ ! متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن

حضرت حُسین رضی اللہ عنہ کی حَسِین زندگی! نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول کا ایمان افروز تذکرہ
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن ، مرکزی امیر: عالمی اتحاد اھل السنۃ والجماعۃ

اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما پر جنہوں نے اپنی عملی زندگی سے اہل اسلام کو جینے اور راہ حق میں قربان ہونے کا سبق دیا آج بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ حضرت حسین کی صرف شہادت کو بیان کیا جاتا ہے آپ کے فضائل و مناقب، سیرت و کردار، زہد و تقویٰ، خشیت وللٰہیت، علم و تفقہ، عبادت و ریاضت، تواضع و انکساری، جمال و کمال، عفو و درگزر، فیاضی و سخاوت، گفتار ورفتار، جلوت خلوت، قول وعمل،ایثاروہمدردی، عادات واطوار، خوش خلقی،حسن سلوک، مروت رواداری،شجاعت وعزیمت، دوراندیشی و فراست، حکمت ودانائی، محبت ومعرفت ِخداوندی اور سب سے بڑھ کر متبع سنت ہونے کی باتیں عموماً نظر انداز کی جاتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا، لیکن یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ صرف شہادت کو بیان کرنا اور آپ کے اعلیٰ اخلاق، عمدہ اوصاف، بہترین کمالات کا تذکرہ نہ کرنا کیا اس بات کی طرف اشارہ نہیں کر رہا کہ ہم حسینیت کو صرف بیان کرنا چاہتے ہیں، اپنانا نہیں چاہتے۔ آئیے ! اس جنتی نوجوانوں کے سردار کی زندگی کی چند پہلووں پر نظر ڈالتے ہیں اور اس کے بعد اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کیا ہم حسینی ہونے کے دعوے میں کس قدر سچے ہیں؟
انسان کی زندگی کا مقصد خدائے ذوالجلال کی رضاء اور خوشنودی ہے اس کے حصول کے لیے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما باوجودیکہ جنتی نوجوانوں کے سردار تھے لیکن پھر بھی فرائض کی ادائیگی کے بعد کثرت کے ساتھ نوافل کا اہتمام فرماتے، فرض روزوں کے علاوہ کثرت کے ساتھ نفلی روزے رکھتے، آپ نے 25 حج کیے جن میں اکثر پیدل کیے ہیں، رات کے پہلے حصے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ عبادت فرماتے اور آخری حصے میں حضرت حسین اپنے اللہ کے حضور کھڑے ہو جاتے، رورو کر دعائیں مانگتے، کثرت سے استغفار کرتے اور آپ کی عبادات کی عادات مبارکہ شہادت تک برابر جاری رہیں۔ یہاں تک کہ میدان کربلا میں آخری رات آپ ساری رات عبادات میں مشغول رہے، اتنے کٹھن حالات میں بھی نوافل، تلاوت، اذکار و اوراد، عاجزی و انکساری سے دعائیں مانگتے رہے۔ آپ کی عادت شریفہ تھی کہ آپ جب بھی سونے کے لیے بستر پر آتے تو سورۃ الکہف کی تلاوت فرماتے۔
اس سے ہمیں کثرت عبادت پر ہمیشگی کا سبق ملتا ہے۔
تکبر انسان کو برباد کرتا ہے اور تواضع قرب الہٰی کا ذریعہ ہے، خانوادہ نبوت کے اس چشم و چراغ نے ساری زندگی تواضع کے ساتھ گزاری۔ ایک بار کہیں جا رہے تھے تو کچھ غریب لوگ راستے میں آپ کو ملے جو اس وقت کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے جب آپ کو دیکھا تو عرض کی کہ اے اولاد رسول ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیں۔ آپ سواری سے اترے ان کے ساتھ بیٹھے اور کھانے لگے آخر میں فرمایا: اللہ تکبر کرنے والوں کو اپنا دوست نہیں رکھتا۔ پھر ان سے کہا!میں نے آپ کی دعوت قبول کی ہے آپ بھی میری دعوت کو قبول فرمائیں کچھ دیر بعد ان کو اپنے گھر لے آئے اور اپنی شان کے مطابق ان کی دعوت کی۔
اس سے ہمیں تواضع اور مہمان نوازی کا سبق ملتا ہے۔
عداوت، کدورت اور باہمی رنجشیں صرف افراد ہی نہیں خاندان بھی تباہ کر دیتی ہیں جبکہ عفو و درگرز کی بدولت معاشرے میں محبتیں جنم لیتی ہیں اور قائم بھی رہتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی تربیت جس گھرانے میں ہوئی وہ علم و ادب، تہذیب و اخلاق کا ایسا نمونہ تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک بار آپ کے چھوٹے بھائی محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے کوئی ایسی بات سرزد ہو گئی جس سے آپ کو تکلیف پہنچی، آپ نے بڑے بھائی ہونے کی وجہ سے اظہار ناراضگی بھی کیا۔ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ فورا گھر پہنچے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام ایک معذرت نامہ لکھا: ’’آپ کو شرف و فضل کا جو درجہ حاصل ہے میں کسی صورت وہاں تک نہیں پہنچ سکتا، اگرچہ ہم دونوں اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد ہیں باپ کی جانب سے(خونی رشتے کے اعتبار سے) ہم میں کوئی فرق نہیں لیکن والدہ کی جہت سے آپ کو جو مرتبہ و مقام ہے میں وہاں تک کبھی نہیں پہنچ سکتا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی(لاڈلی)بیٹی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے مقابلے میں جو شرف و کمال بخشا ہے اس کی لاج رکھتے ہوئے (مجھے معاف فرما کر)مل لیجیے ورنہ اگر میں اس معاملے میں پہل کر گیا تو آپ اس فضل سے محروم ہو جائیںگے۔ ‘‘حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے خط کو پڑھ کر فورا تیاری کی اور سیدھے بھائی کے پاس پہنچ کر انہیں گلے لگا لیا۔
اس سے ہمیں خونی رشتوں کے تقدس اور چھوٹوں سے شفقت کرنے کا سبق ملتا ہے۔
بخل اور کنجوسی انسان کے عمدہ اوصاف کو کھا جاتی ہیں جبکہ سخاوت و دریا دلی انسان کے بلندی اخلاق کا مظہر ہوتی ہیں۔ ایک بار ایک دیہاتی مدینہ منورہ کی گلیوں میں گھومتا پھرتا آپ کے دروازے پر رْک گیا اور دروازے پر دستک دی ساتھ میں اپنی غربت و لاچاری کو اشعار کی صورت میں بیان کیا۔ آپ اس وقت(غالباً نفلی ) نماز میں مشغول تھے، سائل کی آواز اور فقر وفاقہ کا خیال فرما کر نماز کو ذرا جلدی مکمل فرمایا، باہر تشریف لائے سائل کی حالت دیکھی تو اس پر فقر وفاقہ کے آثار نمایاں تھے۔ گھر واپس لوٹے اپنے غلام قنبر کو آواز دی کہ کیا کچھ نفقہ میں باقی ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ آپ کے اہل خانہ کے لیے دو سو دراہم رکھے ہوئے ہیں۔ آپ نے حکم دیا کہ ہمارے اہل خانہ سے زیادہ ان دراہم کا یہ سائل مستحق ہے چنانچہ وہ سارے دراہم اس کو عنایت فرمائے۔
اس سے ہمیں سخاوت اور لوگوں کی خیرخواہی کا سبق ملتا ہے۔
ایمان کے بعد خدمت خلق کا جذبہ ایسی نیکی ہے جو اللہ کی دربار میں جلد قبولیت حاصل کرتی ہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، محمد بن ابی طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مہمانوں کی خدمت کرتے، محبت کرنے والوں کو خوب نوازتے، رشتہ داروں پر خرچ کرتے، محتاج کی حاجت کو پورا کرتے، سائل کو محروم اور خالی ہاتھ واپس نہ لوٹاتے، بھوکوں کو کھلاتے، قرض داروں کا قرض اپنی طرف سے ادا کرتے، کمزوروں کی مدد کرتے، یتیم سے حسن سلوک سے پیش آتے، جب آپ کے پاس کہیں سے مال و دولت آتا آپ اسے لوگوں میں تقسیم فرما دیتے۔ حج کے دنوں میں جب حجاج تشریف لاتے تو آپ ان کو زمزم پلاتے۔
اس سے ہمیں انسانیت کی خدمت کا سبق ملتا ہے۔
اسلام بڑوں کی عزت کا درس دیتا ہے، خاندان نبوت نے اس درس کو صرف سمجھا ہی نہیں بلکہ اہل اسلام کو اپنے عمل سے اس کی تعلیم بھی دی ہے۔ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما نے اکابر صحابہ کرام بالخصوص خلفائے راشدین سے جس عقیدت و محبت کا ثبوت دیا ہے ایسے ادب و احترام کی مثال نہیں ملتی۔ عہد صدیقی میں آپ کم عمر تھے، عہد فاروقی کے آخر میں آپ سن شعور کو پہنچے، عہد عثمانی میں آپ نے بہت سے دینی و ملی خدمات انجام دی ہیں، خراسان، طرابلس، جرجان اور طبرستان کی جنگوں میں مجاہدانہ کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ جب بلوائیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ آپ کے گھر پر محافظ بن کر کھڑے تھے۔ عہد مرتضوی میں آپ اپنے والد کے شانہ بشانہ رہے اس کے بعد عہد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں دونوں شہزادوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کرکے خانوادہ نبوی کی تربیت کا اثر دنیا کے سامنے عملی طور پر پیش کیا۔
اس سے ہمیں خلفائے راشدین اور حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت اور بڑوں کے احترام کا سبق ملتا ہے۔
اکابر صحابہ تو اکابر تھے،حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایک عام آدمی سے بھی نہایت شرافت و عزت سے پیش آتے چنانچہ ایک بار آپ رضی اللہ عنہ نے ایک بڑی عمر کے دیہاتی کو دیکھا اس نے جلدی سے وضو کیا اور نماز بھی اتنی جلدی ادا کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس دیہاتی سے فرمایا:ہم نوجوان ہیں اور آپ عمر رسیدہ ہیں، میں آپ کے سامنے وضو کر کے نماز پڑھتا ہوں اگر کہیں کوئی بات خلاف سنت ہو تو ہمیں تنبیہ فرمائیں چنانچہ آپ نے سنت کے مطابق وضو کیا اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کی جس کی وجہ سے اْس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
اس سے ہمیں موقع کے مطابق گفتگو کرنے کا سبق ملتا ہے۔
شہادت کی تاریخ بہت طویل ہے اس دوران آپ نے جو خطبے ارشاد فرمائے ہیں آپ کی سیرت کی کتابوں میں منقول ہیں۔ شہادت سے ہمیں جو درس ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حق بات پر ڈٹ جانا چاہیے، ظالم کو اس کے ظلم سے روکنے کے لیے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے، اگر کبھی اسلام کی حفاظت کے لیے اپنے اہل و عیال کو پیش کر نا پڑ جائے تو دودھ پیتے معصوم بچوں کی بھی قربانی دے دینی چاہیے۔
شہادت کے بعد اللہ کی رضاء پر راضی رہنا اور صبر و ہمت سے کام لیناہی ’’خاندان حسین‘‘ کا ہمارے لیے پیغام ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مزاج حسینی اپنانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں