مضامین و مقالات

شاہین باغ کامیابی کاسراغ ! ازقلم: فداءالمصطفی قادری مصباحی

آج کل جدھر دیکھیے شاہین باغ ہی کے چرچے ہیں، میڈیاسے لےکر سیاسی میدان تک ہرجگہ ایک ہی عنوان پر گفتگو ہورہی ہے اور وہ ہے *شاہین باغ* ، حکومت اسے اپنی ناکامی کا پیش خیمہ سمجھ کر ختم کرنے کی راہ ڈھونڈ رہی ہے تو عوام اسے *کامیابی کا سراغ* جان کر مزید نئے *شاہین باغ* بنانے کی کوشش میں ہے۔ سیاسی لوگوں کو وہاں سیاست بگھاڑنے کا ایک بہترین اسٹیج نظر آرہاہے تو سماجیات پر گہری نظر رکھنے والے شاہین باغ کو اپنے جائز مطالبات کی تکمیل کا ایک اہم ذریعہ سمجھ رہے ہیں اور انہیں باتوں کی وجہ سے وہاں روزانہ ہر طبقے کے لوگوں کا جماؤڑا نظر آتاہے ، مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ ہمہ وقت آتے جاتے رہتے ہیں۔
*شاہین باغ جہاں ایک کامیاب احتجاجی مرکز کے طور پر متعارف ہے وہیں ایک انتہائی نازک اور حساس مسئلہ بھی بن چکاہے* ۔ اس کی حساسیت کا اندازہ دہلی پولیس کے تیور سے لگایا جاسکتاہے، جو پولیس بات بات میں احتجاجی لوگوں پر لاٹھی، ڈنڈے، پتھر حتی کہ گولی کی بھی بوچھار کرنے میں نہیں ہچکچاتی ہے وہ شاہین باغ پہنچ کر ایک مجبور و بیکس چوکیدار کی طرح گزارش کرتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ ہائی کورٹ کا حکم سناکر لوگوں سے کہتی ہے *آگے آپ لوگوں کی مرضی* کمال کی بات تو یہ ہے کہ باضابطہ مرکزی حکومت نے دہلی پولیس کو نرمی سے پیش آنے کی تاکید کی ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ *اگر یہاں چھیڑ چھاڑ ہوئی تو پھر معاملہ حکومت کے ہاتھ سے نکل جائے گا* اور یہ ہنگامہ صرف ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر برپاہوگا اور یہی حکومت کی سب سے بڑی مجبوری ہے۔

*ہماری مانگیں پوری کرو*
وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب خواتین کو اپنی مانگ رکھ دینی چاہئے، ابھی لوہاگرم ہے ہتھوڑا مارنے میں تاخیر مناسب نہیں۔
جب بھی پولیس یا دوسرے سرکاری افسران وہاں سمجھانے پہنچیں تو خواتین ان سے بس ایک بات کہیں *”جب تک مودی جی یہاں نہیں آئیں گے ہم ایک انچ بھی نہیں کھسکیں گے”* بس یہی نعرہ اور یہی مطالبہ سب کا ہو، اگر میڈیا پہنچے تو بھی ان سے یہی بات کہی جائے کہ *ہم لوگ مودی جی سے بات کریں گے ان کے علاوہ کسی کی نہیں سنیں گے، اگر مودی جی یہاں آکر ہماری بات سنتے ہیں تو ہم یہاں سے اٹھنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں* یہ حربہ ہرحال میں کارگر ثابت ہوگا کیونکہ میڈیا اسے اچھالےگا پھر اپوزیشن کا دباؤ بننا طے ہے ساتھ ہی دہلی کی وہ عوام جو ٹرافک مسئلے سے جوج رہی ہے وہ بھی یہی آواز اٹھائے گی کہ مودی جی وہاں پہنچ کر بات کریں اور ابھی سامنے دہلی کا الیکشن بھی ہے ان حالات کے پیش نظر لامحالہ مودی جی کو آنا پڑےگا۔

*مودی جی سے بات چیت*
اگر مودی جی وہاں پہنچتے ہیں تو میڈیا کی موجودگی میں ان سے وہ خواتین بات کریں جو اپنی باتیں اچھی طرح رکھنا جانتی ہیں یا پھر *قانون پڑھی ہوئی لڑکیاں جو زبان وبیان پر قدرت رکھتی ہیں وہ آگے بڑھ کر بات کریں۔* گفتگو بس اتنی ہونی چاہیے کہ مودی جی آخر کونسا ایمرجنسی کنڈیشن بن آیاہے جس کی وجہ سے آپ کو ملک کے دستور کے خلاف بل پاس کرنا پڑا؟ اگر بات صرف مہاجروں کو شہریت دینے کی ہے تو اس کے لیے پہلے سے ہی ہمارے دستور میں جگہ موجود ہے پھر اس کے مطابق انہیں شہریت کیوں نہیں دے دی جاتی؟ ہم میں سے کوئی بھی انہیں شہریت دینے کا مخالف نہیں بلکہ ہم تو دستور میں تبدیلی کی مخالفت کررہے ہیں۔ اگر آپ کو باہر کے لوگوں کو شہریت دینی ہے تو شوق سے دیں ہماری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں مگر یہ *شہریت دستور ہند کو بدل کر نہیں بلکہ دستور کے مطابق دیجیے۔* اگر آپ کو ہمارا یہ مطالبہ منظور ہے تو آج ہی "سی اے اے” کی منسوخی کا اعلان کیجیے ورنہ ہم مرجائیں گے مگر یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔
*واللہ اگر اس مفہوم کی گفتگو کی گئی تو بی جے پی کے خوابوں کا شیش محل دھرام سے زمین بوس ہوجائےگا* ، اگر وہ خواتین کی بات نہ مانیں تو پھنس جائیں گے کیونکہ خواتین بھی باہری لوگوں کو شہریت دینے کے حق میں ہے مگر دستور ہند کے مطابق اور اگر مان گیے پھر تو ہماری آرزوؤں کی معراج ہوجائے گی ۔

*ملک بنے شاہین باغ*
22 جنوری سے "سی اےاے” کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سنوائی شروع ہوگی اس سے پہلے ہمیں ایسے حالات بنادینے ہیں کہ جن کی وجہ سے سپریم کورٹ کو "سی اےاے” پر روک لگانی پڑے اور وہ حالات نہ تو سپریم کورٹ کو خط لکھنے سے بنیں گے اور نہ دستخطی مہم چلانے سے بلکہ ایسے حالات بنانے کے لیے ہمیں پورے ملک کو شاہین باغ بنانا پڑے گا، پھر سے پرامن احتجاج کی ایک آندھی لانی پڑے گی، احتجاج کا ایک ایسا سیلاب پیدا کرنا پڑےگا جو ایوان حکومت کی در ودیوار ہلاکر رکھ دے اگر ہم نے پورے ملک کو شاہین باغ میں تبدیل کردیا تو سپریم کورٹ کو ملک کی سالمیت اور معیشت کی حفاظت کے لیے "سی اےاے” پر پابندی لگانی پڑے گی کیونکہ یہ دستور کے اصول میں سے ہے کہ اگر کسی نئے بل کی وجہ سے ملک کی سالمیت یا معیشت کو خطرہ ہو تو اس پر روک لگادی جائےگی اب چاہیں وہ بل ایوان کا طے شدہ ہو پھر یا صدر جمہوریہ کا۔

*پچاس شاہین باغ*
اگر ہر جگہ نہیں تو کم از کم ملک بھر کے پچاس شہروں میں شاہین باغ کے طرز پر احتجاجی کیمپس لگانے پڑیں گے۔ ہرصوبے کے بڑے شہر کی مشہور جگہ پر یہ کیمپ لگایا جائے اور اس طرح کے کیمپس تقریبا ہر صوبے میں دوچار ہوں ساتھ ہی یہ بھی کوشش رہے کہ کیمپس میں زیادہ تر خواتین ہوں، وہاں کسی تنظیم یا تحریک کا نام یا بورڈ ہرگز نہ ہو ورنہ اس تنظیم یا تحریک کے ذمہ داران کو گرفتار کرکے فورا احتجاج بند کروادیا جائےگا۔
*یادرہے کہ اس وقت اس سے زیادہ مؤثر طریقہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔*

*بھوک ہڑتال*
اگر ممکن ہوتو ایک دو کیمپ بھوک ہڑتال کے بھی لگائے جائیں یا پھر انہی کیمپس میں کچھ خواتین بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں اور زور وشور سے اس کی تشہیر کی جائے، اگر ہم اس میں کامیاب ہوئے تو واقعی میڈیا،حکومت اور National Human Rights Commission سب کے سب حرکت میں آجائیں گے۔ ان سب باتوں سے ہمارا مقصد بس یہ ہونا چاہیے کہ چاروں طرف سے حکومت کو گھیر لیا جائے،احتجاج کی ہر ممکن صورت اپنائی جائے اور خاص کر ان طریقوں کو تو ضرور اپنایا جائے جو زیادہ مؤثر اور زود اثر ثابت ہوسکتے ہوں مگر ان میں سے کسی میں بھی توڑ پھوڑ یا آگ زنی جیسے جرائم ہرگز نہیں ہونے چاہیے ۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close