مضامین و مقالات

اب ملک کو مقتل بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ! زین العابدین ندوی     

اب ملک کو مقتل بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ! زین العابدین ندوی

دارالعلوم امام ربانی ؒ، نیرل ۔ مہاراشٹر

راجیہ سبھا میں ایک بار پھر ملکی آئین کی جس طرح دھجیاں اڑائی گئیں ہیں ، اور کروڑوں ہنددوستانیوں کی آواز پر کان لگائے بغیر جس بد دیانتی اور گنڈا گردی کے ساتھ "سیٹیزن شپ امینڈمنٹ بل ” کو منظوری دی گئی ہے ، اس ناانصافی اور ظلم کے بعد اس ملک کو مقتل بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ، خانہ جنگی ہی اب اس ملک کا مستقبل ہے ، یہاں یہ ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ اس بل میں کیا خامیاں ہیں اور کتنی خرابیاں ہیں ، یہ دنیا جانتی ہے اور دونوں ہی ایوانوں میں اس پر کھل کر بات آچکی ہے ، لیکن ان باتوں کا کوئی اثر اس لئے نہیں دکھتا کہ اس سرکار نے اس ملک کو تباہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے ، اس کی آنکھوں میں ہندوستان کا موجودہ نقشہ نہیں بھاتا ہے ، میں یہ کوئی ہوا ہوائی بات نہیں کرتا بلکہ تاریخ میں ایسے واقعات بارہا پیش آچکے ہیں ، اور یہی سنت الہی بھی ہے ، یہاں کی زمین اب پوری طریقہ سے سرخ ہونا چاہتی ہے اور یہ خواب بہت جلد پورا ہونے والا ہے ، یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد ملک کا آئین نا قابل اعتبارہو چکا ہے ، اس لئے کہ اب یہ سیکولر ملک کے بجائے ایک ڈکٹیٹر ملک کا قانون بنتا جا رہا ہے ، اور ہم ہندوستانی سیکولر قانون کے پابند ہیں اس لئے ہم ایسے بل کو نا قابل عمل قرار دیتے ہوئے اس کا کنڈم کرتے ہیں اور یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مجبور نہیں کر سکتی ، اگر اب کسی نے ہم سےہندوستانی ہونے کا ثبوت طلب کیا تو اس کا یا ہمارا آخری دن ہوگا ، کل انگریزوں کے تلوے چاٹنے والوں نے اپنی ناجائز پالیسی کی بنیاد پر پاکستان کو تقسیم کیا اور آج اس ظلم کی اگلی قسط پوری کرتے ہوئے ناجائز بل نافذ کرنے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں ، کل بھی انہوں نے ان کے تلوے چاٹے اور آج بھی اسی پالیسی کی عمل درآمدی میں لگے ہوئے ہیں ۔

مجھے کسی سے شکوہ نہیں اور نہ ہی یہ شکایت کا موقع ہے، جمعیت ہو یا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، محمود مدنی ہوں یا ولی رحمانی ،  کیوں کہ میرا ماننا ہے کہ خرابی اس وقت تک جنم نہیں لیتی جب تک کہ قائدین اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئےاس کی ادائیگی کرتے ہیں ، لیکن جب شامت آجاتی ہے تو قائدین کی قیادت ہوا ہو جاتی ہے ، اور ایسے سخت حالات میں ان کی زبانوں پر بھی تالے لگ جایا کرتے ہیں ، عمل واقدام کا تو لفظ ہی ان کے دماغ سے محو ہو جاتا ہے ، جس کا مشاہدہ ہم کئی سالوں سے کرتے آرہے ہیں ، خود تو خاموش رہتے ہی ہیں اور بولنے والوں کو بھی خاموش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، چھوڑئیے انہیں ان کے کمروں میں بیٹھے رہنے دیجئے ، عمر کا تقاضہ بھی یہی ہے ، مگر آئیے ہم سب یہ عہد کرلیں کہ ہم سب مل کر اس ملک اور ملت  کی خدمت کریں گے اور ہم میں سے ہر ایک خود کو اس ملک کا خادم سمجھے گا  اور کاغذی اور نام نہاد قائدین  کو اپنے پاوں کی ٹھوکروں پر رکھتےہوئے اپنے مشن کو جاری رکھیں گے ، اور یہ عہد کرلیں کہ ہم اپنے ہندوستانی کا کوئی ثبوت نہیں دیں گے ، اس کے لئے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے اور کہیں بھی جانا پڑے ہم تمام اذیتیں برداشت کرنے کے لئے ہم تیار ہیں  ۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close