مضامین و مقالات

تیس کروڑ مسلمان این، آر، سی کا بائیکاٹ کریں- ایک منٹ کا کالم : آفتاب اظہرؔ صدیقی

شہریت ترمیمی بل پاس ہونے کے بعد این، آر، سی کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے سوائے اس کے کہ اس سے لاکھوں مسلمانوں کی مشکلات بڑھیں گی اور کروڑوں مسلمان کاغذات کی تصحیح کے لیے دربدر بھٹکیں گے-
جنہیں سپریم کورٹ جانا ہے جائیں، لیکن بابری مسجد فیصلے کے بعد اور فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست خارج کردیے جانے کے بعد یہ سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے کہ اب عدالت عظمیٰ کو بھی انصاف سے کوئی سروکار نہیں رہا، بلکہ وہاں بھی حکومت وقت کی منشا کے مطابق کام ہو رہا ہے-
احتجاج جاری رہنا چاہیے:
جو لوگ یہ بکواس کر رہے ہیں کہ احتجاج کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، ان سے کہو کہ آپ کو احتجاج کرنا آیا ہی نہیں- عجب غضب بات یہ ہے کہ جو احتجاج کو مسئلے کا حل نہیں مانتے وہ خود کروڑوں کروڑوں کی بے جا کانفرنس کروا کر مسئلے کا حل تلاش کرتے رہے ہیں-
احتجاج ہر جگہ ہونا چاہیے اور مستقل ہونا چاہیے اور خاموش احتجاج کیا ہوتا ہے؟ بنا بولے کیسا احتجاج؟ کیا آپ گونگوں کے احتجاج کی بات کر رہے ہیں؟
احتجاج پرزور ہو، اس قدر شور ہو کہ ملک کا چپہ چپہ ہل جائے- ہم فساد مچانے کی بات نہیں کر رہے ہیں، بلکہ زبان رکھنے والے مظلوموں کو چیخنے کی نصیحت کر رہے ہیں-
یہ کیا عقل مندی ہوئی کہ آپ کے گھر میں چور گھس آئیں اور آپ آواز لگاکر دوسروں کو بیدار بھی نہ کریں!! جبکہ یہاں ہمارے گھر میں نہیں، بلکہ پورے ملک میں ہندو راشٹر نامی ڈاکو گھس چکا ہے، اس کے خلاف اتنا شور مچاؤ کہ پورا عالم تمہاری طرف متوجہ ہوسکے-
کئی روز سے احتجاج جاری ہے، دہلی آسام، کیرلہ، کرناٹک، یوپی، بہار، بنگال اور دیگر صوبوں میں احتجاجات ہوئے اور ہورہے ہیں، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ دوسرے ملکوں کی حکومتیں اس طرف دھیان دینے لگیں، جمہوریت پسند ملکوں میں پیغام گیا کہ ہندوستان کی جمہوریت تباہ کی جارہی ہے، میڈیا میں بحث کا مدعا بنا، ہندو، سکھ، دلت بھائی بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے-
ایک بات سمجھ لیجیے جیسے حکومت کے کچھ فیصلے عوام کی پریشانی کا سبب بنتے ہیں ویسے ہی عوام کے کچھ فیصلے حکومتوں کی نیند اڑا دیتے ہیں، جن میں سب سے اہم رول عوامی احتجاج کا ہے، جب تک احتجاج ہوتا رہے گا، حکومت کی پریشانی بڑھتی رہے گی-
مقدمہ درج ہوا تو؟
   ارے بھائی! احتجاجات کو روکنے کا سب سے آسان طریقہ یہی تو ہے کہ چند جگہوں پر مقدمات درج کیے جائیں گے، چند سو لڑکوں کو جیل میں بند کیا جائے گا اور پھر یہ خبر سن کر دوسرے لوگ سرد پڑ جائیں گے، احتجان رک جائے گا اور انہیں رہا کردیا جائے گا- میں کہتا ہوں پورے تیس کروڑ مسلمان سڑک پر آجائیں، مقدمہ درج کیا جائے تو پورے تیس کروڑ مسلمانوں پر کیا جائے، ہم بھی دیکھتے ہیں کہ ملک کے جیلوں میں کتنی وسعت ہے!
آخر ہم اپنی اجتماعی طاقت کو کب سمجھیں گے؟
اب ہم سب کا، ہر تنظیم کا، ہر قائد ملت اور امیر شریعت کا اور ملک کے پورے تیس کروڑ مسلمانوں کا یہی ایک فیصلہ ہونا چاہیے کہ جب تک سی، اے، بی واپس نہیں لوگے، ہم این، آر، سی کے لیے کوئی کاغذ جمع نہیں کرائیں گے، این، آر، سی کا مکمل بائیکاٹ کریں گے، کس کی ہمت ہے جو تیس کروڑ مسلمانوں کو غیرملکی قرار دے سکے-
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close