مضامین و مقالات

شہریت ترمیمی بل جمہوری نظام کے لئے خطرہ  ! عارف حسین طیبی 

شہریت ترمیمی بل پہلے لوک سبھا اب خبر آرہی ہے کہ راجیہ سبھا میں بھی بلا کسی چون وچرا کے بڑی آسانی سے پاس ہوگیا اب صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد جلد ہی قانونی شکل بھی اختیار کرلے گی اس بل کے پاس ہونے سے جہاں پورے ملک میں افراتفری اور سراسیمگی کا ماحول ہے وہیں آسام کے تیرہ لاکھ ہندووں کا اب بغیر کسی تام جھام کے ہندوستانی شہری بننے کا راستہ بھی صاف ہوگیا ہے اصل مصیبت ان سات لاکھ آسامی مسلمانوں کے اوپر آن پڑی ہے جو بے بیچارے سرزمین ہند میں پشتوں سے سکونت پذیر ہیں لیکن متنازع این آرسی کے ذریعہ ملک سے بے دخلی کا فرمان جاری ہوچکا ہے اب ان لوگوں کی زندگی کن مراحل سے گزرے گی کوئی نہیں جانتا اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے وہ لاچار بے بس مسلمان کبھی ہائی کورٹ تو کبھی سپریم  کورٹ کا چکر لگاتے پھرینگے  لاکھوں روپے خرچ ہوجانے بعد بھی اگر  اپنی شہریت  نہیں ثابت کر پائے تو انہیں ٹریبونل کا رخ کرنا پڑے گا اگر وہاں بھی نا امیدی ہاتھ لگی تو ایسے لوگوں کو حکومت ڈیٹینشن سینٹر میں بھیڑ بکریوں کے طرح ٹھونس دے گی جہاں جیل سے بھی زیادہ  بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے
 در اصل اس بل کے پیچھے مسلم دشمنی اور تعصب زدہ ذہنیت اس طرح حاوی ہوگئی کہ اس بل کے پاس کرانے میں دستور ہند کی ہر ہر ساکھ کاری ضرب کی گئی ہے
 اسوقت ہندوستان میں جمہوری اقدار کی پامالی
آئین ہند اور عدلیہ کے شفاف چہرے کو بدنما کرنے کا ٹرینڈ شباب پر ہے آمریت پسندی اور ڈیکٹیٹر شپ کو پرموڈ کیا جارہا ہے مذہبی آزادی جدت پسندی کے نام پر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے
اور  ملک ڈیکٹیٹر شپ اور ہلٹر واد کی اس خطرناک آندھی کی زد میں جہاں  وحشت و ہیبت کا وہ خوفناک منظر ہے جس سے  ملک کی ایکتا کو زمین بوس ہوتے دیر نہیں لگے گی آمریت کا زور اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس ملک میں  صرف ایک آدمی کا سکہ چلتا ہے اور وہ شخص اتنا بے مروت ہے کہ کسی کا نہیں سنتا ہے اور نہ ہی اس پرکسی کا بس چلتا ہے
سیٹیزن شپ امیڈمینٹ بل  (CAB )اور نیشنل رجسٹریشن سیٹیزن شب بل (NRC) کے ذریعے ملک کی ایکتا اور اکھنڈتا کو تاراج کیا جارہا ہے ہندو مسلم میں جو صدیوں پرانی بھائی چارگی اور اپنے پن کے ماحول تھا اس کو بڑی ہی بے دردی کچلا چارہا ہے فاشزم طاقتیں مذہبی شناخت کو بنیاد بناکر ملک کو تقسیم کرنے کرنے لئے ایڑی چوٹی کی زور لگا رہے  اور یہ بات روز روشن کیطرح عیاں ہے کہ شہریت ترمیمی بل اور این آر سی کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں پر ظلم و استبداد کے پہاڑ توڑے جانے کی پوری تیاری مکمل ہوچکی ہے اس سیاہ بل کے پیچھے حکومت  کی منشاء اور نیت  بالکل صاف نظر نہیں آتی اور یہ بات پوری طرح صداقت پر مبنی ہے کہ اس سیاہ بل کے ذریعے ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکے اور مسلمانوں کو غلامی کی دلدل میں ڈھکیلنے کا پہلو صاف نظر آتا ہے وزیر داخلہ امت شاہ کا لوک سبھا میں کہی گئی ایک ایک بات ملک کو ہندو راشٹر بنانے طرف ایک مضبوط قدم مانا جارہا ہے شاید کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے ورنہ کیا وجوہات ہیں جو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کے مسلمانوں کی حب الوطنی اور انکی شہریت پر شک کے چھینٹے پھینکے جارہے ہیں اور حکومت  مسلمانوں کو ٹارگیٹ  کرنے کے لئے این آر سی لا ڈر دکھا کر اپنی ووٹ بینک کی راج نیتی کر رہی ہے  جو دستور ہند کےخلاف ہے
مسلمانوں نے اس ملک کے لئے جتنی قربانیاں دی ہیں اسے کوئی فراموش نہیں کرسکتا اس لئے ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے آخری حد تک اس بل کی مخالفت میں پیش پیش رہیں اگر پھر بھی کوئی زبردستی ہم پر این آرسی تھوپنا چاہتا ہے تو ہم سب ایک آواز میں ان سے یہ کہیں گے کہ ہم اس بل کو نہیں مانتے  اگر کسی میں ہمت ہے تو پچیس کڑور مسلمانوں کو اس ملک سے نکال کر بحر عرب بہا دے لیکن اس بل کی تائید میں ہم کبھی نہیں کھڑے ہونگے
اپوزیشن کو بھی چاہیئے کہ پوری شدومد کے ساتھ اس سیاہ بل کی مخالفت میں کھڑے ہوجائیں اگر ملک کی جمہوری اقدار اور سیکولزم کی تانے بانے کو بچانا ہے تو ایک جٹ ہوکر پورے ملک میں موجودہ حکومت کی خوفناک ارادے کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ لوگ جو جمہوریت، ہندوستانیت اور انسانیت کی خوبصورت اور حسین سنگم پر  یقین رکھتے ہیں کم از کم ایسے افراد اس ڈیکٹیٹرشپ اور ہٹلر واد اور ملک کو توڑنے والی لابی سے ہوشیار ہوجائیں گے
اور بالخصوص مسلمانوں کو اس طرح کے سیاسی حربوں سے بالکل خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ ملک ہم سب کا ہے اور ہم سب صدیوں سے اس ملک کی تہذیب و ثقافت کے امین  اور سماجی ، سیاسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں نمایا کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں دہلی کے قطب مینار کی بلندی ، تاج محل کی خوبصورتی ، لال  قلعہ کی فصیل اور جامع مسجد کے مینارے چیخ چیخ کر یہ گواہی دے رہے ہیں کہ اس ملک سے مسلمانوں کا ناطہ صدیوں پرانی ہے
ہمیں اس ملک سے محض این آر سی  یا چند کاغذوں کے ٹکڑوں کو بنیاد بناکر کوئی باہر نہیں نکال سکتا
جہاں ایک طرف وزیر اعظم سب کا ساتھ سب کا وکاس  اور سب کی اعتماد جیتنے کی بات کرتے ہیں
تو وہیں دوسری طرف اسی کا دایاں ہاتھ ملک کی ہم آہنگی اور ہندو مسلم اتحاد و اتفاق کو توڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کے زور لگا رہے ہیں آ خر اتنی نفرت کہاں سے آتی ہے  ہمیں سمجھنا ہوگا آج ملک کو توڑنے والی طاقتیں  پوری طرح ایکشن میں آگئی ہے جو قانون کی بالادستی اور اسکی دسترس کو اپنے ناپاک ارادوں سے نیست ونابود کرنے دینا چاہتے ہیں
اسلئے بلا تفریق مذاہب و ملل اس سیاہ بل کی مخالفت میں سڑکوں پر اترنا ہوگا
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close