مضامین و مقالات

حیدرآباد انکاؤنٹر، کیا مظلوم کو انصاف مل گیا؟ شہاب مرزا

حیدرآباد انکاؤنٹر، کیا مظلوم کو انصاف مل گیا؟

شہاب مرزا، 9595024421
گزشتہ دنوں حیدرآباد میں ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کا واقعہ پیش آیا تھا اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اس معاملے میں پولیس نے چار ملزمین کو گرفتار کیا تھا جنہیں بعد میں پولیس نے انکاؤنٹر میں ڈھیر کر دیا پولیس کے مطابق ملزمین ہتھیار چھین کر بھاگ رہے تھے جس میں پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کو ڈھیر کردیا جو کہانی ہر انکاؤنٹر میں ہوتی ہے وہی کہانی دوہرائی گی اس میں کتنی سچائی ہے اس کی جانچ ہونا ابھی باقی ہے
بہرکیف ہیومن رائٹس کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے سوال یہ بھی پوچھا جائے گا کہ مارے گئے ملزمین کے خلاف پولیس کے پاس ایسے کیا ثبوت تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس معاملے کا اصل مجرم وہی تھے کیا ان ملزمین پر جو گناہ درج کئے گئے وہ ثابت ہوگئے تھے یا انہیں شک کی بناہ پر ناکامی چھپانے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس معاملے کے بعد عصمت دری کے مجرموں کو بھیڑ کے ہاتھوں انصاف ملنے کے واقعات میں اضافہ ضرور ہوگا جس میں اصل خاطیوں کے علاوہ بے گناہ بھی مارے جائیں گے جن کے خلاف سازشیں طور پر گنا درج کرایا گیا ہوں
آخر ایسا کیوں ہوا ؟ کیا ہندوستان کی عدالت اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ اب عدالت کے فیصلے سے پہلے پولیس فیصلہ کریں گے وہ بھی بنا تصدیق کیے کہ یہ ملزم ہے مجرم! اس کے اصل وجہ ہے انصاف میں تاخیر…
انصاف میں تاخیر کی وجہ سے عوام کا عدلیہ سے بھروسہ اٹھتا جارہا ہے تاریخ پر تاریخ ملنے سے عوام کا دم گھٹنے لگا اسلئے حکومت کو چاہیے عصمت دری کے معاملات کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات روبہ عمل لائے جس سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد باقی رہے یہ اقدامات جلد کرنا ضروری ہے ایسا نہ ہو حکومت کے فیصلے سے قبل بھیڑ جذباتی ہوکر خود انصاف کرنے لگ جائیں یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد پولیس جانب سے کیے گئے انکاؤنٹر کی ستائش کی جارہی ہے انکاؤنٹر کی ستائش نا کی جائے تو بہتر ہے پولیس کے ذریعہ قانون کو ہاتھ میں لے کر ملزم کا قتل کرنا انصاف نہیں ہے ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ گرفتار افراد واقعی مجرم تھے یا نہیں کسی کو بھی قانون کے مقررہ عمل کے بعد ہی سزا دی جانی چاہیے انکاؤنٹر علاج نہیں صرف نشے کا انجکشن ہے جس سے درد کا احساس کم ہو سکتا ہے درد پوری طرح ختم نہیں ہو سکتا
اور اگر یہ فرضی انکاؤنٹر ثابت ہوا تو جو بے گناہ قتل ہوئے ان کا کیا؟؟؟ کیونکہ ایک ناحق کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے اور عدالتی عمل سے قبل انکاؤنٹر کی تائید کرنا معاشرے کو جنگل راج کی طرف لے جارہا ہے اسکی تائید میں کھڑے ہونا ملک کی عدلیہ قانون کے لیے نقصان دہ ہے مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ موثر نظام بنائیے تاکہ اسطرح کے حالات پھر سے پیدا نہ ہو اور عوام انکاؤنٹر قبول کرنے لگ جائیں انصاف میں دیری ہی انصاف کا قتل ہے
اس بات سے حکومت بھی واقف ہے کی عدالتوں کے فیصلے میں دیری ہو رہی ہے پھر بھی حکومت اس جانب توجہ نہیں دیتی اور نہ ہی کوئی ٹھوس اقدامات کرتی ہے راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے تحریری جواب میں کہا تھا کہ ملک میں 43 لاکھ 55ہزار کیس ہائیکورٹس میں التواء میں پڑے ہیں جن میں 18 لاکھ 75 ہزار سیول کیس ہے اور 12 لاکھ سے زائد کرمنل معاملوں پر سنوائی ہونا باقی ہے
اس طرح یکم جون تک کے ریکارڈ کے مطابق ایک لاکھ 58 ہزار 669 کیس سپریم کورٹ میں التواء میں ہے
روی شنکر پرساد کے مطابق التواء میں پڑے معاملوں میں 26 لاکھ مقدمے پانچ سال سے کم پرانے ہے جبکہ 8 لاکھ مقدمے ایسے ہیں جو دس سال سے زائد پرانے ہے وزیر قانون نے ان مقدمات میں دیری کی وجہ بتانا ضروری نہیں سمجھا اور نہ ہی اس معاملے کیلئے ان کے کیا اقدامات ہوں گے وہ بتاسکے
یہ مقدمات التوا میں پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہائی کورٹ کے ججوں کی تعداد کم ہے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ریٹائرمنٹ سے قبل وزیراعظم کو لکھے خط میں واضح کیا تھا کہ ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد کم ہے موجودہ وقت میں 909 پوسٹ جن میں سے 37 فیصد منظور شدہ پوسٹ خالی ہے جن پر تقرر کرنا باقی ہے لیکن حکومت کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے ان فیصلوں میں تاخیر سے عوام کا عدلیہ پر سے بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے اگر عدلیہ فیصلہ دینے میں تاخیر کر رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس انصاف کردے اور اگر پولیس کے ہاتھوں انصاف کرانا ہے تو پھر عدالتوں کو تالے لگا دینا چاہیے
پولیس کے اِنکاؤنٹر کرنے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکی لیکن جو کہانی بتائی جارہی ہیں وہ کسی فلم کی اسٹوری سے کم نہیں ہے ہو سکتا ہے جو عوام عورتوں کے تحفظات کو لے کر احتجاج کر رہی تھی انہیں خاموش کر نے یا اصل ملزموں کو بچانے اور اس کیس کو ختم کرنے کے لیے انکاؤنٹر کیا گیا ہو اس کے علاوہ اپنی ناکامی چھپانے اور عوام کا دھیان بھٹکانے کے لئے بھی یہ انکاؤنٹر کیا جا سکتا ہے کیونکہ ملزمین کو گرفتار ہوئے 6 دن ہی ہوئے تھے اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ چھ دنوں میں یہ ملزم سے مجرم بن گئے تھے؟؟؟
یقینا ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے ساتھ جو کیا گیا وہ انسانیت کو شرمسار کرتا ہے لیکن اس انکاؤنٹر سے پرینکا ریڈی کو انصاف نہیں مل سکا کیونکہ ابھی مکمل تصدیق نہیں ہوئی تھی کہ یہ اصل مجرم تھے یا بے گناہ.! عصمت دری کے خلاف سخت قانون بنانے کے بجائے انکاؤنٹر کرکے عوام کو ٹھنڈا کردیا گیا اور اسی کے ساتھ احتجاج بھی بند ہوگیا ہونا تو یہ چاہیے تھا عصمت دری کی ایسی سزا رائج کی جائے کہ اگلی بار کوئی کرنے سے پہلے ڈر ے اور مجرم سزا اس سے نجات کے لئے موت مانگے بہر کیف اس کیس میں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے پولیس نے انکاؤنٹر اپنے دفاع میں کیا ہے متاثرہ کے لیے..
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close