مضامین و مقالات

واقعی بیٹیوں کی تربیت ایسی ہی کرنی چاہیے! تحریر ✒️فیاض احمد صدیقی

واقعی بیٹیوں کی تربیت ایسی ہی کرنی چاہیے

تحریر ✒️فیاض احمد صدیقی انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :::
                         ______====______
شادی کےتین سال کے بعد ساسو ماں نے بہو سے پوچھابہو مجھے ایک بات تو بتا! میں تجھے اتنی خراب اور کھری کھوٹی باتیں سناتی ہوں اور تو پلٹ کر جواب بھی نہیں دیتی اور غصہ بھی نہیں کرتی بس ہنستی رہتی ہے! ایسا کیوں؟
 بہو کو تو جیسے سنانے کو کہانی مل گئی-
کہنے لگی اماں جی! آپ کو ایک بات سناتی ہوں- میں جب چھوٹی تھی مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ میری ماں میری سگی ماں نہیں ہے، کیوں کہ وہ مجھ سے گھر کے سارے کام کرواتی تھی اور کوئی کام غلط ہو جاتا تو مجھے بہت ڈانٹ بھی پڑتی اور کبھی کبھی ماربھی دیتی تھی-
 لیکن ماں تھی وہ میری اور ان سے ڈر بھی لگتا تھا تو کبھی غصہ نہیں کیا میں نے ان سے –
 یہاں تک کہ میں کالج سے تھک کر واپس آتی، تو آتے ہی کچھ دیر ریسٹ کے بعد مجھے کام کرنا ہوتا تھا، پھر جب میری بھابیاں آئیں، تب تو جیسے میرے کام زیادہ بڑھ گئے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بہو آئی تو ساری ذمہ داریاں اس پر ڈال دی جائیں، لیکن میری امی نے پھر بھی مجھ سے ہی زیادہ کام کروایا اور کبھی بھی بھابھیوں کو نہیں ڈانٹا؛ بلکہ ان کے کام بھی مجھے ہی کرنے کو کہہ دیتی-
 خیر ہے پھر کیا ہوتا، ان کا ایک جملہ ہمیشہ مجھے یاد رہتا ہے-
*وہ کہتی تھی خیر ہے نمرہ اگلے گھر جا کر تجھے مشکل نہیں ہو گی اور میں اِس جملے سے چڑ گئی تھی*
جب میری شادی تھی تو دو دن پہلے مجھے اپنے پاس بیٹھایا اور بولی بیٹا آج تک سمجھ میں تیری ساس تھی، میں نے تجھے پریکٹس کروا دی ہے، تجھے بتا دیا ہے کہ ساس کیسی ہوتی ہے، اب سے میں تیری ماں ہوں، اب تیری شادی ہو رہی ہے، تو بیٹا جب تمھاری ساس تمہیں کچھ کہے تو سمجھنا کہ میں کہتی تھی جیسے ویسے ہی تیری ماں تجھے ڈانٹ رہی ہے-
 بس یہی بات تھی جو مجھے آپ کی باتیں بری نہیں لگتی کیوں کہ مجھے پریکٹس کروا کے بھیجا ہے میری امی نے-
 اور ساسو اماں جی! آپ نے تو کبھی اتنا دانٹا ہی نہیں جتنا امی ڈانٹتی تھی-
 توبہ توبہ
  بہو ہنستی ہوئی کچن میں چلی گئی اور ساس سوچتی ہی رہ گئی کہ واقعی بیٹیوں کی تربیت ایسی ہی کرنی چاہیے-
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close