مضامین و مقالات

آہ اے بابری مسجد ! ذوالقرنین احمد

آہ اے بابری مسجد ! ذوالقرنین احمد
9096331543

بابری مسجد کی شہادت کی 27 ویں برسی ہے، 6 دسمبر 1992 میں آر ایس ایس اور اسکی ذیلی تنظیموں نے مل کر ایودھیا میں بابر کی تعمیر کروائی گئی مسجد کو شہید کردیا تھا۔ یہ سب منصوبہ بند تیاری کے ساتھ کیا گیا تھا۔ لاکھوں کی تعداد کارسیوک مختلف مقامات سے بلائے گئے تھے۔ گجرات کے سوناتھ سے رتھ یاترا نکالی گئی اور رام مندر کیلے مہم چھیڑ دی گئی بے بنیاد قبضہ کرنے کیلے رات و رات مسجد میں مورتیاں رکھی گئی، مسجد کے چبوترے پر پوجا پاٹ شروع کی گئی، مسجد کہ تالا ڈال دیا گیا۔ اور مسجد میں نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کردی۔ جس کے بعد عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا لیکن ایک جھوٹے سروے کی رپورٹ پہلے ہی تیاری کر لی گئی، متنازع اراضی پر ملکیت کے مقدمہ کو آستھا پر فوقیت دی گئی۔ دو ہزار دس میں الہ آباد ہائی کورٹ نے نرموہی اکھاڑا ، بابری مسجد، اور رام جنم بھومی پر ثالثی کا فیصلہ صادر کیا۔ جس کے بعد اس فیصلہ پر سبھی نے نا اتفاقی ظاہر کی،اور پھر اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیت علمائے ہند نے اس مقدمے کی پیروی کی۔
ملک کی سب سے بڑی عدالت  نے ۹ نومبر 2019 کو جس سے مسلمانوں کو انصاف کی امید تھی اسکا فیصلہ آستھا کی بنیاد پر سنا دیا گیا۔ اور یہ ایک غیر منصفانہ فیصلہ سنایا گیا۔ جس سے ملک کی انصاف پسند عوام اور کروڑوں مسلمانوں کے جزبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ جب جب 6 دسمبر آئے گا اس دن مسلمان اس دن کو بابری مسجد کی شہادت کے درد کو اسی طرح محسوس کریں گے جس طرح 92 میں کیا تھا۔ اسلامی شریعت کے مطابق جہاں ایک مرتبہ مسجد تعمیر ہوجاتی ہے وہ تا قیامت تک کیلے مسجد ہی رہتی ہے۔ اس میں کوئی بھی فریق یا فرد دخل اندازی نہیں کر سکتا ہے۔ لیکن مرکزی اقتدار پر دوسری مرتبہ اقتدار میں آئی حکومت نے اپنی مسلم دشمنی کا ثبوت دیا اور ایک طبقے کو خوش کرنے کیلے یہ قدم اٹھایا گیا جبکہ رام مندر کی تعمیر انکے انتخابی منشور میں بھی  تھا۔ جسے انھوں نے کر کے دکھایا چاہے انہوں نے قانون اور انصاف کا قتل کیا ۔
جس وقت فیصلہ سنایا گیا تو سپریم کورٹ نے اس بات کو تسلیم بھی‌ کیا کہ بابری مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی، اور اسی طرح بابر نے مسجد کی تعمیر کروائی تھی اس بات کو بھی تسلیم کیا، مزید سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ 1949میں غیر قانونی طور‌پر مورتیاں رکھی گئی تھی، اور مسجد کو شہید کرنا غیر قانونی عمل تھا۔ اسی طرح جب سب کچھ صاف تھا، تو پھر مسجد کو شہید کرنے والوں کو سزا کیوں نہیں سنائی گئی ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ یہ کہا ہے کہ مسلم فریق اپنے ملکیت کو صحیح طرح ثبت نہیں کر سکے۔ اور پھر دوسری طرف 5 ایکر زمین دوسری طرف دینے کا فیصلہ بھی سنایا گیا ہے۔ دراصل یہ فیصلہ قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دیا گیا ہے۔ یا پھر خود کو شتر مرغ کی طرح ریت میں سر سمجھ کر دیا گیا ہے۔ تاریخ کبھی یہ نہیں بھولے گی کہ مسلمانوں کی بابری مسجد کو بے بنیاد اور جھوٹے دلائل غیر قانونی طور پر شہید کرکے برسوں ایک جمہوری ملک میں سیاست کی گئی اور پھر ہندؤ کو آستھا کی وجہ سے یکطرفہ فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔

مجھے یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے۔ اور دل خون کے آنسوں روتا ہے، جب یہ خیال دل میں آتا ہے، ایک تو یہ زخم ہی کیا کم تھا جو 92 میں مسجد کو ظلم و جبر اور اپنی حکومت کی طاقت کے نشے میں چور ہوکر دن کے اجالے میں اور قانون کے رکھوالوں کی نظروں کے سامنے شہید کردیا گیا۔ جس کا زخم تا قیامت مسلمانوں کو دلوں میں تازہ اور ہرا بھرا رہے گا۔ لیکن جو فیصلہ گزشتہ ماہ ۹ نومبر کو  سنایا گیا جسے تاریخی فیصلہ کہا جارہا تھا۔ اس دن کو جمہوری ملک کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، اور قانون و انصاف کے قتل کے طور پر یاد کیا جائےگا گیا۔ آج یہ تصور مجھے اندر ہی اندر دمک کی طرح کھائے جاتا ہے کہ میری بابری مسجد کو مسلمانوں کی کروڑوں کی آبادی کے ہونے کے باوجود اور انکے قیادت ہونے کی باوجود انکی نظروں کے سامنے اللہ کے گھر کو توڑ کر وہاں غیراللہ کی عبادت کی جائے گی، جس گھر میں کبھی اللہ اکبر کی صدائے بلند ہوا کرتی تھی اب وہاں غیراللہ کا زکر ہوگا۔ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اللہ کی طرف بلایا اور زندگی پھر وحدت حق کی دعوت پیش کی اور شرک و کفر کو ایسی عزیت قرار دیا جیسے آگ میں ڈالے جانے سے ہوتی ہے۔ اتنی بڑی مسلم عوام کے سامنے مسجد کو شہید بھی کبھی کیا گیا اور اب قانونی طور پر بے خوف ہوکر وہاں مندر کی تعمیر کی جارہی تھی۔‌ یہ مسجد کل قیامت میں مسلمانوں سے سوال کرے گی کہ تمہارے ہوتے ہوئے میری عصمت کو پامال کیا جارہا تھا۔ میرے وجود کی ایک ایک اینٹ کو توڑا جارہا تھا، میری دیواریں منہدم ہورہی تھی، میری مٹی گر رہی تھی، ظالم میرے سینے پر چڑھ کر میری حرمت کو پامال کر رہے تھے اور مسلمانوں تم نے آہ تک نہ کی تمہیں احساس تک نا ہوا تب مسلمانوں کے پاس کیا جواب ہوگا۔ اور عزر تم پیش کرونگے کیا اللہ سے بڑھ کر کسی کا ڈر تمہارے دلوں میں بیٹھ گیا تھا۔ کیا دنیا کے  ظالمانہ غیر منصفانہ قانون کا خوف تمہارے دلوں میں خداوند وحدہ لاشریک سے زیادہ بیٹھ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ خود تم سے سوال کرے گا کیا تمہارے لیے دنیاوی خداؤں کے سامنے  میری قدرت کاملہ زیادہ اہم تھی کیا میں پیدا کرنے والا اور تمہارے مقدروں کو ایک کن میں تبدیل کرنے والا تمہارے لیے کافی نہیں تھا۔ تمہارے لے یہ بہتر تھا کہ تم دنیوی خداؤں کے مقابلے میں مجھ سے ڈرتے اور میرا خوف تمہارے دلوں میں سب سے بڑھ کر ہوتا۔ تب اس وحدہ لا شریک کے غصے میں تمہارے قدم کیسے جمے رہے گے۔ مجھے ڈر ہے کہی ہم‌ غضب الٰہی کا شکار نا ہوجائے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہم تمہارے جگہ تم سے بہتر قوم کو لا کھڑا کرے گے۔ کہی وہ وقت قریب تو نہیں ہے۔ ہوش کے ناخن لیجیے اور اللہ کے طرف پلٹ جائے، ورنہ دنیا کے ان جھوٹے خداؤں کا ڈر تمہیں اس قدر ذلت و رسوائی پستی میں دھکیل دے گے جس کی دہلیز پر تم پہنچ چکے ہو ۔ اگر اب بھی‌ نا جاگے تو پھر غلامی اور ذلت تمہارا مقدر بن جائے گی بے خوف و باوقار زندگی گزارو ، جیسے تمہیں کہا گیا ہے کے اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو جیسا کے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close