مضامین و مقالات

جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے ! نبیل اختر نوازی

جذباتی باتیں و قتی طور پر  بہت اچھی لگتی ہیں ,مگر اس کے نتائج بہت نقصان دہ ہوتے ہیں
کچھ لوگ ہم سے کہہ رہے ہیں ,جنگ  میں امن کی باتیں کرتے ہو ؟ پورا بھارت پاکستان سے بدلہ لینا چاہتا ہے اور آپ امن کی شمع جلانے کی باتیں  کررہےہو , میڈیا, پولیٹیشین, عوام ,سول سوسائٹی سب  جنگ کی باتیں کر رہے ہیں, اور آپ صلح کی باتیں کر رہے ہیں ,آپ مولانا ہیں آپ کو حالات کی خبر نہیں ,سچائ یہی ہیکہ جنگ ہو , ہر طرف گرجتے ہوئے طیارے ہوں,برستے ہوئے گولے ہوں , چیختے اور گرجتے ہوئے توپوں کے دھانے ہوں,دشمنوں پر یلغار ہو, دونوں طرف لاشوں کے انبار ہوں , میں سوچتارہا یہ آج کے انسان ہیں ؟  جو خون خرابہ کی بات کرتا ہے  , میں غور کرتا رہا اور نتیجہ یہ نکلا کہ جو ایسی باتیں کر رہے ہیں وہ جنگ میں سرحد پر نہیں ہونگے ,وہ مزے میں ٹی وی اسکرین پر چپکے ہونگے اور  نیوز اینکر کی دھاڑ پر تالیاں بجاتے ہونگے مگر جو بہادر سپاہی ملک کی آن کے لیے قربانی دیں گے  ان کے خاندان  کے غم کو یہ محسوس نہیں کر سکیں گے ,بس ٹویٹر ,فیس بک اور سوشل میڈیا کے ذریعہ شردھان جلی دیکر چھٹکارا پالیں گے , میں اپنے ملک کے امیروں سے کہنا چاہتا ہوں, جو آج جنگ کی بات کر رہے ہیں اگر آپ کو ملک سے اتنی محبت ہے جتنا آج اظہار کر رہے ہیں تو کیوں نہیں اپنے بچوں کو فوج میں بھرتی کرتے ہو؟کیوں نہیں این ڈی ائے کی تیاری کراتے ہو؟ کیوں میڈیکل,انجینیئرنگ, منیجمینٹ کے کورسس کراتے ہو؟ اور برین ڈرین کے ذریعہ ترقی یافتہ ممالک میں شفٹ ہونے کے خواب دیکھتے ہو ؟ اور ملک کے اربوں روپے پر ہاتھ مار کر للت مودی, نیراوا مودی ,اور وجے مالیا کی طرح  فرار ہو جاتے ہو , ملک میں بچتا ہے جوان,کسان اور غریب عوام . جوان سرحد پر دیش کی حفاظت کرتے ہوئے سینے پر گولی کھاتا ہے اور ملک کی شان بن کر امر ہوجاتا ہے , کسان حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اپنے کھیتوں میں خودکشی کرتا ہے اور مرجاتا ہے , کفن تک کے لیے پیسے نہیں ہوتے , دس ہزار اور بیس ہزار بینکوں کے واپس نہیں کرپاتا اور موت کو گلے لگا لیتا ہے .رہی بات غریب عوام کی جو روز کنواں کھودتا ہے اور پانی پیتا ہے اسے چند امیر اور سیاست داں افیونی سیاست کے شکار بنا تے ہیں اور  کبھی وہ دنگوں میں جان دیتا ہے ,کبھی وہ مندر مسجد کے نام ہر لڑتا ہے ,کبھی وہ آرکشن مومنٹ کے بھینٹ چڑھتا ہے ,تو کبھی وہ گائے کے تقدس کے لیےھتیارا بنتا ہے ,  تو کبھی راجنیتیک ہنسا کا شکار ہوجاتا ہے ,تو کبھی اپنی نوکری کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو پولیس کی گولی کھاتا ہے تو کبھی نوٹ بندی میں اپنے ہی پیسوں کو جمع کرانے میں بنیکوں کے سامنے دم توڑ دیتا ہے  , یہاں سمسیا پر سمسیا ہے کوئ سمادھان نہیں پر ہم جنگ لڑنے کی بات کرتے ہیں , یاد رکھئے جنگ خود ایک سمسیا ہے وہ سمادھان نہیں  جو سمادھان نہیں اس کی بات کرنا یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟  جس طرح گاؤں کے عقلمند لوگ لڑتے بھڑتے نہیں وہ صرف گاؤں کے غریبوں کو لڑواتے ہیں اور مزے لیتے ہیں اسی طرح  اگر دو پڑوسی ملک لڑیں گے تو امیر ترین ملک مزے لیں گے  اور اپنے ہتھیاروں کی سوداگری بھی کریں گے پھر کچھ دن بعد امن کا ٹیبل سجائیں گے اور  دونوں ملکوں کے اس وقت کے وزرائے اعظم کو  جنگ بندی پر معاہدہ کرائیں گے جس طرح گاؤں کے چودھری صاحب  تھانے دار کے سامنے دو آپس میں لڑنے والے غریبوں سے  صلح ,صفائ کراتے ہیں جب تک بیچارہ غریب اپنا قیمتی اثاثہ کھو چکا ہوتا ہے .
یاد رکھیے  جنگ عظیم اول و دوم کے نتائج, اور یہ بھی یاد رکھئے کہ ان دونوں جنگوں میں دس کروڑ سے زیادہ لوگ مارے گئے اس کے بعد کیا ملا ان ممالک  کو جو جنگ میں اپنی  افواج اور عوام کو  ڈھکیل دیا تھا کچھ نہیں سوائے ہلاکت کے ,سوائے نقصانات کے  اور  آج وہ ممالک  آپس میں دوست اور حلیف ہیں ,اوراپنی سرحدوں کو ایک دوسرے کے لیے کھول رکھا ہے , دیورا برلن کو ڈھا دیا گیا ہے اور آج فرانس اور جرمنی میں دوستی ہے ,جاپان اور امریکہ میں اتحاد ہے   جنگ کے جنونی ہٹلر نے خود کشی کر لی اور مسولینی کو عوام نے بیچ چورا ہے پر پھانسی دے دی.
بھارت اور پاکستان کے جنونی واسیو! اگر تمہیں جنگ لڑنا ہے تو لڑو
جنگ افلاس اور غلامی سے
امن بہتر نظام کی خاطر
جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن بے بس عوام کی خاطر
جنگ سرمائے کے تسلط سے
امن جمہور کی خوشی کے لیے
جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن پر امن زندگی کے لیے
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close