مضامین و مقالات

ڈاکٹر پرینکا ریڈی کی خاکستری : کہاں کا انصاف؟ کہاں کی عدالت؟ تحریر : وزیر احمد مصباحی 

ڈاکٹر پرینکا ریڈی کی خاکستری : کہاں کا انصاف؟ کہاں کی عدالت ؟
تحریر : وزیر احمد مصباحی
       پریہار ، دھوریہ (بانکا)
رابطہ نمبر :6394421415
       کہتے ہیں کہ ظلم و ستم ہر مذہب میں ناپسندیدہ ہے. دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو، ہر ایک کے دستور میں یہ بات ملتی ہے کہ ظلم انسانیت کے خلاف ہے. اس حوالے سے اگر آپ اسلامی قوانین کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں مذہب اسلام سب سے زیادہ حساس ہے. قرآن میں تو یہاں تک آیا ہے کہ اگر کسی نے ناحق کسی کی جان لے لی تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا. مگر افسوس تو اس بات پہ ہے کہ تمام مذاہب میں اسے مذموم قرار دینے کے باوجود ہر روز دنیا میں ظلم و جبر کے انگنت واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں. کچھ تو اس قدر بھیانک و خوفناک ہوتے ہیں کہ اگر کوئی کمزور انسان اس کے متعلق جان لیں تو کچھ لمحے کے لیے اس کے ہاتھ پاؤں ہی شل ہو جائیں اور پورا وجود لرز اٹھے. ایک پڑھا لکھا اور ایسا انصاف پرور شخص جو ہلکی پھلکی بھی انسانیت کی رمق اپنی رگوں میں باقی رکھتا ہو، وہ یہ کبھی بھی برادشت نہیں کرے گا کہ اس کے آگے کسی بے گناہ شخص پہ ظلم کی گتھیاں کسی جائیں اور وہ بالکل خاموش تماشائی بنے ظالم کی دیدہ دلیری پر واہ واہ کر کے اس کے امنگ و حوصلہ میں روح پھونک کر مزید شہ دینے کا گھناؤنا کھیل کھیلتا رہے. نہیں…ایسا ہرگز نہیں ہوتا ہے ____اگر کہیں ایسا ہوتا بھی ہے تو پھر ایسے وقت میں اکثر ہوتا یہی ہے کہ وہ انسان اگر طاقت و قوت رکھتا ہے تو وہ اس کے بڑھتے ہاتھ مروڑ کر رکھ دیتا ہے اور اگر ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر دل و جان سے اسے برا ضرور جانتا ہے. ساتھ ہی اگر کرم فرمائی کی سنہری مثال پیش کرنا چاہے تو وہ مظلوم کی فریاد رسی میں اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے مالک حقیقی سے لو بھی لگا بیٹھتے ہیں.
       مذہب اسلام نے بھی اپنے ماننے والوں کو اس کی بات کی تعلیم بڑے ہی شد و مد کے ساتھ دی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی ظلم ہوتا ہوا دیکھے تو اسے اپنے ہاتھوں سے روک دے، اس کی طاقت نہ ہو تو پھر زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی قوت نہ ہو تو کم از کم اسے دل سے ہی برا جانے کہ__
         کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
           ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
یقیناً اسلام کی اسی انقلابی تعلیم کا یہ نتیجہ تھا کہ دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کبھی کسی انسان سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا تو وہ خود خوفِ الہی کے سبب معافی کی طلب میں بارگاہِ رسالت تک دوڑتا چلا آتا تا کہ وہ گناہوں سے اپنی گردن چھڑا سکے. حتی کہ اگر کسی سے زنا کا صدور ہو جاتا تو وہ اپنے اوپر حد جاری کروانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آتا تا کہ وہ آئندہ اس طرف قدم اٹھانے سے قبل سو سو بار سوچے.
      مگر افسوس کہ آج کا ماحول یکسر بدل چکا ہے، ہر طرف ظلم و ستم کا دور دورہ ہے. ایسی ترقی پذیر دنیا میں تو زنا وغیرہ کا صدور بالکل عام سی بات بن گئی ہے. اس معاملے میں اگر وطن عزیز کا اگر آپ جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ آج ہمارے ملک یہ جرم اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ بہت سارے افراد اس میں گرفتار ہیں. ہر روز کہیں نا کہیں سے اس طرح کی خبریں پڑھنے کو مل ہی جاتی ہیں. شاید ہی کسی دن کا اخبار یا نیوز ہو جس میں اس طرح کی باتیں نہ شائع ہوتی ہوں. ابھی ایک دو روز قبل تلنگانہ (حیدرآباد) میں جس بے دردی کے ساتھ ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے ساتھ وحشی درندوں نے ہوس کی آگ بجھائی ہے وہ کسی بھی انسان کے رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہے. بھلا بتائیں کہ! ایک وہ ٢٧/٢٦ سالہ عورت جو پیشے سے ایک ڈاکٹر تھی، اسے کیا معلوم تھا کہ آج کی رات معاونت کے نام پر میرے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کھیلا جائے گا اور اسی پہ بس نہیں بلکہ ہمارے وجود کے نشیمن کو بھی جلا کر خاکستر کر دیا جائے گا؟ روز مرہ کی زندگی میں تو ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے کہ آدمی کسی دن اپنی ڈیوٹی پر سے لوٹنے میں دیر سویر کا شکار ہو جاتا ہے. جی! پرینکا ریڈی کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا. وہ تو اپنی بائک کے پمچر ہو جانے کے بعد مسلسل اپنی بہن سے رابطے میں بھی تھی. مگر ہوس کے پجاریوں نے یکا یک اس کے گھر والوں سے اس کے سارے رشتے ناطے ہمیشہ کے لیے توڑ دیے. ان چاروں درندوں نے ایک اکیلی جان پر اس قدر چھن جھپٹ کی کہ وہ اپنے آپ میں انتہائی شرمناک ہے. تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس میں ایک نام مسلمان کا بھی ہے جو ہوس کی پیاس بجھانے میں اتاولے ہو رہے تھے.
         مگر افسوس کہ آج شرپسند عناصر نے ٹیوٹر و سوشل میڈیا پر صرف اور صرف اس ایک شخص کی وجہ سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف جو بدتمیزی کا طوفان برپا کیا ہے وہ واقعی قابل افسوس ہے. انھیں تو ایسے موقع پر یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے تھی کہ ایسے لوگوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کسی رشتے کی پاس و لحاظ رکھتے ہیں. ہاں! اگر انھیں کوئی چیز اگر بھاتی بھی ہے تو وہ "ہوس کی آگ” ہوا کرتی ہے. جی! دنیا میں سینکڑوں ظلم ہوتے ہیں، پر زبردستی آبروریزی کے ساتھ ساتھ زندہ جلائے جانے کا ظلم میری نگاہ میں اس قدر شرمناک و بھیانک ہے کہ مجھے اس کے بالمقابل اور ظلم و ستم بالکل ہینچ نظر آنے لگا ہے . آج کی اس ترقی پذیر دنیا میں وطن عزیز پر واقعی افسوس ہوتا ہے کہ یہاں تو وکلا کی جماعتیں بھی، جسے ایسے مظلوموں کی ببانگ دہل حمایت کرنی چاہیے تھی، وہ بھی زانیوں کی حمایت میں روڈ پہ نکل کر کالے کوٹ لہراتے ہوئے احتجاجات و ریلیاں نکالتی ہیں. آخر یہ سوچنے کا مقام ہے کہ آج ہمارا ملک کدھر جا رہا ہے اور اسے اس سے بچانے کے لیے ہمارے لیے کیا روشن و درست لائحہ عمل ہے؟
      سننے میں آ رہا ہے کہ یہ چاروں درندے فی الحال پولیس کے چنگل میں ہیں. ان لوگوں نے اپنے کیے ظلم کا اعتراف بھی کر لیا ہے. مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کو بھی اسی طرح کی سزا دی جائے گی؟ جس طرح ان لوگوں نے ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے ساتھ گندی حرکتوں کا ارتکاب کر کے دل دہلانے کا کام انجام دیا۔ غالب گمان یہ ہے کہ انھیں معاملہ سرد پڑنے تک حراست میں رکھ کر بعد میں رہا کر دیا جائے گا اور پھر لگے ہاتھوں بیچ چوراہے پر گلپوشی بھی ہوگی… آخر ایسا ہو بھی کیوں نہ جب کہ کچھ برسوں سے ہمارے ملک میں یہی روش چل پڑی ہے. ہاں! یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس مرتبہ بھی اگر یہی روش اپنائی گئی اور اس معاملہ میں حکومت کوئی سختی نہیں دکھاتی ہے تو وطن عزیز سے یہ بھیانک کھیل کھیلنے کا رواج کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس پہ کبھی کوئی نکیل کس سکتا ہے. اگر کوئی شئی اسے روک بھی سکتی ہے تو وہ ” القتل انفی للقتل” پر عمل درآمد کرنے کا لائحہ ہے. جس کی ذریں اور سنہری مثالیں آپ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بخوبی ملاحظہ کر سکتے ہیں. آج بھی اگر ظالم کو مظلوم کے بالکل عین مطابق سزا دینے کا رواج چل پڑا تو پھر یہ بات نوٹ کر لیں کہ اور دوسرے حضرات اس قسم کے حرکات کی انجام دہی سے قبل ایک نہیں، سو نہیں بلکہ ہزار دفع سوچیں گے.
      جی! ایسے وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، پرینکا ریڈی کی حمایت میں آگے آئیں، اس مظلومہ کو انصاف دلائیں اور ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں اپنی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں. لیکن سب سے زیادہ ضروری اور آخری بات یہ ہے کہ ہم حکومت پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنے سماج و معاشرے سے اسے ختم کرنے کی مہم شروع کریں، اسے گناہوں سے بالکل پاک و صاف کرنے کی رن چھیڑ دیں اور ایسے لوگوں کا سرے سے سماجی بائیکاٹ کریں جو ایسے گھناؤنے افعال انجام دیا کرتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اور ہم اس معاملے میں اپنے علاقے کے مؤثر افراد کے ساتھ مل جل کر ایسے کمینوں کو کڑی سے کڑی سبق سکھائیں تا کہ وہ دوسروں کے لیے سامانِ عبرت بن سکے.
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close