مضامین و مقالات

یہ داغ داغ اجالا،یہ شب گزیدہ سحر! جی ہاں!گاندھی کا ہندوستان بدل رہا ہے

یہ داغ داغ اجالا،یہ شب گزیدہ سحر
جی ہاں!گاندھی کا ہندوستان بدل رہا ہے
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
email:ghaussiwani@gmail.com
Ghaus Siwani ki Mehfil/Facebook
مہاتماگاندھی کا ہندوستان واقعی بدل رہا ہے، جس کی کئی مثالیں سامنے آرہی ہیں۔ گاندھی کے نظریاتی قاتلوں کا ملک پر قبضہ ہوتا جارہا ہے۔ وہ ملک کی پارلیمنٹ میں بھی پہنچ چکے ہیں اور کھلے عام گوڈسے بھکتی کے مظاہرے ہورہے ہیں۔ جس ویرساورکر نے ملک کی جنگ آزادی میں حصہ لینے کے بجائے انگریزحکمرانوں کی پشت پناہی کی اور ان کے مقاصد کی بجاآوری میں معاون بنا،آج اسی کو ’بھارت رتن‘ دینے کی مانگ اٹھ رہی ہے جب کہ انگریزوں سے لوہا لینے والے میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کی کھلے عام اہانت کی جارہی ہے۔ جس ملک کو سیکولرکہاجاتا رہاہے، اب وہاں مذہب کے نام پر تفریق کرنے والے قانون بن رہے ہیں۔ وزیرداخلہ امت شاہ اعلان کرچکے ہیں کہ شہریت ترمیمی بل عنقریب پارلیمنٹ میں لایا جائے گا، جس کے تحت غیرملکیوں کو ہندوستانی شہریت دینے کے سلسلے میں مذہب کی بنیاد پربھید بھائوکیا جائے گا۔این آرسی لانے کی بات بھی محض مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔ اس بیچ یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایودھیا میں فرقہ پرستی کا ننگا ناچ کرنے اور بابری مسجد کو شہید کرنے والے کارسیوکوں کو ’شہید‘ کا درجہ دیا جائے۔دوسری طرف ملک کی معاشی ترقی، زوال پذیر ہے۔ لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اور بہتوں کی نوکریاں خطرے میں ہیں مگر اس بارے میں کوئی چرچا نہیں ہے۔ ظاہرہے کہ یہ سب بدلتے بھارت کی ہی تصویریں ہیں۔یہ تصویریں اس بھارت کی نہیں جس کا خواب مہاتما گاندھی نے دیکھا تھا، مولانا آزاد نے دیکھا تھا، سبھاش چند بوس نے دیکھا تھا، اشفاق اللہ خان اور بھگت سنگھ نے دیکھا تھا، مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا۔یہ اس بھارت کی تصویریں ہیں جس کا خواب ویرساورکر، ہیڈگیوار، شیاما پرساد مکھرجی نے دیکھا تھاجوخود کبھی فرنگیوں کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے:
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
گوڈسے کی حب الوطنی پر بحث
جس روز خبر آرہی تھی کہ ملک اقتصادی سست روی کا شکار ہوگیا ہے۔ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ملک کے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح ترقی انتہائی نچلی سطح 4.5 فیصد پر آ گئی ہے،تب اس پر بحث کے بجائے پارلیمنٹ میں سادھوی پرگیہ کے اس بیان پر بحث چل رہی تھی، جس میں اس نے بابائے قوم کے قاتل کو محب وطن بتایا تھا۔ٹھیک اسی وقت میڈیا میں ایک اور خبر چل رہی تھی کہ تلنگانہ میںایک خاتون ڈاکٹرکا آبروریزی کے بعد قتل کردیا گیاہے مگر اس قسم کے جرائم اتنے معمول کی بات ہیں کہ ہمارے ملک میں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی لہٰذا پارلیمنٹ میں بحث کیوں ہو؟ سچ پوچھا جائے تو دیدہ ودانستہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر سے بیان دلوایا گیا تھا اور اس میں پارلیمنٹ کو الجھائے رکھا گیا تھاتاکہ کوئی جی ڈی پی پر بات نہ کرے، ریپ کے بڑھتے واقعات پر گفتگو نہ ہو۔سنگین دہشت گردانہ واقعات کی ملزمہ اور بی جے پی کی ممبرپارلیمنٹ سادھوی کے بیان پر راہل گاندھی نے کہا’ایک دہشت گرد نے دوسرے دہشت گرد کو محب وطن کہا‘۔حالانکہ دہشت گردی میں ملوث کسی خاتون کے کیس کو کمزور کرکے اس کی رہائی کی صورت نکالنا اور پھر اسے پارلیمنٹ کا ممبر بنوانا کسی دہشت گردی سے کم نہیں مگر کیا کیا جائے کہ ہمارا ملک بدل رہا ہے۔ گاندھی کا ہندوستان بدل رہا ہے لہٰذا فلسفہ عدم تشدد کی جگہ اب دہشت گردوں کو تشدد اور خون خرابے کا انعام ملے کو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ میڈیا کی خبر کے مطابق ’’بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکرنے لوک سبھا میں ایس پی جی ترمیمی بل پربحث کے دوران بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کا حوالہ ’محب وطن کے طورپردیا، جس کولیکرکانگریس اراکین پارلیمنٹ نے سخت مخالفت درج کرائی۔ ایوان میں جب ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ اے راجہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے منفی ذہنیت کولیکرناتھو رام گوڈسے کی مثال پیش کی توپرگیہ سنگھ ٹھاکراپنے مقام پرکھڑی ہوگئیں اورکہا کہ محب وطن کی مثال مت دیجئے۔‘
’شہیدوطن‘ کی مخالفت
بدلتے ہندوستان میں جہاں ناتھورام گوڈسے اور ویرساورکر سب سے بڑے دیش بھکت قراردیئے گئے ہیں، وہیں دوسری طرف غیرملکی قابضوں کے خلاف لڑتے ہوئے میدان جنگ میں شہید ہونے والے ٹیپوسلطان کے خلاف نفرت کا طوفان کھڑا کیا گیا ہے۔ حال ہی میں کرناٹک کی بھاجپا حکومت نے ٹیپوسلطان کے باب کو نصاب سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرائمری اور مڈل تعلیم کے وزیر ایس سریش کمار نے اس تعلق سے ایک رپورٹ طلب کی ہے۔جب کہ اس سے پہلے بی جے پی کے رکن اسمبلی اَپَّاچو رنجن نے ٹیپو سلطان کے باب کو نصاب سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔اپا رنجن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ تاریخ کے نصاب میں ٹیپو سلطان کی خوب مدح سرائی کی گئی ہے جبکہ حقیقت میں وہ ہندووں کا قاتل تھا۔ رنجن نے الزام لگایاتھاکہ ٹیپو نے ہزاروں عیسائیوں اور ہندووں کو جبراً اسلام قبول کروایا تھا۔ ادھر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدورپا نے کہاہے کہ ٹیپو سلطان کو عظیم بتانے والے تاریخ کے اسباق کو اسکول کی درسی کتابوں سے ہٹا جائے گا۔اس طرح کے موضوعات کو درسی کتابوں میں جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 101 فیصدی ہم اس طرح کی چیزیں ہونے نہیں دیں گے۔ واضح رہے کہ ٹیپوسلطان نے 19 ویں صدی میں انگریزوں کے خلاف جنگ کی تھی اور جیتے جی اس نے غیرملکی قابضوں کو اپنی ریاست پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ٹیپو کی سلطنت کو اپنے عہد کی ایک ترقی یافتہ اور ماڈرن سلطنت مانا جاتا تھا جس نے صنعت وحرفت کے میدان میں خوب ترقی کی تھی۔ٹیپو نے راکیٹ کی بھی ایجاد کی تھی جس کی ترقی یافتہ شکل آج دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یاد رہے کہ ہرسال کرناٹک سرکار کی جانب سے ٹیپوسلطان کی سالگرہ منائی جاتی تھی مگر رواں سال میں نہیں منائی گئی۔ اس سلسلے میں بی جے پی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ، ‘ٹیپو جینتی’ کی عوامی تقریبات کا خاتمہ کرکے ، ہمارے وزیر اعلی نے ریاست کی عزت بحال کی ہے۔اب اگلے قدم کے طو رپرہمارے بچوں کے سامنے اصلی ٹیپو سلطان کو سامنے لانے کے لیے درسی کتاب کوپھر سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ان کو آگاہ کرنا ضروری ہے کہ ٹیپو نے ہندوؤں کے خلاف ظلم کیا اور وہ کنڑ مخالف تھا۔
کارسیوکوں کو ’شہید ‘کا درجہ
بدلتے بھارت کی ایک اور مثال ملاحظہ کریں۔قانون توڑنے والے جانباز قرار دیئے جائیں گے؟دنگائی اورفسادی ’شہید‘ کا درجہ پائینگے؟ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ بھارت میں ایسے حالات کبھی بنیںگے کہ قانون شکنی کو عیب نہیں ہنر قرار دیا جائے گا؟ جی ہاں! اب نیا مطالبہ شروع ہوا ہے کہ بابری مسجد پر حملہ کرنے والوں پر سے مقدمے ہٹائے جائیں اور جن کارسیوکوں کی اس موقع پر موت ہوئی تھی، انھیں ’شہید‘ قرار دیا جائے۔ظاہر ہے جب ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘والا دستور ہمارے ملک میں چل پڑا ہے تودنگائیوں اور فسادیوں کی پیٹھ تھپتھپانے کی بات تو ہوگی ہی۔سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ اجودھیا فیصلے میں مانا بھی ہے کہ بابری مسجد کا انہدام غلط تھا مگر کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنے کی بات کہنے والوں نے کبھی بھی انہدام کے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ فی الحال مرکز اور اترپردیش دونوں جگہ بی جے پی کی سرکار ہے مگر ماضی میں جہاں مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی، وہیں اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی حکومتیں آئیں مگر کبھی بھی کارسیواکے نام پر دنگا کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی۔گویا حکومت خواہ کسی کی ہو،سب نے دنگائیوں کے ساتھ ہمدردی کا برتائو کیا مگر اب اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کے ملزم کارسیوکوں کے خلاف فوجداری مقدمات واپس لئے جائیں اور مندر تحریک میں مرنے والوں کو’شہید‘ کا درجہ دیاجائے۔ ہندو مہاسبھا کے قومی صدر سوامی چکرپانی نے وزیر داخلہ امیت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی اس سلسلے میں ایک خط بھیجا ہے۔
بدلتے بھارت میں مسلمان ٹیچر کیلئے جگہ نہیں
بدلتے بھارت کی ایک تصویر کچھ دنوں سے میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچ رہی ہے جو بنارس ہندو یونیورسٹی سے آرہی ہے۔ سنسکرت اور ٹیچر کے مذہب کے حوالے سے بی ایچ یو تنازعات کی زد میں ہے۔ بی ایچ یو کی سنسکرت فیکلٹی میں ایک مسلمان فیروز خان کے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تقرری کے سبب تنازعہ شروع ہوگیاہے۔ کچھ طلبا احتجاج کر رہے ہیں کہ فیروزچونکہ مسلمان ہیں لہٰذا وہ سنسکرت نہیں پڑھاسکتے،انھیں برطرف کیا جائے ۔ گذشتہ دنوں ، کچھ طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں وائس چانسلر کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا۔ ایسے میں بحث شروع ہوئی ہے کہ کیا سنسکرت زبان کو پڑھانے کے لئے کسی خاص مذہب یا ذات کا فردہونا لازمی ہے؟ کیا فیروز خان کی اہلیت پر کسی کو کوئی اعتراض ہے یا محض اس لئے ان کی برخواستگی کا مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں؟آخرفیروز کی تقرری پر کسی کو کوئی اعتراض کیسے ہوسکتا ہے جب کہ بی ایچ یو انتظامیہ نے واضح کردیا ہے کہ وہ قواعدوضوابط کے تحت منتخب ہوئے ہیں۔
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
بدلتی حکومت کے ساتھ جس طرح ملک ،قانون ، تاریخ اور تہذیب کو بدلنے کی کوشش ہورہی ہے، وہ انتہائی خطرناک ہے۔بھارت اس لئے عظیم رہا ہے کہ اس کا دل بڑا ہے۔ یہ ملک اس لئے باعث افتخار رہا ہے کہ یہ کثرت میں وحدت کی مثال پیش کرتا ہے۔ اس وقت خطرہ صرف اس کے تہذیب وتمدن کو نہیں بلکہ اس کی سالمیت کو ہے۔ موجودہ حکومت کے تحت خطروں کی زد میں صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ یہاں رہنے والی تمام اقوام ہیں۔ اگرکشتی میں چھید ہوجائے تو کوئی ایک فرد نہیں ڈوبتا بلکہ تمام مسافروں کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے لہٰذا ملک کے تحفظ وبقا کے لئے آج سب کو کھڑا ہونا چاہیے۔ تمام سیاسی پارٹیوں، تمام سماجی تنظیموں، فلاحی کارکنوں اور عام ہندوستانیوں کو موجودہ صورت حال کے خلاف جدوجہد کی راہ پر آنا پڑے گا:
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close