مضامین و مقالات

 انسانی طریقہ ! مفتی ہمایوں اقبال ندوی

   انسانی طریقہ ! مفتی ہمایوں اقبال ندوی
استاد مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ
انسان اور جانور میں فرق،طور طریق سے ہی کیاجاتا ہے ۔زندگی بسر کرنے کے اصول و ضوابط کاتصورجہاں ملتا ہے،وہاں انسان بستاہے ،ان اصولوں کاجو پابند اوران پرجو کاربند ہوتا ہے وہی انسان کہلاتا ہے ۔اوراس میدان میں جتنی ترقی کرتا جاتا ہے، تہذیب و تمدن سے جتناآشنا ہوتا جاتا ہے اتناہی مثقف کہلاتاہے،اس راستےکامسافرجب منزل مقصودپرجب پہونچ جاتاہے پھرتووہ مکمل انسان ہی ہوجاتا ہے ۔اس کے برخلاف  جب بے اصولی وبے ضابطگی کوایک انسان اپنالیتا ہے،اپناشیوہ بنالیتابے،تہذیب و تمدن سے ناآشنا ہولیتا ہے، بےمحابا کھاتا ہے، بےتحاشاسوتا ہے، ہروقت نہاتا ہی رہتا ہے تو ایک انسان بھی جانور کہلاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بہت زیادہ بلاطریق کےکھاتا ہے تو اس کے اس عمل پر دیکھنے والے برجستہ کہتے ہیں کہ بیل کی طرح کھا رہا ہے ۔بہت زور کی آواز نکالنے پر، کہتےہیں گدھے کی طرح بولتا ہے، اور کتے کی طرح بھونک رہا ہے۔ہر وقت پانی میں گھسے رہنے پر؛  بھینس کی طرح نہاتا ہےوغیرہ کے القاب سے وہ نوازاجاتاہے۔ اطباء حضرات کے یہاں انسانی بیماریوں کے نام  جانوروں کے نام سے منسوب ملتے ہیں ۔ بطور مثال جب بھوک انسانی حداعتدال سے باہر ہوجاتی ہے تو اسے طب کی زبان میں "جوع البقر "گائے کی بھوک”سے تعبیر کرتے ہیں، ماحصل یہ کہ انسان اور جانور میں سسٹم اور طریقہ کا فرق ہے،یہ حد فاصل ہے ۔جہاں یہ سسٹم بھنگ ہوا، وہاں انسان اوراسکی انسانیت خطرہ میں چلی جاتی ہے ۔اس تعلق سے ابھی کچھ دنوں قبل چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے ۔پی ایم سی ایچ میں لقوہ وبرین ہمبریج کے مریضوں کے تعلق سے وہاں کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ نہانے کے غلط طریقے کی وجہ کر ہے ۔غسل کرنے کے لئے  شاورکےنیچےجاکرکھڑےہوکرسیدھےسر پر پانی ڈالنے سے اکثر ان بیماریوں کا حملہ ہوجاتا ہے۔فالج اور برین ہمبریج کے اسی نوعیت کے بےشمار کیسیز یہاں ہر سال آتے ہیں ،ٹھنڈ میں اس کی تعداد بڑھ جاتی ہے، اس لئے بھی احتیاط کی شدید ضرورت ہے ۔پی ایم سی ایچ کے فیزیشین ڈپارٹمنٹ کے صدر جناب ڈاکٹر راجیو کمار سنگھ جی سے جب پوچھا گیا کہ نہانے کا صحیح طریقہ کیا ہے تو انہوں بتلایا کہ ایک ایک عضو کو پہلے بھگولیناچاہئے ،پھر اخیر میں سر کو دھونا چاہئے، یاسرپر پانی ڈالنا چاہئیے ۔
مذکورہ بیانات کی روشنی میں  اس طریقے کو نہانے کاانسانی طریقہ اطباءکی زبان میں کہا گیاہے  ۔  
دوسری اس نوعیت کی عجیب و غریب خبر روزنامہ انقلاب میں 43/سالہ ایک چینی شخص کےتعلق سے شائع ہوئی ہے جس کے دماغ اور جسم میں 700 کیچوے پل رہے ہیں، اس کی وجہ یہ سامنے  آئی کہ یہ مریض خنزیر کاکچاپکا گوشت کھایا ہے جس سے کیچوے کے انڈےاسکے بدن میں پہنچے اوروہاں انڈوں سے کیڑے برآمد ہوگئے ۔
 اسے کھانے کا انسانی طریقہ کا نام دیا جاسکتا ہے، جس کا خیال یہاں نہیں پایاگیا ہے ۔
تیسری خبر یہ بھی روزنامہ انقلاب کی ہے، ایک یورپین شخص کے منھ کو کتا چاٹ لیتا ہے جس سے اسے خطرناک قسم کا انفیکش ہوجاتا ہے اور اس کا جسم سڑنے لگتا ہے بالآخر وہ زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے ،اسے رہن سہن کا انسانی طریقہ کہا جاسکتا ہے جس کا خیال یہاں نہیں پایا گیا جس کی بنا پر خطرناک ومہلک مرض کا سامنا ہوا ہے ۔  مذکورہ بالا تینوں واقعات سے یہ واضح ہوا ہے کہ ایک انسان کو طریقے سے نہانا چاہیئے، کھانا چاہئے اور رہنا چاہئے اس بھی کہ وہ انسان ہونے کا خود پر الزام رکھتا ہے جس سے وہ کسی قیمت پر بھاگ نہیں سکتا اور نہ راہ فرار اختیار کر سکتا ہے ۔یہ انسان کی مجبوری ہی ہے کہ وہ جانوروں کی سی زندگی نہیں گزارسکتا  اس لئے کہ وہ ایک انسان ہے ۔اسی لئےایک ماہر طبیب کبھی یہ نہیں چاہتا کہ انسان مہلک بیماریوں کا شکار ہو جائے باوجودیکہ اس کا پیشہ ہی یہی ہے ،تو ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ وہ بھی ایک انسان ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایک انسان کو نہانے کا انسانی طریقہ تعلیم کرتا ہے ۔اس تحریر کا مقصد یہی واضح کرنا ہے کہ جو اطباء کی زبان میں نہانے کا انسانی طریقہ ہے وہی دراصل رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں نہانے کا اسلامی طریقہ ہے۔  انسانی طریقہ دراصل اسلامی طریقے ہی کا نام ہے، جہاں نہانے سے قبل وضوپایاجاتاہے،یی وضوکیاہے؟یکےبعددیگرےاعضاءوضوکےبھگونےہی کانام توہے،ہر ہر عضو کو غسل سے پہلے بھگویا جاتا ہے، دائیں جانب جسم کے حصے میں پانی ڈالا جاتا ہے، پھر بائیں جانب ڈالا جاتا ہے ،پھر بعد میں سر کا نمبر آتا ہے ،یہ غسل کا مسنون اسلامی طریقہ ہے۔
یہاں کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ہے اس کی مکمل وضاحت ملتی ہے ۔خنزیر کو نجس العین کہا گیا ہے جو پورے جسم ودماغ کی ناپاکی کاذریعہ بن جاتا ہے ۔کتا ناپاک ہے اس کے جھوٹے برتن کو اہتمام کے ساتھ وغایت درجے کی رعایت ودھیان اور مٹی کی رگڑ کے ساتھ دھونے اور صاف کرنے کی تاکید کی گئی ہے، اوراسے اپنی رہائش سے دور ہی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔جس گھر میں کتا رہتا ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں ہوتے وہاں تو زحمت ہی زحمت ہے ۔
اس وقت پوری انسانی برادری کو یہ بات سمجھادینے کا وقت آگیا ہے کہ، رب العالمین کا یہ فرمان ہے، وہ رب جو تمام جہانوں کا رب ہے، صرف کسی ایک طبقے کا یا ایک برادری کا رب نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کا رب ہے، خاتم النبیین محمد ص رحمة للعالمين ہیں۔پوری دنیا اور تمام لوگوں کے حق میں رحمت ہیں، آپ کی تعلیمات میں ہر انسان کے لئے عافیت وزندگی ہے ۔ 
اسی انسانی طریقہ کو عروج وترقی بخشنے کے لئےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیاگیاکہ ایک انسان کو اس کی منزل تک پہنچا دیا جائے جہاں پہونچ کر وہ مکمل انسان بن جائے، یہ اسی وقت ممکن ہے جب اس کا ہر کام طریقے سے ہو اورانسانی دائرہ میں ہو،اسی کی تکمیل کا نام اسلام ہے  ۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس دین کو مکمل کردیا، پھر قرآن پاک میں یہ اعلان فرمایا؛ الیوم اکملت لکم دینکم الایہ(قرآن) "آج ہم نے آپ پر اس دین کو مکمل کردیا،اور اپنی نعمت مکمل کردی "
اس قرآنی اعلان سے یہ صاف اور واضح ہوگیا ہے کہ جس طرح رب سب کے لئے ہیں اور رسول سب کے لئے ہیں تو یہ دین بھی جو دین اسلام کہلاتا ہے یہ کسی ایک طبقے کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ سب کے لئے ،اس میں زندگی بسر کرنے کے سب سے بہترین اصول بتلائے گئے ہیں۔کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، نہانا دھونا، ہسنابولنا،ملنا جلنا،پیشاب پائخانہ غرض یہ کہ انسانی زندگی کا گوئی شعبہ وگوشہ ایسا نہیں ہے جو خالی رہ گیا ہو اور اس پر روشنی نہ ڈالی گئی ہو ۔قیامت تک لوگ تحقیق کے میدان میں مغزماری کرتے رہیں گے اوراخیر میں جو انسانی فلاح و بھلا کے لئے جوتحقیقی اشرفی توڑلائیں گے وہ دعوے اور دلیل کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آپ نے جو انسانی طریقہ بیان فرمایا ہے یہ وہی نظام زندگی ہےجس کااعلان چودہ سو سال پہلے محمد عربی کی  زبان سےمنصہ شہودپرآچکا ہے، اس طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دین اسلام یہ حقیقتا دین انسان ہے، جسمیں ایک انسان کے لئے ہر طرح کی عافیت اور بھلائی موجود ہے ۔
ہمایوں اقبال ندوی ارریہ 
رابطہ، 9973722710
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close