مضامین و مقالات

جھارکھنڈ  کےسیکولر ووٹروں  کے نام ! محمد قمرالزماں ندوی

جھارکھنڈ کے سیکولر ووٹروں کے نام ! محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ
 ہم مسلمان اس ملک کے وہ باشندے ہیں کہ یہاں کے چپہ چپہ پر اور ذرہ ذرہ پر ہمارے احسانات ہیں اس ملک کو ہمارے اسلاف نے خاص طور پر علماء کرام  نے آزادی دلانے میں اپنے خونوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ اور یہاں کے مسلم حکمرانوں نے اس ملک کو وہ گل بوٹے اور ایسی دلکش عمارتیں اور ایسی ترقیاں دیں کہ آج بھی دوسرے ممالک رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور ہمارے ملک کی قومی معیشت کا ذریعہ ہیں۔ اس ملک میں آج ہماری تعداد تقریبا ۲۵/ کروڑ ہے ۔ ہماری رگوں اور خمیر میں ہندوستان کی مٹی شامل ہے ۔ ہمارے آباء و اجداد کے احسانات اس ملک کے چپہ چپہ پر ہیں اور اس کا گواہ اس سرزمین کا گوشہ گوشہ ہے ۔ مسلمانوں کا اس ملک میں وجود یوں ہی نہیں ہے بلکہ بقول مفکر اسلام *حضرت مولانا علی میاں ندوی رح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں نے اس ملک میں پورے عزم کے ساتھ سوچ سمجھ کر رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور تشخص کے تحفظ کے ساتھ اس ملک میں رہیں گے ۔ 
                      یہ بھی حقیقت ہے  ہمارے مذھبی  قائدین اور علماء کرام اپنی سادگی اور سادہ لوحی کے ساتھ ملک کو آزادی دلانے کی لڑائی لڑتے رہے اور برادران وطن کے ساتھ مل کر اس ملک کو آزادی دلائی ۔ لیکن آزادی کے بعد مسلمانوں کا ٹھوس اور مضبوط لائحہ عمل طے کرنے میں وہ ناکام رہے اور اپنی اس بے مثال قربانیوں کے بعد پھر اپنی تعلیمی و تدریسی خدمات میں متوجہ ہوگئے ۔ آزادی کے بعد مسلمانوں کا کوئ متحدہ پلیٹ فارم نہ رہا ۔کوئ مضبوط اور مستحکم ملی قیادت نہ رہی مسلمان مسلک و مشرب میں بٹ گئے اور ان کی طاقت منتشر ہوگئ ان کا شیرازہ بکھر گیا ۔ جس کا خمیازہ آج ہم سب بگھت رہے ہیں ۔ اور جس کا خوفناک انجام اور درد ناک و منفی ریزلٹ آج ہمارے سامنے ہے ۔ 
            ادھر برادران وطن کی ایک تنظیم اور جماعت جو آزادی کی لڑائی سے بالکل دور رہی ، آزادی کے سورماوں سے فاصلہ بنائے رکھا بلکہ خفیہ طور پر انگریزوں کے ایجنٹ بنے رہے اور اس کی معاونت کرتے رہے ۔ اس نے جب دیکھا کہ اب آزادی پکی اور یقینی ہے تو اس نے آزادی کے بعد کی پوری پلانگ اور منصوبہ بندی شروع کردی اور لائحہ عمل طے کرنے میں جٹ گئی کہ مستقبل میں یہ ملک ہندو راشٹر کیسے بنے ؟ یہاں مسلمانوں کی حیثیت عرفی کس طرح ختم ہوجائے ان کا وجود کیسے مٹ جائے ؟اگر وہ رہیں بھی تو ہماری تہذیب و کلچر کے ساتھ ہمارے رنگوں میں رنگ کر ۔ ہماری تہذیبوں میں گھل کر ۔ اور وہ اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلسل محنت اور جدوجہد کرتے رہے اور اس طرح وہ اپنے پلانگ اور منصوبے کو نافذ کرنے کے قریب پہنچ گئے اور ہم مسلمان اس ملک میں تمام تر قربانیوں اور محنتوں کے باوجود حاشیے پر چلے گئے ۔ 
         آج صورت حال ہمارے لئے بہت نازک ہے ۔ گزشتہ کچھ سالوں سے ملک کا ماحول اور منظر نامہ بدلا بدلا سا ہے خبریں بڑی عجیب و غریب سی آرہی ہیں ۔ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ۔ مستقبل میں مسلمانوں کو حق رائے دہی سے بھی کیسے محروم کیا جائے اس کی پلانگ زور شور سے جاری ہے ہندو راشٹر کا مطالبہ اور دھرم پریوتن کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ لیکن افسوس کہ ہم مسلمان نوشتہ دیوار پڑھ کر بھی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، پوری طاقت بے جا بحثوں اور کاموں میں صرف کر رہے ہیں ۔ مخالف  پوری بیدار مغزی کے ساتھ حکمت عملی طے کر رہے ہیں اور ہمارے علماء کرام اور فارغین مدارس اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ داڑھی رکھنا یہ نبی کی سنت تھی یا عادت ۔ داڑھی ایک مشت ہو یا اس کم ،ایک مشت سے کم داڑھی والا فاسق ہے یا نہیں؟ صحابہ کرام کی عدالت کس درجہ کی ہے ؟ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے  بارے میں کیا موقف اپنائیں کن کی طرف داری کریں؟ اس طرح کے موضوعات ان حالات میں زیر بحث ہیں ۔ افسوس ہوتا ہے ان حضرات کے عقل و دانش اور فہم و بصیرت پر حالات کیا ہیں اور تیاری کس چیز کی کر رہے ہیں؟ گھر میں جنازہ رکھا ہو تو تجھیز و تکفین اور تدفین کی تیاری کی جاتی ہے نہ کہ اس دن بازار جاکر شادی کے کپڑے خریدے جاتے ہیں ۔ اسی طرح گھر میں شادی بیاہ ہو تو شادی کی تیاری کی جاتی ہے اس کے لئے انتظامات کئے جاتے ہیں نہ کہ اس دن کفن کے کپڑے کی خریداری کی جاتی ہے ۔ آج تقریر اور اخلاص اور نیک نیتی کے تعلیم اسٹیج اور جلسوں میں صرف بھولے بھالے عوام کے لئے ہے ۔ خود چاہے جو کریں ۔ اقتدار اور منصب کے لئے جتنی اوچھی حرکتیں کریں اور جتنا نیچے گر جائیں ۔ اور سادہ لوح اور سادہ دل لوگوں اور نوجوانوں کے ذھن کو خراب کرکے اپنے مفاد میں استعمال کریں یہ سب ان کے لئے جائز اور ہنر اور حکمت و دانائی کی باتیں ہیں ۔آج ہمارے قائدین اور بہت مذھبی لوگوں کی پوزیشن یہ ہے کہ جنہیں دیکھ کر یہود و نصارٰی بھی شرما جائیں ۔ آج حالت یہ ہے کہ جنہیں قوم کو آئنیہ دکھانا چاہیے وہ خود آئینے کے محتاج ہوگئے ہیں ۔  
                     ہم مسلمان اب کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟ ہماری آنکھیں کب کھلیں گی ؟ کہنے کو تو بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہماری بہت سی غلطیاں ایسی ہیں اور ہو رہی ہیں جو دانستہ ہیں جانتے ہوئے بھی ہم غیر ضروری بحثوں میں اور لا یعنی باتوں میں الجھے ہوئے ہیں حالات کے تدارک کی ذرا بھی فکر نہیں کررہے ہیں ۔ مضامین و مقالات کی تو بھیڑ اور انبار ہے ۔ آراء اور نظریات کی تو کثرت ہے لیکن عملی میدان میں ہم کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں ہاں نام و نمود اور شہرت خوب حاصل کر رہے ہیں ۔ میدانی کام کس طرح ہو ڈور ٹو ڈور ہم لوگوں کے پاس کیسے پہنچیں ملک کی سالمیت کے لئے افراد سازی کیسے کریں اور برادران وطن کو بھی صحیح صورت حال سے کیسے آگاہ اور واقف کرائیں اس کی طرف ہماری کوششیں بالکل نتھینگ ہیں ۔ آر ایس ایس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ وہ کس طرح خفیہ طور پر اپنے نظریات اور منصوبے کو نافذ کرنے کامیاب ہے اور ہم ہیں کہ آپس میں کیچھا تانی میں مصروف ہیں  ۔ 
          آج ہمارے پڑھے لکھے مفکر و دانشور طبقہ اور انٹکیچول طبقہ کا حال یہ ہے وہ ان مسائل کو بھی جن کو بند کمرے میں حل ہونا چاہیے واٹسیپ اور فیس بک پر حل کر رہے ہیں ۔ جو مشورے اور تجاویز رازدارانہ طور پر پیش کرنی چاہیے وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں تک پہنچا کر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں پتہ ہی نہیں کیا چیزیں اعلانیہ ہوتی اور کیا رازدارانہ ۔ 
             بات کہیں سے کہیں چلی گئی ابھی جو محاذ ہمارے سامنے ہے ہم سب کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہر شخص ہر کام نہیں کرسکتا اس لئے جس کے اندر جس انداز کی صلاحیت ہو وہ آگے آئیں اور ایک دوسرے کا تعاون کریں ۔ سیاسی صورت حال کی تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ امت کسی ایک قیادت کے سایہ میں اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود متحد ہو ، اور صورت حال کا مقابلہ کرے  ۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو سارے قائدین اپنی اپنی قیادت کے ساتھ ہم فکر و خیال  ہوجائیں ۔ 
                 *الحمد للہ* ایک جماعت اور طبقہ کچھ درد مند لوگ مستقل فکر لئے ہوئے ہیں وہ لوگ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں خدا کرے ان کی محنت رنگ لائے ان کو کامیابی ہاتھ آئے اور قوم کی کشتی ڈوبنے سے بچ جائے ۔ 
         
                    *یاد* رکھئے اس وقت جھارکھنڈ کا صوبائ الیکشن ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے لئے فیصلہ کن ثابت ہونے والا ہے. اگر  موجودہ حکومت پھر سےحکومت میں واپس آگئی تو اسکا منصوبہ آپ سب جانتے ہی ہیں ۔ اور یہ بھی جان رہے ہیں کہ اس حکومت نے جھارکھنڈ کے مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچایا ہے یہاں سب سے زیادہ مسلمانوں کا خون سستہ کیا گیا اور مآب لینچگ کے واقعات سب سے زیادہ یہیں ہوئے ہیں ۔ جھارکھنڈ کے سیکولر لوگوں اور ووٹروں سے اپیل ہے کہ کسی ایسی پارٹی کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں جس کو ووٹ دے کر آپ سیکولر پارٹیوں کے ہرانے اور شکست دینے کا سبب بن جائیں ۔ ان کی لچھی دار تقریروں پر ہرگز نہ جائے گا ۔  ممکن ہے کہ وہ مخلص ہوں لیکن اخلاص کے ساتھ عمل اور حکمت عملی کا صحیح ہونا بھی ضروری ہے ۔ کوئی آدمی ہر جگہ ہر کام اور عمل میں مفید ہو ضروری نہیں ہے ۔ اشارہ آپ سمجھ گئے ہوں گے ،نام لےکر نشان دہی کرنا ضروری نہیں ہے ۔ 
                   آپ واقف ہیں کہ اس وقت مرکزی حکومت کا نشانہ کیا ہے؟ ان کا نشانہ     
ہندوستان کے دستور کو ختم کرنا ہے جسکے بعد 23 کروڑ مسلمانوں کی حیثیت دوسرے درجہ کی کردی جائیگی اسکے بعد رفتہ رفتہ یہاں کے مسلمانوں کا حال کیا ہوگا اللہ خیر کرے ،ایسی صورت حال  میں ہندوستانی مسلمانوں کی بقاء کے صرف دو راستے  ہونگے یا تو ہندو مذہب قبول کرلو یا پھر رفیوجی بن کرکسی اور ملک کو فرار ہوجاؤ. یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ ہم مسلمان آج بھی غفلت میں جی رہے ہی‍ں حتیٰ کہ ہمارے مذہبی رہنماء بھی کما حقہ اس تعلق سے لوگوں میں شعور پیدا کرنے سے قاصر ہی‍ں. جھارکھنڈ کے اس  الیکشن میں ہمارا اتحاد ہی سیکولر اور جمہوری طاقت کو محفوظ رکھ سکتا ہے  .اس لئے  آپکا ووٹ محض ایک ووٹ نہیں بلکہ آپکی اور آپکے گھر والوں کی زندگی بچانےکا ٹکٹ ہے.. آپکو بس ایک دو تین نکاتی لائحہ عمل پر کام کرنا ہے.. ایک نکتہ آپکے عمل کا ہے اور دوسرا دعاء کا… 
آپ ووٹ ایک مذھبی فریضہ سمجھ ڈالیں ۔ اس کی قیمت کو سمجھیں دوسروں کو سمجھائیں ۔ ووٹ کے دنوں میں کہیں کا سفر نہ کریں ،لازمی طور پر حق رائے دہی کا استعمال کریں ۔ بوڑھے کمزوروں اور خواتین کو ووٹ مراکز تک پہنچائیں، جتنی بھی تگہ و دو کرسکتے ہوں کریں ۔  
آپ ووٹ صرف ایک ہی سیکولر پارٹی اور اتحاد کو دیں اور اپنے سب ملنے والوں کی ذہن سازی بھی کریں آپ ان پارٹیوں کے سوا کسی دوسرے کو ووٹ ہرگز نہ دیں .. اگر کہیں آزاد امیدوار ہی مناسب اور لائق ہو جیتنے کی پوزیشن میں ہو اور ملک و ملت کے لئے مفید ہو تو اسی کو آگے بڑھا دیں ۔ 
دوسری چیز یہ ہے کہ ہم  خدا سے رشتہ اور تعلق مضبوط کریں اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں ،حالات کی تبدیلی کے لئے دعاؤں کا کثرت سے اہتمام کریں درود شریف کا ہر وقت ورد کریں ۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل نعم المولی و نعم النصیر کو اپنا وظیفہ بنائیں اور لا حول و لا قوۃ الا باللہ کو بھی پڑھتے رہیں ۔
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close