مضامین و مقالات

حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے! مولانا سید غفران ندوی مرحوم ! ترجمانی :عبد النور بن محمد شاکر ندوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
          مولانا سید غفران ندوی مرحوم صالحیت و صلاحیت کے جامع تھے*
  مولانا مجیب الرحمن ندوی                  ترجمانی :عبد النور بن محمد شاکر ندوی
    پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے     *حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے*
            *۲۳/ نومبر٢٠١٩ء مطابق ۲۵/ ربیع الاول ١٤٤١ھ*کو عشاء کی  نماز اور کھانے سے فارغ ہوکر جلد ہی بستر پر چلا گیا، تکان زیادہ تھی اس لئے مطالعہ کی اس وقت سکت اور ہمت ذرا بھی نہیں تھی، سونے سے پہلے موبائل ڈاٹا آن کیا تو مختلف گروپوں پر گرامی قدر مولانا *سید غفران ندوی* (نواسہ حضرت قاری صدیق صاحب رح و استاد دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو) کی کارمیں وفات کی خبر گردش کررہی تھی،اور بڑے بھائی ڈاکٹر عمران کی نازک حالت میں ہونے کی اطلاع آرہی تھی، کوئ اس خبر کو قطعی اور حتمی بتا رہا تھا اور کوئ خبر کی تصدیق سے انکار کر رہا تھا ۔ دل و دماغ تقاضا کررہا تھا کہ کاش یہ خبر جھوٹی ہو کسی طرح  صحیح نہ ہو ۔ اس خبر سے ایک بجلی سی گری۔ دل دھک سا ہوگیا اور دماغ مفلوج و ماوف سا ہوگیا باطن کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے، لیکن واقعہ ہے کہ ہمارے جیسے ہزاروں لوگوں کے دلوں پر اس کا گہرا صدمہ اور اثر اب تک ہے ۔ میری حالت اس خبر سے عجیب سی ہوگئی صدمہ اور حادثے کا اثر اتنا گہرا ہے کہ طبیعت اب تک اداس اور بجھی بجھی سی ہے ۔
         *مصائب  اور  تھے  پر  دل کا جانا*.                       *عجب  ایک  سانحہ سا ہوگیا ہے*
       *ایسا غیر معمولی سانحہ جو  غیروں کے دل ہلا دینے کے لئے کافی ہے ۔ چہ جائے کہ والدین بیوی بچہ اور قریبی اعزہ کا۔ نوجوان، ہونہار، صلاحیت اور صلاحیت کا جامع اولاد کی تو موت لمبی بیماری کے بعد بھی آسانی سے قابل برداشت نہیں ہوتی نہ کہ ایسی آنا فانا ۔ بس جس نے یہ وقت ڈالا ہے وہی صبر دے ۔ لیکن ایسی آزمائش ہر ایک کی نہیں ہوتی صرف انہیں خوش نصیبوں کے نصیب میں آتی ہے جن کے نصیب میں اجر بے پایاں ہوتا ہے ۔ آزمائش ہمیشہ ظرف کے مناسبت سے ہوتی ہے اور عالی ظرفی کا اندازہ انسان کو نہیں صرف انسان کے خالق و مالک ہی کو ہوسکتا ہے ۔ سینکڑوں مجاہدوں سے وہ مرتبہ نہیں ملتا جو ایک اس طرح کے اضطراری مجاہدہ سے مل جاتا ہے ۔
خاکساری، تواضع فروتنی انکساری، راست بازی،  مروت ،صداقت و شرافت نجابت و فطانت صلاحیت و صلاحیت ،حلم ۔ شگفتہ مزاجی انسانی زندگی کے وہ سدا بہار و خوشنما پھول ہیں جن سے چمن انسانیت ہمیشہ عطر بیز رہتا ہے، اور جب یہ صفات کسی مومن صادق کی خوبی اور صفات بن کر جلوہ گر ہوئیں ہیں تو رنگ و نور ،پاکیزگی بھولے پن کی ایسی البیلی قوس و قزح روشن و منور ہوتی ہے، جس کے پاکیزہ اجالے میں شر و فساد حرص و ہوس خود غرضی مفاد پرستی بدخواہی کی ظلمتین کافور اور تاریکیاں مٹ جاتی ہیں ۔ مولانا سید غفران ندوی مرحوم کا شمار انہیں عالی صفات افراد میں تھا، جن کے وجود سے انسانیت اور معاشرہ میں اعتبار و وقار پیدا ہوتا ہے ۔ مرحوم کی خاندانی نسبت بہت اونچی تھی ،حضرت صدیق دوراں رحمۃاللہ علیہ کی نشو و نما اور تعلیم و تربیت کا بہت بڑا دخل تھا، ان کی دعائیں اور توجہ خوب ملی تھی، اس لئے بچپن سے ہی اپنے عالی مرتبہ خاندان کے دیگر افراد کے نقش قدم کے عین مطابق انہیں صفات سے متصف تھے، جس پر ان کے فطری بھولے پن نے ان کی ذات میں اور کشش اور جاذبیت و سحر پیدا کردیا تھا ۔
       کھلتا ہوا گندمی رنگ مائل  بہ گدازی جسم،متوسط قد بھرے بھرے پروقار چہرہ پر نورانی سیاہ داڑھی نرم و شگفتہ اور روشن آنکھیں ۔کشادہ جبین متوسط و درمیانہ قسم کا لباس نرم مزاج خوشنما سراپا تہذیب و تمدن کے ڈھانچے اور سانچے میں دھلی پاکیزہ سیرت شریں انداز گفتگو شریعت کے پابند اساتذہ اور بڑوں کے مطیع و فرمانبردار دین و ملت کے خاموش خادم اور مصنف و مولف یہ تھے ہمارے عالم باعمل استاد  دار العلوم ندوة العلماء لکھنئو کے استاد مولانا سید غفران ندوی مرحوم ۔
       ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت جامعہ اسلامیہ عربیہ ھتورا باندہ میں حضرت قاری صاحب رح کی نگرانی و سرپرستی میں ہوئ ۔ ثانوی اور عالیہ کے بعض درجات کی تعلیم ضیاء العلوم میدان پور تکیہ کلاں رائے بریلی میں ہوئی اور پھر ندوہ سے عالمیت اور فضیلت کا نصاب مکمل کرکے ندوہ میں تدریس سے منسلک ہوگئے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن اور لکھنئو یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن کیا اور اب وہ لکھنئو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کر رہے تھے ۔ ندوہ کے سنجیدہ اور باوقار اساتذہ میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔ تدریس کے ساتھ تحقیق و تصنیف کے کاموں میں بھی مصروف تھے ۔ لیکن بہت خاموشی کے ساتھ ۔  اصول الشاشی ۔ مشکوة المصبایح پر انہوں مراجعت اور  تعلیق و حواشی کا کام کیا ہے جو شائع ہوچکی ہیں ۔ زبدة التفاسیر جو قدیم تفسیر کی کتاب ہے جو ایک  گجراتی عالم دین شیخ الاسلام عبد الوہاب رح  کی ہے  اس پر حضرت مولانا عبد القادر صاحب ندوی مدظلہ العالی کی نگرانی میں کام کیا جس کی پہلی جلد چھپ کر آگئی ہے ۔ اپنے نانا جان حضرت قاری صاحب رح کی حیات و خدمات پر *صدیق دوراں* ان کی تصنیف ہے اور بھی کئی علمی و  تحقیقی کام کررہے تھے ۔ اور بھی بہت سے منصوبے اور عزائم تھے ۔
     وہ بھی انسان تھے فرشتہ نہ تھے ۔ ان سے بھی غلطیوں اور کوتاہیوں کر صدور ہوا ہوگا لیکن ہمیں حکم ملا ہے کہ مرنے والوں کا بھلائی کے ذکر کرو، بس دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی جگہ نصیب فرمائے صدیقین شہداء اور صالحین کے ساتھ اٹھائے جائیں، آمین ثم آمین
       * ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے*                           *سبز نورستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے*
       یہاں مین مولانا سید غفران ندوی مرحوم کے اہل خانہ تمام اہل تعلق رشتہ داروں  اساتذہ اور ان کے طلبہ نیز ذمہ داران دار العلوم ندوة العلماء کی تسلی و تعزیت کے لئے اور ان کے صدمہ اور غم کو ہلکا کرنے کے لئے حضرت مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃاللہ کی ایک اقتباس  ذیل میں پیش کرتا ہوں ۔
      *موت کو لوگوں نے ہوا بنا رکھا ہے ۔ یہ ہرگز کوئی عذاب نہیں یا بری حالت نہیں ۔ جو منزل پیغمبروں کے لئے ناگزیر رکھ دی گئی ہے وہ بری کیوں کر ہوسکتی ہے یہ تو مادی آلائشوں سے آزاد ہونے اور روح کو اپنے جوہر لطیف کی طرف رجوع ہونے کا مبارک وقت ہوتا  ہے ہر مسلمان کے لئے سرتاسر برکت و رحمت طبعی طور پر جدائی کا رنج و قلق تو ہوتا ہی ہے اور ہونا بھی چاہیے ۔ باقی عقلی طور پر مسرت و ادائے شکر کا موقع،وہاں جس جس سے ملاقات ہورہی ہوگی اس خوشی کا اندازہ دنیا کی عام خوشبوؤں سے کوئ مقابلہ نہیں* ۔( مکتوبات ماجدی) ۔۔۔
سنی حکایت ہستی تو درمیاں سے سنی   نہ ابتدا کی خبر نہ انتہا کی خبر
                   اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین و پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close