مضامین و مقالات

اتمامِ حجت ضروری ہے ! صباح الدین ملک

اتمامِ حجت ضروری ہے
صباح الدین ملک
رویو پٹیشن دائر کی جائے یا نہیں، اس پر دونوں رائیں موجود ہیں۔ ہماری رائے دائر کرنے کے حق میں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری قانونی لڑائی اس کے بغیر ادھوری رہے گی۔ ٢٠١٠ کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہمارا سپریم کورٹ جانا ایک مناسب ترین قدم تھا۔ اب سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلے کے بعد نظر ثانی کے لیے جانا قانونی عمل کی تکمیل کرنا اور اسے معقول قانونی انجام تک پہنچانا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ملت کو اپنی قانونی لڑائی کو آخر حد لڑنے کا اطمینان حاصل ہو۔ اسے یہ اطمینان حاصل ہو کہ اس نے اللہ کی مسجد کی قانونی حفاظت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگر ہم نے آج ایسا نہیں کیا تو ہمیشہ کے لیے ملت کے ضمیر میں یہ کسک اور چبھن باقی رہ جائے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ فیصلے میں عدل و انصاف کے جس میزان کو استعمال کیا گیا ہے، وہ اپنی مفہومیت سے عاجز ہے، جب کہ مسلمہ قاعدہ یہ ہے کہ عدل کو کم از کم قابلِ فہم ہونا چاہیے۔ عام انسان اور بہت سے ماہرینِ قانون فیصلہ (نتیجہ) اور فیصلے کے پیچھے مقدمات میں کوئی منطقی تعلق ڈھونڈنے میں اپنےکو ناکام پارہے ہیں۔ بلکہ اس عمل میں صرف سادہ خطا ہی نہیں، بلکہ استدلال کے اندر داخلی تضاد اور تناقض پا رہے ہیں۔ اور اگر فیصلے کے مآل کو دیکھا جائے تو مآلی نظریہ سے بھی یہ فیصلہ اپنے اندر خطرناک عواقب کی بدشگونی چھپائے ہوئے ہے۔
 بہ ہر حال ضروری ہے کہ اپنے ملک کی عدالت کے عادلانہ عمل کوطپوری طرح منقح کیا جائے، اور اس کی شبیہ کو داغ دار ہونے سے بچایا جائے۔ بابری مسجد مقدمہ، عدالت کی تاریخ میں ایک امتحانی مقدمہ ہے۔  خدا کرے ہمارا ملک عدل و انصاف کے اس امتحان میں کامیاب ہوجائے، آمین۔
  ریویو پٹیشن کی کارروائی اور عمل میں ان تجزیوں اور قانونی تبصروں سے بھر پور استفادہ کیا جائے جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے پر کیے گئے ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ظلم و نا انصافی کو عدل اور انصاف کے غلاف میں کس طرح اور کس مہارت سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سابق وائس چانسلر کے ایک ٹی وی چینل پر پینل ڈبیٹ میں پیش کیے گئے خیال، ایڈوکیٹ شاہد علی کے قانونی تجزیہ، پروفیسر فیضان مصطفیٰ، ایڈوکیٹ محمود پراچہ اور پروفیسر اپوروانند کے تجزیہ، بیرسٹر اسد الدین اویسی کے بیانات، ملک کے کچھ دیگر ججوں اور دانشوروں کے خیالات اور جناب جاوید غامدی وغیرہ کے بیانات و خیالات کو سامنے رکھا جائے۔
 عددی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے ایک کمزور ملت اپنے حقوق کی لڑائی، ان میدانوں میں نہیں لڑ سکتی ہے۔ قانونی لڑائی بھی سستی نہیں ہے۔ پھر بھی، کسی طرح بھی یہ لڑائی اس نے اب تک لڑی ہے۔ اب اس لڑائی کا آخری معرکہ ریویو پٹیشن کی شکل میں اسے لازماً لڑنا چاہیے۔ اب جب کہ وہ مقابل فریق، اور اس کے ہمنوائوں کے قانونی پیتروں اور داءوں پیچ، نیت اور طریقہ واردات سے بڑی حد تک واقف بھی ہے، اس تاریخی لڑائی کو قانون کی حد تک اس کے انجام تک پہنچنا ہی چاہیے۔ امید ہے ملت کے اربابِ حل و عقد غور فرمائیں گے۔
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close