مضامین و مقالات

اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خودکرنی ہے! سرفراز احمدملی القاسمی 

اپنے کعبے کی حفاظت  تمہیں خودکرنی ہے!
✏ سرفراز احمدملی القاسمی
           حیدرآباد
دنیا میں جتنی قومیں آباد ہیں،ہرقوم اورہر مذہب کے لوگوں کےلئے اپنی مذہبی فرائض ہیں،جسکی انجام دہی لازمی اور ضروری ہے،اب ہرمذہب کے ماننے والوں کاالگ الگ طریقہ کارہے،اسکے انجام دہی کے مخصوص طریقے ہیں، ہدایات ہیں جسکی روشنی میں متعلقہ کے مذہب والے اس فرائض کی تکمیل کرتے ہیں،اسلام چونکہ ایک آفاقی اورابدی مذہب ہے جوقیامت تک جاری وساری اورباقی رہےگا اسلئے اسکی عبادتیں، اسکے فرائض اورلوازمات بھی دوسرے مذاہب سے یکسر مختلف ہیں،اسلام جہاں اس بات کی تعلیم دیتاہے کہ دنیوی زندگی میں، انسان معاشرے میں انسانیت کااحترام باقی رہے،لیکن اسکے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات پرعمل آوری  بھی لازمی اورضروری ہے،کسی صورت اس سے راہ فراراختیار نہیں کیاجاسکتا،نماز،روزہ حج، زکوٰۃ اوراس قسم کی دوسری چیزیں اسی قبیل کی ہیں،اور یہ وہ احکام ہیں جنکو بغیرکسی شرعی عذرکے چھوڑنے پر سزاکااعلان کیاگیاہے،اسلام نے جو فرائض اورعبادات مسلمانوں پر فرض کی ہیں،ان سب کے محل وقوع، طریقہ کار بھی مقرر کیاہے،مثال کے طورپر نماز کاحکم دیاگیا تو یہ بھی بتلایاگیاکہ نماز پڑھنے سے پہلے پاکی وصفائ حاصل کرنی ہے،وقت کاانتظار کرناہے، قبلے کی تعیین کرنی ہے،اگراسکےلئے آپ کے قرب جوارمیں اگرمسجد بنی ہوئی ہے تومردوں کےلئے بہتراورافضل یہ ہے کہ مسجد میں جاکراپنی نماز اداکرے،لیکن کسی ایسی جگہ آپ ہیں جہاں کوئی مسجد نہیں اورسمت قبلہ بھی آپ کو نہیں معلوم تو ایسی صورت میں بھی آپ کےلئے ضروری ہےکہ قبلہ کی تعیین کریں اورپاک صاف جگہ پراپنی ننمازاداکریں، اسلام کاہرفیصلہ، ہرہدایات اوراسکی تمامتر تعلیمات کامبدا یہ ہے کہ لوگوں میں وحدت کاخیال رکھتاہے اسی لئے قبلے کی تعیین کی گئی اورنظم وضبط کوبرقراررکھنے کےلئے یہ حکم دیاگیاکہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمان ایک متعین سمت کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے،علماء نے لکھاہے کہ دوسری مصلحتوں کی وجہ سے بھی سمت قبلہ کی تعیین کی گئی ہے تاکہ دینی وحدت کاعملی مظاہرہ کیاجاسکے،مساجد کو اسلام میں
بہت اہم مقام حاصل ہے
قرآن کریم میں ایک جگہ مسجد کے بارےمیں ہے کہ "اورمسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں سومت پکارو(اس میں)اللہ تعالیٰ  کےساتھ کسی کو”(سورہ جن)علماء نےاس آیت کی تفسیرکرتے ہوئے لکھاہے کہ”مساجد،مسجد کی جمع ہے،یہاں اسکے معروف ومشہور معنی بھی لئے جاسکتے ہیں،یعنی وہ عبادت  گاہیں جونماز کےلئے وقف کی
 جاتی ہیں،اورمسجد کہلاتی ہیں،اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کےلئے بنائی گئ  ہیں توتم مسجدوں میں جاکر اللہ کے سوا کسی اورکو مدد کےلئے نہ
 پکارو،جسطرح یہود ونصاری اپنی عبادتگاہوں میں شرک کاارتکاب کرتے ہیں،حاصل اسکامساجد کوعقائد فاسدہ اوراعمال باطلہ سے پاک رکھناہے،
اوریہ ہوسکتاہے کہ مساجد،مسجد بفتح الجیم کی
 جمع ہوجومصدرمیمی  سجدہ کے
 معنی میں آتاہے،تواس اعتبار سے آیت کےمعنی یہ
 ہوں گے،سب سجدے صرف اللہ کےلیے مخصوص
 ہیں اورجوشخص غیراللہ کو اعانت کےلئے پکارتا ہے گویاوہا اسکو سجدہ کرتاہے،لہذا غیراللہ کےسجدے سے اجتناب کرو”(معارف القرآن )اب جب کہ ہم نے یہ سمجھ لیاکہ مسجد کی تعمیرکامقصد کیاہے؟تو اب یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ مسجد کے تئیں ہماری ذمہ داری کیاہے؟قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ ہے کہ”اس سے بڑاظالم اورکون ہے جس نے روکامسجدوں میں اللہ کانام لینے سےاوراسکو اجاڑنے کی کوشش کی،ایسوں کولائق نہیں کہ داخل ہوں ان میں مگرڈرتے ہوئے،انکےلئے دنیامیں ذلت ہے اورآخرت میں بھی بڑاعذاب ہے”(سورہ بقرہ)علماء نے لکھاہے کہ یہ حکم تمام مساجد کے بارےمیں ہے،کس ایک مسجد کےلئے خاص نہیں،حضرت تھانویؒ اس آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ”ویرانی مساجد میں کوشاں گروہ، کی دنیامیں تو یہ رسوائی  ہوئی کہ یہ ساری قومیں(جس نے خانہ کعبہ کو ویران کرنےکی کوششیں کی تھی)اسلامی سلطنت کی رعایااورباج گذار ہوئیں،اورعذاب آخرت تو کافرہونے کی وجہ سے ظاہرہے ہی،اورویرانی مساجد میں کوشش کے سبب یہ عذاب اوربھی سخت وشدید ہوجائے گا”(بیان القرآن)مفتی محمد شفیع عثمانیؒ صاحب لکھتے ہیں کہ”زمانہ اسلام سے پہلے جب یہودیوں نے حضرت یحییٰؑ کو قتل کرڈالا توروم کے نصاری نے ان سے انتقام لینے کی خاطرعراق کے ایک مجوسی بادشاہ کے ساتھ مل کراپنے بادشاہ طیطوس کی سرکردگی میں شام کے بنی اسرائیل پرحملہ کرکے انکو قتل و غارت کیااورتورات کے نسخے جلاڈالے،بیت المقدس میں نجاسات اورخنزیرڈال دئیے اسکی عمارت کو خراب وویران کردیا،بنی اسرائیل کی شوکت وقوت کوبالکل پامال اورختم کردیا،آپ ﷺ کے عہد مبارک تک بیت المقدس اسی طرح ویران ومنہدم پڑاتھا،فاروق اعظمؓ کے عہد میں جب شام وعراق فتح ہوئے توآپؓ کے حکم سے دوبارہ تعمیرکرائ گئی،زمانہ درازتک پورا ملک شام و بیت المقدس مسلمانوں کےقبضے میں رہاپھرایک عرصہ کے بعد وہ مسلمانوں کے قبضے سے نکل گیااورتقریبا سوسال یورپ کے عیسائیوں کااس پرقبضہ رہا،تاآنکہ چھٹی صدی ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے پھراسکو فتح کیا،رومی نصاریٰ کی اس گستاخانہ حرکت پرکہ تورات کو جلایا اوربیت المقدس کو خراب وویران کرکے اسکی بےحرمتی کی،اسی واقعہ کوبیان کرنے کےلیے یہ آیت نازل ہوئی”(معارف القرآن)دوسرے مفسرین نے اس آیت کاشان نزول یہ بیان کیاہے کہ جب مشرکین مکہ نے رسول اکرم ﷺکو صلح حدیبیہ کےوقت مسجد حرام میں داخل ہونے اورطواف کرنے سے روک دیاتو یہ آیت نازل ہوئی(ابن کثیر)اس آیت کاتعلق مسجد حرام سے ہو یابیت المقدس سے،قرآن نے’مساجد اللہ’فرماکرتمام مساجد پراس حکم کو عام کردیا،اوراب اس آیت کامضمون یہ ہوگیاکہ جوشخص اللہ تعالی کی کسی مسجد میں لوگوں کو اللہ کاذکرکرنے سے روکے یاکوئ ایسا کام کرے جس سے مسجد ویران ہوجائے تووہ بہت بڑاظالم ہے،مساجداللہ کاتقاضہ یہ ہے کہ جوشخص اس میں داخل ہو ہیبت وعظمت اورخشوع وخضوع کے ساتھ داخل ہو،جیسے کسی شاہی دربارمیں داخل ہوتے ہیں،اس آیت سے یہ بھی معلوم ہواکہ ذکرونمازسے روکنے کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ سب ناجائز اورحرام ہیں،ان میں سے ایک صورت یہ بھی ہے کہ کسی کو مسجد میں جانے سے یاوہاں نمازوتلاوت کرنےسے صراحتاً روکاجائے،دوسری صورت یہ ہے کہ مسجد میں شوروشغب کرکے یااسکے قرب جوارمیں باجے گاجے بجاکر لوگوں کی نمازوذکر وغیرہ میں خلل ڈالے یہ بھی ذکراللہ سے روکنے میں داخل ہے،اسی طرح اوقات نمازمیں جبکہ لوگ اپنی نوافل یاتسبیح وتلاوت وغیرہ میں مشغول ہوں،مسجد میں کوئی بلند آوازسے تلاوت یاذکرباالجہر کرنےلگےتو یہ بھی نمازیوں کی نمازوتسبیح  میں خلل ڈالنے اورایک حیثیت سے ذکراللہ کوروکنے کی صورت ہے،اسی لئے حضرات فقہاء نے اس کو بھی ناجائز قرار دیاہے،ہاں جب مسجد عام نمازیوں سے خالی ہو اس وقت بلند آواز سے ذکریاتلاوت کرنے سے کوئی مضائقہ نہیں،ایسے ہی اس آیت سے یہ بھی معلوم ہواکہ جس وقت لوگ نماز وتسبیح وغیرہ میں مشغول ہوں،مسجد میں اپنےلئےسوال کرنایاکسی دینی کام کےلئے چندہ کرنابھی ایسے وقت میں ممنوع اورناجائزہے،ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ مسجد کی ویرانی کی جتنی بھی صورتیں ہیں سب حرام ہیں،اس میں جس طرح کھلے طورپر مسجد کومنہدم اورویران کرناداخل ہے اسی طرح ایسے اسباب پیداکرنابھی اس میں داخل ہےجنکی وجہ سے کوئی مسجد ویران ہوجائے اورمسجد کی ویرانی یہ ہے کہ وہاں لوگ نمازکےلئے نہ آئیں یاوہاں نمازی کم ہوجائیں،کیونکہ مسجد کی تعمیروآبادی دراصل درودیوار یاانکے نقش ونگار سے نہیں بلکہ ان میں اللہ کاذکرکرنےوالوں سے ہے،شایداسی لئے رسول اکرمﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ”قرب قیامت میں مسلمانوں کی مسجدیں بظاہر آباد اورمزین وخوبصورت ہونگی، مگرحقیقتا وہ ویران ہونگی کہ ان میں حاضرہونے والے نمازی کم ہوجائیں گے،(معارف الحدیث)حضرت علی المرتضیٰؓ کاارشاد ہے کہ شرافت وانسانیت کے چھ کام ہیں،تین سفرکے اورتین حضرکے،حضرکے تین یہ ہیں تلاوتِ قرآن کرنا،مسجدوں کوآباد کرنا،ایسے لوگوں کی جمعیت بناناجواللہ تعالیٰ اوردین کے کاموں میں امدادکریں،اورسفرکے تین یہ ہیں اپنے توشہ سے غریب ساتھیوں پرخرچ کرنا،حسن خلق سے پیش آنااوررفقائے سفرکے ساتھ ہنسی خوشی،تفریح وخوش طبعی کاطرزعمل رکھنا بشرطیکہ یہ خوش طبعی گناہ کی حد میں داخل نہ ہوجائے،حضرت علی کے اس ارشاد میں مسجدوں کے آباد کرنےکامطلب یہی ہے کہ وہاں خشوع،خضوع کے ساتھ حاضر بھی ہوں،اوروہاں حاضرہوکرذکروتلاوت میں مشغول رہیں،اس کے مقابلے میں مسجد کی ویرانی یہ ہوگی کہ وہاں نمازی نہ رہیں یاکم ہوجائیں یاایسے اسباب جمع ہوجائیں جن سے خشوع خضوع میں خلل ہو،ان سب چیزوں سے بچنے کی ضرورت ہے،یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ جہاں ایک بار مسجد بن جاتی ہے وہ جگہ قیامت تک مسجد رہےگی،چاہے اسے وقت کی ظالم حکومت اورطاقت شہید ہی کیوں نہ کردے،ملک کے حالیہ واقعات یقیناً تشویشناک ہیں اورجمہوری ملک کے ماتھے پرایک بدنماداغ بھی، ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ اتارچڑھاؤ، اورجزوی تبدیلی تاریخ کاایک حصہ ہے جس سے ہمیں سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے،بابری مسجد انشاءاللہ قیامت تک مسجد رہےگی،مسجد چونکہ اللہ تعالیٰ کاگھرہے،اسلئے وہ اپنے گھرکی حفاظت خودکرے گا،انشاءاللہ،ہمیں ایسے موقع پر مایوسی کاشکار نہیں ہوناچاہیے بلکہ ہماری جو ذمہ داری ہے اسکی ادائیگی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،بابری مسجد کی قضیہ یہ دنیاکاآخری قضیہ ہرگزنہیں ہوسکتااللہ تعالیٰ اس بات پرپوری طرح قادر ہے کہ وہ سکنڈوں میں حالات تبدیل کردے،شرط یہ ہے کہ ہم اپنے حالات،اعمال اورکردارکوبدلنے کےلیے تیارہوجائیں،اللہ تعالیٰ مدد اورنصرت آئے گی،ہماری مسجدیں جوہماری بستی اورہماری آبادی میں موجود ہیں آخرکیوں یہ مرثیہ خواں ہیں کبھی ہم نےاس پرغورکیا؟کیایہ مسجدیں ہمیں بددعائیں نہیں دیتی ہیں؟پھرکیونکرہم پرعذاب نازل نہ ہو؟بابری مسجد ایک ہی ایسی مسجد نہیں ہے جوہم سے چھین لی گئ،شہرحیدرآباد کے اطراف آج بھی سوسے زائد ایسی مساجد ہیں جنکاکوئ پرسان حال نہیں،زمانے سے وہ مساجد ویران پڑی ہیں؟کبھی ہم نے یہ سوچاکہ آخر ایساکیوں ہے؟کبھی ہم نے ان مساجد کو آباد کرنے کی فکرکی؟ شایدایسے ہی موقع کےلئے کسی شاعر نے کہاہے
اپنے کعبے کی حفاظت  تمہیں خود کرنی ہے
اب ابابیلوں کا کا لشکر نہیں آنے والا
برائےرابطہ 8801929100
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close