مضامین و مقالات

گرونانک: ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے!تحریر: غوث سیوانی

گرونانک: ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
email:ghaussiwani@gmail.com
Ghaus Siwani ki Mehfil/Facebook

بھادوں کے اماوس کی سیاہ رات میں بادلوں کی ڈراؤنی گڑگڑاہٹ، بجلی کی گونج اور بارش کے جھونکوں کے درمیان جبکہ مکمل گاؤں نیند کی آغوش میں تھا، ایک ہی شخص جاگ رہا تھا’’نانک‘‘ ۔نانک دیر رات تک جاگتے رہے اور گاتے رہے۔ آدھی رات کے بعد ماں نے دستک دی اور کہا ‘بیٹے، اب سو بھی جاؤ،رات کتنی گزر گئی ہے۔نانک رکے، لیکن اسی وقت پپیہے نے شور مچانا شروع کر دیا۔ نانک نے ماں سے کہا ‘ماں ابھی تو پپیہا بھی چپ نہیں ہوا۔ یہ اب تک اپنے پیارے کو پکار رہا ہے۔ میں کس طرح چپ ہو جاؤں؟ جب تک یہ گاتا رہے گا، تب تک میں بھی اپنے عزیز کو پکارتا رہونگا۔نانک نے پھر گانا شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ ان کا دل دوبارہ یادِمحبوب میںغرق ہو گیا۔ کون ہیں یہ نانک؟ کیا صرف سکھ مذہب کے بانی؟نہیں، انسانی مذہب کے موجد۔ کیا وہ صرف سکھوں کے گرو تھے؟ نہیں، وہ انسانیت کے استاذ تھے۔ پانچ سو سالوں پہلے انھوں نے جن پاکیزہ تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا وہ آج بھی انسانیات کو جگمگا رہی ہیں۔
گرونانک کون تھے؟
گرو نانک دیو سکھوں کے پہلے گرو تھے۔ گرو نانک دیو 15 اپریل 1469 ء کو ننکانہ صاحب (ضلع لاہور۔پاکستان) میںپیدا ہوئے۔ گرو نانک جی کی یاد کا تیوہار کارتک پورنما کو منایا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ان کی پیدائش کے وقت وہ گھر انجان روشنی سے بھر اٹھا جہاں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔والدبابا کالوچند بیدی اور والدہ تری پاتا نے بچے کا نام نانک رکھا۔ گاؤں کے پروہت پنڈت ہردیال نے جب لڑکے کے بارے میں سنا تو انہیں سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اس میں ضرور خدا کا کوئی راز چھپا ہوا ہے۔ان کے والد کھتری ذات و بیدی خاندان کے تھے۔ وہ زراعت اور سادہ کاروبار کرتے تھے اور گاؤں کے پٹواری بھی تھے۔گرو نانک دیو کا بچپن گاؤں میں بسرہوا۔انھیں بچپن سے ہی غور وفکر کی عادت تھی۔ ان کے ساتھی جب کھیل کود میں اپنا وقت بسر کرتے تو وہ آنکھ بند کر خودسوچ وفکر میں ڈوب جاتے تھے۔ ان کے اس رجحان سے ان کے والد کالو تشویش میں مبتلارہتے تھے۔بچپن سے ہی گرونانک جی کے ذہن میں روحانی جذبات موجود تھے۔ والد نے پنڈت ہردیال کے پاس انہیں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا۔پنڈت جی نے نانک کو علم دینا شروع کیا تو لڑکے کے حیرت انگیز کمالات سے خود بھی تعجب میں پڑ گئے اور احساس ہونے لگا کہ بچے میں کچھ خاص ہے۔اس کے بعد نانک کو ایک مقامی عالم مولوی قطب الدین کے پاس پڑھنے کے لئے بٹھایا گیا۔ نانک کے سوالوں کو سن کر مولوی صاحب کو بھی حیرت ہوئی۔مکتب کی دیواریں نانک کو باندھ کر نہ رکھ سکیں۔ گرو کی طرف سے دیا گیا سبق انہیں نیرس اور بیکار لگتا ۔اسی دوران ایک بار والد نے انہیں بھینس چرانے کے لئے جنگل میں بھیجا۔ جنگل میں بھینسوں کی فکر چھوڑ وہ آنکھ بند کر خدا کی فکر میںڈوب گئے۔ بھنیسیں پاس کے کھیت میں گھس گئیں اور سارا کھیت متغیر کرڈالا۔ کھیت کا مالک نانک دیو کے پاس جا کر شکایت کرنے لگا۔جب نانک نے نہیں سنا تو زمیندار کے پاس پہنچا۔ نانک سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ گھبرائو مت، اسی کے جانور ہیں، اسی کا کھیت ہے۔ اس نے ایک بار فصل اگائی ہے تو ہزار بار اگا سکتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کوئی نقصان ہوا ہے۔ وہ لوگ کھیت پر گئے اور وہاں دیکھا تو دنگ رہ گئے، کھیت تو پہلے کی طرح ہی لہلہا رہا تھا۔
ایک بار وہ بھینس چراتے وقت کسی خیال میں کھوئے ہو ئے ،کھلے میں ہی لیٹ گئے۔ سورج تپ رہا تھا جس کی روشنی براہ راست آپ کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ تبھی اچانک ایک سانپ آیا اور ننھے نانک کے چہرے پر پھن پھیلا کر کھڑا ہو گیا۔ زمیندار وہاں سے گزرے۔ انہوں نے یہ حیرت انگیز منظر دیکھا تو حیرت کا ٹھکانا نہ رہا۔ انہوں نے نانک کو من ہی من سجدہ کیا۔ اس واقعہ کی یاد میں اس مقام پر ایک گرودوارے کی تعمیر کی گئی۔
سوال اٹھانے والے گرو
گرونانک جی کے زمانے میں مذہب کے نام پر جو اندھ وشواس پھیلا ہوا تھا اس کی آپ نے سخت مخالفت کی اور رسموں سے اوپر اٹھ کر مذہب کی روح سے لوگوں کو آگاہ کرنے کا کام کیا۔ جب جنیو کی رسم ہورہی تھی تو انہوں نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ اگر سوت کے ڈالنے سے میرا دوسرا جنم ہو گا، تو ٹھیک ہے،لیکن اگر جنیو ٹوٹ گیا تو؟پنڈت نے کہا کہ بازار سے دوسرا خرید لینا۔ اس پر نانک کہہ اٹھے، "تو پھر اسے رہنے دیجئے۔ جو خود ٹوٹ جاتا ہے، جو مارکیٹ میں بکتا ہے، جو دو پیسے میں مل جاتا ہے، اس سے خدا کی تلاش کیا ہوگی؟ مجھے جس جنیو کی ضرورت ہے اس کے لئے رحمت کے کپاس ہوں، اطمینان کا سوت ہو، ضبط کی گرہ ہو اور حق سے جنیو کی تکمیل ہو۔ یہی مخلوق کے لئے روحانی جنیو ہے۔ یہ نہ ٹوٹتا ہے، نہ اس میں گندگی لگتی ہے، نہ ہی جلتا ہے اور نہ ہی کھوتا ہے۔
ایک بار والد نے سوچا کہ نانک سست ہو گیا ہے تو انہوں نے کھیتی کرنے کی صلاح دی۔ اس پر نانک جی نے کہا کہ وہ صرف سچی کھیتی باڑی ہی کریں گے، جس میں دل کو ہلواہا، نیک اعمال کو زراعت، محنت کو پانی اور جسم کو کھیت بنا کر اطمینان کو اپنی قسمت بنانا چاہئے۔
گرو کی تعلیمات
گرونانک جی دیو نے اپنے پیروکاروں کو زندگی کے دس اصول دیئے تھے، جن کی معنویت آج بھی برقرار ہے ۔یہ اصول اس طرح ہیں۔
1۔ خدا ایک ہے 2. ہمیشہ ایک ہی خدا کی عبادت کرو 3. ۔دنیا کا خالق ہرجگہ اور ہر مخلوق میں موجود ہے 4.۔ سب سے قوت والے خدا تعالی پر یقین رکھنے والوں کو کسی کا خوف نہیں رہتا 5.۔ ایمانداری سے محنت کرکے مقاصد کی تکمیل کرنی چاہئے 6.۔ برا کام کرنے کے بارے میں نہ سوچیں اور نہ کسی کو ستائیں۔ 7۔ ہمیشہ خوش رہنا چاہئے۔ خدا سے ہمیشہ مغفرت کی دعاء مانگنا چاہئے. 8۔ محنت اور ایمانداری سے کمائی کرکے اس میں سے ضرورت مندوں کو بھی کچھ دینا چاہئے 9.۔ تمام عورت اور مرد برابر ہیں. 10۔ کھاناجسم کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے لیکن لالچ اورذخیرہ اندوزی بری عادت ہے۔
ان کی زندگی سے جڑے اہم گرودوارے
1 ۔گرودوارہ کندھ صاحب، بٹالا (گرداسپور)
گرو نانک جی کی یہاں بی بی سلکھشنا سے 18 سال کی عمر میں 1544 میں شادی ہوئی تھی۔ یہاں گرو نانک کی شادی کی سالگرہ پر ہر سال جشن کا انعقاد ہوتا ہے۔
2 ۔گرودوارہ ہاٹ صاحب، سلطان پور لودھی (کپورتھلا)
گرونانک جی نے بہنوئی جے رام کے ذریعے سلطان پور کے نواب کے یہاں شاہی ذخیرے کی نگرانی کی نوکری شروع کی۔وہ یہاں پر مودی بنا دیئے گئے۔ نواب، نوجوان نانک سے کافی متاثر تھے۔
3 ۔گرودوارہ گرو کا باغ، سلطان پور لودھی (کپورتھلا)
یہ گرو نانک دیوجی کا گھر تھا، جہاں ان کے دو بیٹوں بابا شری چند اور بابا لکشمی داس کی پیدائش ہوئی تھی۔
4 ۔گرودوارہ کوٹھی صاحب، سلطان پور لودھی (کپورتھلا)
نواب دولت خان لودھی نے حساب کتاب میں گڑبڑی کے اندیشے کے سبب جیل بھیج دیا تھا، لیکن جب نواب کو اپنی غلطی کا پتہ چلا تو اس نے انھیں چھوڑدیا اور معافی ہی نہیں مانگی بلکہ وزیر اعظم بنانے کی تجویز بھی رکھی، لیکن گرو نانک نے اس تجویز کو ٹھکرا دیا۔
5۔گردوارا بیری صاحب، سلطان پور لودھی (کپورتھلا)
جب ایک بار گرو نانک جی اپنے سکھا مردانا کے ساتھ وین دریا کے کنارے بیٹھے تھے تو اچانک انہوں نے دریا میں ڈبکی لگا دی اور تین دنوں تک لاپتہ ہو گئے، جہاں پر کہ انہوں نے ایشور سے ملاقات کی۔ تمام لوگ انہیں ڈوبا سمجھ رہے تھے، لیکن وہ واپس لوٹے تو انہوں نے کہا ایک اونکار ستنام۔ گرو نانک نے وہاں ایک بیری کا بیج بویا، جو آج بہت بڑا درخت بن چکا ہے۔
6 ۔گرودوارہ رئیل صاحب ،گرداسپور
اپنے دوروں کے دوران نانک دیو یہاں رکے اور ناتھ پنتھ یوگیوں کے سربراہ یوگی بھاگر ناتھ کے ساتھ ان کا مذہبی مباحثہ اسی مقام پر ہوا۔ یوگی کو جب ہر طرح سے شکست ہوئی تو جادو کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ نانک دیوجی نے اسے بتایا کہ خدا تک رسائی کا ذریعہ صرف محبت ہے۔
7 ۔گرودوارہ ڈیرہ بابا نانک، گرداسپور
زندگی بھر مذہبی دوروں کے ذریعے بہت سے لوگوں کو سکھ مذہب کا پیروکار بنانے کے بعد نانک دیوجی نے راوی دریا کے کنارے پر واقع اپنے فارم پر اپنا ڈیرہ جمایا اور 70 سال کی سادھنا کے بعد 1539 ء میں آخر کار داعی اجل کو لبیک کہا۔
چشمِ وحدت سے دیکھتا ہوں جدھر
نظر آتا ہے ہر طرف تو ہی
شری گرو نانک جی ،بھارت کی ان عظیم شخصیتوں میں سے ہیں جنھوں نے اس ملک کی تاریخ پر گہرااثر ڈالا۔ ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ہے،جو ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔سکھ مذہب کے وہ بانی ہیں جس کی بنیادی تعلیم توحید کی ہے۔ یہ گرونانک جی کی خصوصیت ہے کہ انھوں نے توحید کی تعلیم کو بھارت کے سماج کے تناظر میں پیش کیا۔ پنجاب میں ان کی پیدائش ہوئی مگر ان کی تعلیمات سے اک دنیا متاثر ہوئی۔بقول اقبالؔ:
پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close