مضامین و مقالات

اب پچھتائے کا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت !ذوالقرنین احمد

اب پچھتائے کا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
ذوالقرنین احمد
9096331543
ہندوستان میں کئی برسوں سے جاری متنازع اراضی بابری مسجد و رام جنم بھومی کا مسلہ آخر اختتام کو پہنچا ہے۔ کئی برسوں سے اس پر جبرا قبضہ کرنے کی کوشش جاری تھی بابری مسجد میر باقی نے 1527 میں تعمیر کی تھی۔ بی جے پی نے ایل کے اڈوانی کی قیادت میں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل  ہندو فرقہ پرست تنظیموں نے ایک تحریک چلائی تھی۔ 25 ستمبر 1990 کو ایل کے اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ سے ایودھیا تک رتھ یاترا نکالی، 1991 میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرکے بی جے پی نے اتر پردیش میں اقتدار حاصل کیا۔ جولائی میں یو پی کے وزیر اعلی نے حالات کو برقرار رکھنے اور مسجد کی حفاظت کی یقین دھانی کرائی۔ دسمبر 1992 میں آر ایس ایس نے کارسیوا کا فیصلہ کیا اس کارسیوا کیلے ملک بھر سے 3 لاکھ افراد و رضاکاران جمع ہوئے۔ اور 6 دسمبر 1992 میں سنگھ پریوار کے لیڈران کی قیادت میں کارسیوکوں نے تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا۔ یہ انہدامی کارروائیاں پولس اور حکومتی اہلکاروں کے سامنے کی گئی۔ یہ تاریخ ہر سال مسلمانوں کے زخموں کا تازہ کرتی رہتی ہے۔ اس میں ایک 9 نومبر کا اور اضافہ ہوچکا ہے۔ جسطرح کا فیصلہ سپریم کورٹ نے سنایا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو اپیلیں امن و امان کی فرقہ پرست عناصر کی طرف سے کی جارہی تھی اور مسلم مذہبی و ملی رہنماؤں کے ساتھ امن قائم رکھنے کیلے میٹنگز کی جارہی تھی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ضرور اسکے پیچھے کوئی راز تھا۔ ورنہ جو لوگ خود امن و امان کو مکدر کرنے کا کام کرتے آئے ہو وہ ایسی اپیل کیوں کر کریں اور ایک بات یہ بھی ہے کہ حکومت انہیں کی ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ڈر و خوف کے ماحول میں تھے ان پر ایک طرح کی ہیبت طاری تھی اور بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار تھے۔ اگر ملک میں کسی طرح کا کوئی فساد ہوتا تو ملک پر اسکے  برے اثرات مرتب ہوتے، اور خانہ جنگی صورتحال اختیار کر جاتے۔ اور ان کے برسوں پرانے ناپاک و نا جائز عزائم جو برسوں سے اپنے مقاصد کو لے کر سرگرم عمل ہیں۔ اس میں وہ کامیاب نہیں ہو پاتے، اور ملک کے معاشی حالت خستہ ہونے کی وجہ سے بھی ساتھ ہی بے روز گاری نوٹ بندی کی وجہ عوام بری طرح متاثر ہوئی ہے، ایسے میں ملک کو کافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اسی لیے امن و امان قائم رکھنے کی آر ایس ایس و دیگر پارٹیوں کی طرف سے پوری کوشش کی گئی۔ جبکہ وشو ہندو پریشد اپنے موقف پر اٹل تھا‌ کہ مندر بننے کا فیصلہ ہوچکا ہے، صرف اعلان ہونا باقی ہے۔
برسوں سے جاری اس متنازع اراضی کو ہمیشہ سے سیاست کا موضوع بناکر سیاست کی گئی ہے اور ہندو کو رام کے نام پر متحد کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ کے زریعے دیے گئے فیصلے کو اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو صاف دیکھائی دیتا ہے کہ فیصلہ عقیدت آستھا کی بنیاد پر دیا گیا ہے اور‌ملکیت کے مقدمے کو نظر انداز  کیا گیا ہے ۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں سروں کی تعداد دیکھی جاتی ہے۔ اور وہی ہوا، 9 نومبر کو سپریم کورٹ نے متنازعہ اراضی رام للا کو دیے جانے کا فیصلہ کیا سنی وقف بورڈ کو ۵ ایکر  زمین دوسری جگہ دینے کا فیصلہ کیا ، سپریم کورٹ نے کہا کہ رام جنم بھومی کوئی شخص نہیں ہے, بابری مسجد میر باقی نے تعمیر کیا تھا بابر کے حکم پر ، مسجد میں 1949 میں رکھی گئی تھی مورتی، شیعہ سنی مالکانہ حق میں شیعہ وقف بورڈ کا دعوی مسترد، کیا نرموہی اکھاڑے کا دعویٰ خارج کیا ،مسجد خالی زمیں پر نہیں بنی تھی، ،بابری مسجد کی باقیات میں ملے ہوئے پتھروں کے مطابق یہ ہیکہ وہاں پر مندر تھا،آستھا اور وشواس پر کوئی بحث نہیں ہوسکتی ،آستھا کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،کھدائی میں جو ڈھانچہ ملا تھا وہ مسجد کا نہیں تھا،
ہندوؤں کا یہ ایمان کہ یہاں رام کی پیدائش ہوئی تھی اس پر سب کا اتفاق ہے، ثبوت پر فیصلہ ہونا چاہئے، ایمان پر نہیں،
مسجد کا انہدام غیر قانونی حرکت تھی، ٹرسٹ بنا کر مندر کی تعمیر مرکزی حکومت کی ہوگی،تین مہینے میں ٹرسٹ کے اصول بنا کر دینے ہوگے، ایودھیا میں ہی 5 ایکر زمین سنی وقف بورڈ کو دینے کا فیصلہ سنایا۔ ایک طرف سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آستھا پر بحث نہیں ہوسکتی اور ایک طرف کہا گیا کہ آستھا کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اے ایس آئی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک ہزار قبل مسیح پرانے باقیات ملے ہیں۔ یہ عجیب رپورٹ ہے۔ جبکہ اس وقت میں کس کی حکومت ہوگی اور اس زمین پر کس کا قبضہ تھا، اسے بھی دھیان میں رکھنا چاہیے تھا۔ اور اس وقت میں کوئی ہندوستان میں جمہوریت کا نظام قائم نہیں تھا۔ جو اسکا حوالہ دیکر فیصلہ کیلے بنیاد بنایا گیا ہے۔ اگر ایسے دیکھا جائے تو پورے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے کہی نا کہی شواھد موجود ہے اسطرح تو آرکیلوجیکل کے قبضے کی تمام اراضی کو مسلمانوں کے حوالے کردینی چاہیے۔ عجیب و غریب طرح سے یہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ مسلم فریق زمین پر اپنی ملکیت ثابت نہیں کر سکا۔ مسجد کی تعمیر کو بھی تسلیم کیا جارہا ہے، مندر توڑ کر مسجد تعمیر کی گئی اس کا بھی مسترد کیا گیا ہے۔ تو پھر یہ کیسا انصاف ہے۔ ایک بات یہ بھی زیر غور ہے کہ جب مسلم فریق ملکیت ثابت نہیں کرسکا تو پھر عدالت پانچ ایکڑ زمین مسلمانوں کو کیوں دینا چاہتی ہے۔ یہ بلکل ایسا ہے جیسے سر مارو پیر لنگڑا، یہ فیصلہ ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت انصاف  کا مندر کہے جانے والی سپریم کورٹ کا ہے۔ اور جس طرح ماحول کو سازگار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہ اگر کوئی اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھاتا ہے یا اس پر کوئی اپنی رائے پیش کرنا چاہتا ہے، تو اسے دیش درہی کہ کر اس پر سخت مقدمات درج کردیے جائیں گے۔ اور مرکزی اقتدار میں بیٹھی ہوئی حکومت نے بھی سخت لاء اینڈ آرڈر کو قائم رکھنے کیلے پہلے ہی ہر گاؤن شہر ضلع میں امن و امان قائم رکھنے کیلے پولس محکمہ کو سرگرم کردیا گیا تھا۔ امن و امان قائم رکھنا ضروری ہے لیکن ان لوگوں کو یہ خوف ستا رہا تھا کہ جو فیصلہ ہونے جارہا ہے وہ فیصلہ مسلم فریق کے خلاف ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے جن افراد نے غیر قانونی طور پر مسجد کو منہدم کیا تھا ان لوگوں کے خلاف فیصلہ کیوں نہیں سنایا گیا انہیں مجرم کیوں نہیں ٹھہرایا گیا ان پر الزام عائد کیوں نہیں کیا گیا۔ جبکہ سپریم نے کہا کو مسجد کو منہدم کرنا قانون کے خلاف تھا۔
جسطرح سے مسلمانوں سے اپیل کی گئی اس طرح سے تمام ہی فرقہ پرست عناصر سے بھی اپیل کرنی چاہیے تھی مسلمانوں کے اندر پہلے ہی اتنا ڈر و خوف پیدا کردیا گیا تھا کہ وہ شکوہ کرنے کا اور غم کا اظہار کرنے سے بھی ڈر محسوس کررہے تھے۔ اور فرقہ پرست عناصر ٹیوٹر پر مندر وہی بنائے گے کا ٹرینڈ چلا رہے تھے اور مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے تھے۔ حکومت کی طرف سے اور آر ایس ایس کی طرف سے مسلمانوں کو امن و امان قائم رکھنے کی جو اپیل کی گئی تھی وہ شاید اسی لیے تھی کے فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا اور بس اعلان کرنا باقی تھا۔ اس مقدمے میں حقائق کو نظر انداز کیا گیا اور مسلم فریق کو یہ کہا گیا کے وہ ملکیت ثابت نہیں کر سکا جبکہ تمام ثبوت مسلم فریق کے پاس موجود ہے، اور عدالت نے پہلے اسے قبول بھی کیا ہے۔ اس یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اکثریتی طبقے کے مفاد کو ترجیح دے کر فیصلہ سنایا گیا ہے۔ جو انصاف کا گلا گھونٹ دینے کے مترادف ہے۔
9 نومبر کا دن پوری دنیا اور خاص ہندوستان میں سیاہ دن اور انصاف کے قتل کے دن کے طور پر تاریخ میں لکھا جائے گا۔ جیسے ہی فیصلہ رام مندر کے حق میں سنایا گیا اس کے بعد ہی فرقہ پرستوں نے اپنی اصلیت دیکھانے شروع کردی اور کہا کہ اب یکساں سول کوڈ کا وقت آگیا ہے۔ کوئی کہنے لگا کہ مسلم خواتین  مندر بنانے میں ہماری مدد کریں گی۔ ایودھیا کے اس معاملے پر سپریم کورٹ کے سابق جج  اشوک کمار گنگولی نے افوس ظاہر کرتے ہوئے کہا وہاں برسوں سے ایک مسجد تھی سپریم کورٹ نے مندر بنانے کی اجازت دے دی صدیوں پہلے زمین پر کس کا مالکانہ حقوق تھا اس کا فیصلہ کیا سپریم کورٹ کریں گی! کیا سپریم کورٹ یہ بھول جائے گی جب آئین وجود میں آیا تب وہاں مسجد تھی؟ اور اس سے پہلے ہندوستان میں جمہوریت موجود نہیں تھی۔ اگر ایسا دیکھا جائے تو کسی بھی جگہ پر کسی بھی مذہب کے پرا‌نے زمانے کے باقیات ملی سکتے ہیں۔
مسلمانوں کی جسطرح سے ذہین سازی کی گئی پہلے جمیت علماء کے صدر مولانا ارشد  مدنی کے ساتھ موہن بھاگوت کی ملاقات ہوئی اسکے بعد بھی کئی ملی تنظیموں کے سربراہان سے ملاقات ہوئی اور امن کی اپیل کی گئی، اس کا مطلب یہی ہے کہ مائند سیٹ کیا جارہا تھا۔  برسوں سے مسلمانوں کو یہ کہا گیا کہ وہ فرقہ پرست ہے دیش دروہی ہے۔ آج سپریم کورٹ کے فیصلہ پر خاموشی سے سر خم تسلیم کرلینے سے یہ بات ان فرقہ پرستوں کہ منہ پر طمانچہ ثابت ہورہی ہے۔ مسلمانوں نے امن و امان کا مظاہرہ کیا اور اپنے قائدین کی بات کو تسلیم کیا، یہ ایک اچھی بات ہے۔ لیکن جس طرح سے فیصلہ ہونے کے بعد ہر طرف سے علماء کرام اور ملی رہنماؤں ، وقف بورڈ، مسلم پرسنل لاء بورڈ پر طعن و تشنیع کے جارہی ہے الزام تراشیاں کی جارہی ہے۔ وہ بے معنی ہے۔ جب کچھ کرنے کا وقت ہوتا ہے یعنی حق کیلے آواز اٹھانے اور وقت رہتے سنجیدگی سے غلط  فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرنا چاہیے تھا، جو کے ہر ہندوستانی کا حق ہے۔ جو جمہوریت کے دائرے میں رہے کر اپنے حق کیلے بول سکتا ہے۔ تب مسلمان کچھ کر نہیں پاتے ہیں اور ملی قیادت کو دوش دیا جاتا ہے۔ یہ بلکل غلط بات ہے۔ جو افراد امن و امان کی اپیل کر رہے تھے اب وہ بھی بول رہے ہیں کہ مسلمان بزدل ہو چکے ہیں۔ اور جزباتی باتیں کر رہے ہیں۔ اسکا اب کیا فائدہ ہے۔
جبکہ انکی بات صحیح بھی ہے لیکن اسکے وقتی طور پر کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی بصیرت پیدا کریں سیاست میں اپنا مقام پیدا کریں یہ وقت کی ضرورت ہے۔ جب جمہوریت میں جی رہے تو اس جمہوریت کے نظام میں ہر ادرے میں  ہمارا ہونا ضروری ہے۔ کسی پر الزامات لگانے سے کچھ فائدہ نہیں ہے جن لوگوں نے برسوں سے اس کیس کی پیروی کی ہے اپنا جان مال وقت لگایا ہے۔ وہ افراد اور تنظیمیں مبارکباد کے مستحق ہیں۔ نا کہ ان پر انگلیاں اٹھائی جائے، مسلمان اس وقت جزباتی باتیں کرتے ہیں جب سانپ بھاگ جاتا ہے اور یہ لاٹھیاں زمین پر مارتے رہتے ہیں۔ یہ بلکل بھی درست نہیں ہے۔  یہ بات بلکل مسلمانان ہند کو تسلیم کرنی چاہیے کہ وہ بزدل ہوچکے ہے ذہنی طور پر وہ غلامی کو تسلیم کرنے کیلے تیار ہوچکے ہیں۔ جس طرح سے مسلمانوں نے طلاق ثلاثہ پر قانون سازی ہونے کے وقت کہا تھا کہ ہمیں شریعت میں مداخلت برداشت نہیں تو پھر مسلمانوں نے اس پر قانون بننے کا بعد بلا چوں چراں قبول کیسے کرلیا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ شریعت س بڑھ کر ہمارے لیے جمہوریت ہوچکی ہے۔ اور اگر تم اسکے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو تمہیں خوف ہے جس طرح مسلمان آزادی کے بعد سے اپنی ملک سے محبت ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہوتے آرہے اسے دیش دروہی کا نام دے دیا جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنا آپ کو منوانے کیلے ملک کے ہر ادرے میں محکمے ہمارا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ورنہ پچھتائے کا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close