مضامین و مقالات

منشیات کی مہلک وبا سماج کے لئے چیلینج ! عارف حسین طیبی

منشیات کی مہلک وبا سماج کے لئے چیلینج
عارف حسین طیبی
موبائل نمبر :- 9199998415
گذشتہ کئی دہائیوں سے  منشیات کے سد باب کے حوالے سے پوری دنیا میں ایک خاص مہم چلائی جاتی ہے عوام میں بیداری پیدا کرنے اور منشیات کی سماجی اور جسمانی نقصانات کو اجا گر کرنے کے لئے ہر سال 26 جون کو عالمی یوم انسداد منشیات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے جسمیں منشیات اور نشہ خوری جیسی سماجی وباؤں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم اور لوگوں میں منشیات کے منفی کردار اور نشہ آور اشیاء کو ترک کرنے کے احساس کو زندہ  کرنے کی کوشش کیجاتی ہے تاکہ سماج اور معاشرے کا ہر فرد اس مہلک اور موذی عادت سے باز رہیں
کس بھی سماج اور قوم کے لئے نشہ کی لت ایک خطرناک بیماری کی طرح ہے جس سے پورا سماج اور معاشرہ دھیرے دھیرے کینسر کی طرح سڑتا چلا جاتا ہے اور نسل در نسل اس  سماجی امراض کے بوجھ تلے دب کر اپنا سب کچھ برباد کر چکا ہوتا ہے منشیات کے استعمال کرنے والے اکثر بزدل کمزور قوت ارادی کے مالک ہوتے ہیں سماج اور معاشرہ  میں ایسے افراد کو  بہت ہی کمتر اور  ذلت امیز نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے
نشہ خوری جسمانی خلیات کے لیے اتنا مہلک اور خطرناک  ہیں کہ نشہ کرنے والے کا جسم دھیرے دھیرے کینسر ، گردے کی خرابی ، امراض قلب جیسی مہلک بیماریوں کا آماجگاہ بن جاتا ہے اور جسم میں سڑن پیدا ہونے لگتی ہے پھر جسم کو اپنے منطقی انجام تک کو پہونچتے میں  دیر نہیں لگتی بالآخر اس وبا سے چھٹکارہ ناگریز ہوکر رہ جاتی ہے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر منشیات کے استعمال سے ہر سال مرنے والوں کی تعداد 2.5میلین ہوگئی ہے صرف ہندوستان میں روزانہ 15 افراد منشیات کیوجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں
منشیات سے پاک ہونا کسی بھی معاشرے کے لئے باعث تمغہ فخرو امتیاز ہی نہیں بلکہ انسانی کردار کی پاکیزگی اسلامی اقدار کی پاسبانی اور  سماج میں رہنے والے ہر فرد کی اخلاقی شفافیت کی ضمانت دی جاسکتی ہے
لیکن موجودہ وقت میں ہمارا معاشرہ ایک نازک اور حساس دور سے گزر رہا ہے سماج میں جی رہے افراد کے افکار و خیالات حقیقت پسندی سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی ہر شخص زمانے کے بدلتے حالات اور جدت پسندی  کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھنے لگے ہیں منشیات کا استعمال اور نشہ خوری وقت کی ضرورت بتاتے ہوئے اسکی قباحت اور خطرناکی کو  سرے سے ناکار نے پر تلے ہیں یہی وجہ ہے کہ منشیات کی مہلک وبا ملک اور سماج کے خطرناک چیلینج بنتا جارہا ہے آج جب ہم مسلم معاشرے میں طائرانہ نظر دوڑاتے ہیں تو آنکھیں اشک بار اور دلی بے چینی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے دیتی ہے کہ آخر ایک ایمان و یقین سے مزین معاشرہ بے یقینی کی دلدل میں غوطہ زن کیسے ہوگیا انکے افراد اور نوجوان طبقہ نشہ اور منشیات جیسے قبیح لت میں مبتلا ہو کر بے دینی اور ظلمت و ضلالت کی قعر عمیق میں سر تا پیر سراپا مذلت وخواری کی تصویرکیسے  بنے بیٹھے ہیں
ایمان ویقین کے سہارے زندہ رہنے والی قوم نشیلی دوائیوں کی خریدوفروخت کو کسب معاش کا ذریعہ سمجھنے لگی ہے
آج منشیات کا استعمال ہرجگہ بڑی ہی بے باکی اور بنا کسی روک ٹوک کے کیجارہی ہے پھر چاہے ہمارا سماجی اور معاشرتی  پناہ گاہیں ہوں یا پہر ہمارے اسکول ،کالج ، اور یونیورسٹی کے کیمپس گویا کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں اس گندے اور بد بو دار وبا کی فروانی نہ ہو اسوقت حکومتی سطح پر منشیات کی روک تھاک کے لئے کڑے اقدام کئے جانے کی ضرورت ہے خاص کر تعلیمی اداروں  میں جہاں بچوں کا مستقبل اور ماں باپ کے سہرے سپنے اس نشہ خوری کی نذر ہورہے ہیں  ہے ان سب میں سب سے اہم جو کڑی ہے وہ یہ ہے کہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے جسکے بغیر منشیات کی لعنت کو ختم کرنے کا تصور ناگریز ہے
گذشتہ چار سال سے بہار میں شراب پر پابندی ہے لیکن سرکاری سسٹم کی نارکارگی اور لاپرواہی کیوجہ سے کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جہاں شراب کا بڑی کھیپ نہ پکڑی جاتی ہو ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور پولیس کے بیچ کوئی خاص معاہدہ ہو ا اس طرح کی بے توجہی بہار سرکار کی ناکامی اور لاء اینڈ اوڈر کے تئیں سرکاری کی غیر سنجیدگی کو اجاگر کرتی ہے
سیمانچل کا علاقہ صدیوں سے پاکیزہ معاشرے کا امین رہا ہے ہے یہ وہی سرزمیں ہے جہاں چند سال پہلے ایسی چیزوں کا تصور تک نہیں تھالیکن گذشتہ کئی سالوں سے یہاں بھی منشیات کے سوداگروں کی ٹیم ایکشن میں آگئی ہے جو بڑے پیمانے پر نشہ خوری کے وبا کو فروغ دے رہے ہیں یہاں کی صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت کو نشہ خوری کے ذریعہ تباہ کیا جارہا ہے آج چھوٹے چھوٹے گاؤں میں دوائی کے نام پر کوریکس کی سپلائی کی جارہی ہے جسکا استعمال نوجوان طبقہ نشہ خوری کے لئے کرتے ہیں اور یہ  لابی اتنی مضبوط ہوگئی ہے کہ پولیس افسران بھی ایکشن سے لینے سے کترا رہے ہیں  حکومت کو چاہیئے کہ اس طرح کے شر پسند عناصر پر وقت رہتے قدغن لگانے کی جرات کریں  ورنہ بعد میں حالات کنٹرول سے باہر ھوجائیں گے ایسے نازک اور حساس دور میں دانشوران قوم و ملت اور اور سماجی اور ملی تنظیموں کی ذمہ داری اس سماجی برائیوں کے تئیں دوچند ہوجاتی ہے گاؤں گاؤں شہر شہر ایک منظم اور فعال مہم کی ضرورت ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ افراد جو منشیات کے عادی ہیں یاپھر جو افراد اس طرح کے دھندے میں پڑ کر لوگوں کونشہ خوری کی عادی بنا رہےہیں ایسے لوگوں شناخت کی جائے اور سماجی سطح پر انکی کونسلنگ کیجائے تاکہ اس  مہلک وبا سے انکو محفوظ رکھا جاسکے
اور ساتھ ہی سماج میں  پل رہے انسانیت کے دشمن اور منشیات کے اسمگلروں کو چن چن کر بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو ہمارے معصوم بچوں اور نوجوانوں کو نشہ کی لت میں ڈالنے کے لئے دیشی شراب اور ادویہ کے نام پر کھانسی کی سیرپ کوریکس کی بڑے پیمانے پر خریدو فروخت کررہے ہیں  جس طرح آجکل ہر گلی کوچے میں پڑی  کوریکس کی خالی بوتل اس بات کا غماز ہے کہ کس طرح درندہ صفت لوگ چند سکوں کی لالچ میں نئی نسلوں کو نشے جیسے قبیح عمل کی عادی بنانے میں ایڑی چوٹی کے زور لگا رہے ہیں
منشیات اور دیگر فواحش پر قابو پانے کے لئے ہر سطح پر کارگر ، نفع بخش اور انقلابی جدوجہد کی کو محسوس کی جانے کی ضرورت ہے
اسلئے آج ضرورت ہے  نشہ خوری اور اسکے بھیانک یلغار سے ملت کے نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے معقول اور منظم حکمت عملی بروئے کار لائی جائے تاکہ وقت رہتے اس سماجی لعنت پر قابو پانے کے لئے ہمیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ساتھ ہی
منشیات پر قابو پانے کے لئے قوم اور سماج سے باصلاحیت اور تجربہ کار افراد کا پینل کی تشکیل دی جائے جو منشیات کے عادی افراد  کو دینی سماجی اور ملی خسارے سے روشناش کرانے میں کامیابی حاصل کر سکیں منشیات کے خلاف عوام میں بیداری اور شعور پیدا کرنے کے لئے والدین اساتذہ، علماء ، اہل قلم اور صحافی حضرات کو چاہیئے اس سماجی اور معاشرتی وبا کے خلاف میدان عمل اتریں اور اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پر عزم ہوں
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close