مضامین و مقالات

مسلمانوں کے آباء و اجداد ہندو نہیں تھے!ابوالحسنات قاسمی

مسلمانوں کے آباء و اجداد ہندو نہیں تھے!ابوالحسنات قاسمی

مسلمانوں کے پُروج (آباء واجداد) تو مسلمان تھے ہی، غیر مسلموں (یہودیوں، نصرانیوں، مجوسیوں ودیگر لادینی پیروکاروں) کے آباء واجدادبھی مسلمان ہی تھے، جن کو ابتداءِ آفرینشِ جہان سے اللّٰہ تعالیٰ نے رسالت کے لئے منتخب کیا تھا۔

وقفہ وقفہ سے ایسی باتیں سامنے لائی جاتی رہتی ہیں کہ "مسلمانوں کے پروج ( آباء و اجداد ) ہندو تھے”، کبھی یہ بات کسی ہندو تنظیم کی جانب سے کہی جاتی ہے اور کبھی کسی نام نہاد مسلمان، مسلمان نما (زرخرید) سے کہلوائی جاتی ہے، اور بہت افسوس کی بات ہے کہ غیروں کا آلۂ کار بن کر انتہائی فاخرانہ انداز میں کہتے ہیں کہ” ہمارے اجداد ہندو "تھے۔
برادرانِ ہند اس طرح کی بولی پروپیگنڈے و خاص ایجنڈے کے تحت بولتے رہتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے اجداد تو ہندو نہیں تھے۔ البتہ برادرانِ ہند( اور دیگر ادیان و ملل کے پیروکاروں) کے اجداد ضرور مسلمان تھے۔اس لئے کہ تمام بنی نوع اِنسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام تو مسلمان ہی تھے، خدا تعالیٰ کے پیغمبر و داعئ اسلام تھے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحًا وَءَالَ إِبْرَهِيمَ وَءَالَ عِمْرَنَ عَلَى الْعَلَمِينَ ‎)[آل عمران/ 33] اللّٰہ نے آدمؑ اور نوحؑ اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے) منتخب کیا تھا۔اور ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (أُولٰـئكَ الَّذِینَ أَنۡعَمَ اللَّهُ عَلَیۡهِم مِّنَ النَّبِیِّـۧنَ مِن ذُرِّیَّةِ آدَمَ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوح وَمِن ذُرِّیَّةِ إِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ وَإِسرائیل وَمِمَّنۡ هَدَیۡنَا وَاجۡتَبَیۡنَا) [مريم/ 58]یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللّٰہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور ابراہیمؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔اس بات کی وضاحت کے دلائل کہ ‘ مسلمانوں کے آباء و اجداد مسلمان ہی تھے، ہندو ( غیر مسلم ) نہیں تھے ‘ بے شمار ہیں، مگر اہلِ عقل و دانش کے لئے یہی دو آیتیں بطور دلیل کافی ہیں۔ اس لئے کہ بنی نوع اِنسان کی افزائش نسل کی ابتداء اللّٰہ تعالیٰ نے "نفسِ واحدہ” سے کی ہے، اور اس نفس سے حضرت آدم علیہ السلام ہی مراد ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے: (یا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ الَّذِی خَلَقَكُم مِّن نَّفۡس وَا⁠حِدَة وَخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالا كَثِیراً وَنساء ) [النساء/ 1] لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔ مذکورہ بالا سطور میں کلامِ باری کے حوالہ سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ”اللّٰہ تعالیٰ نے آدمؑ اور نوحؑ اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے) منتخب کیا تھا”- یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کا پیغام دے کر انسانوں کے درمیان بھیجا تھا، اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ انسانیت کی ابتدائی راہ شاہراہِ توحید ہی تھی۔ اور "توحید” تو مسلمانوں کا عقیدہ ہے، اس لئے داعیانِ توحید مسلمان ہی ہوسکتے ہیں۔ توحید کے پیروکاروں کا نام ہمیشہ سے (مروجہ زبانوں میں) مسلمان ہی رہا ہے۔ البتہ جب عربی زبان کا رواج ہوا تو لفظ ‘اسلام و مسلم ‘ عام ہوگیا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ( هُوَ اجۡتَبٰكُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَیۡكُمۡ فِی الدِّینِ مِنۡ حَرَج ۚ مِّلَّةَ أَبِیكُمۡ إِبۡراهِیمَ ۚ هُوَ سَمّٰكُمُ الۡمُسۡلِمِینَ مِن قَبۡلُ وَفِی هَـٰذَا)[الحج/ 78] اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر، اللّٰہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے)۔مذکورہ بالا سطور سے یہ واضح ہوگیا کہ مسلمانوں کے پُروج (آباء واجداد) تو مسلمان تھے ہی، غیر مسلموں (یہودیوں، نصرانیوں، مجوسیوں ودیگر لادینی پیروکاروں) کے آباء واجدادبھی مسلمان ہی تھے، جن کو ابتداءِ آفرینشِ جہان سے اللّٰہ تعالیٰ نے رسالت کے لئے منتخب کیا تھا، اور انہی(بالخصوص حضرت آدم علیہ السلام وبالعموم حضرت نوح و آل ابراہیم وآل عمران علیہم السلام)کی نسلوں کی وساطت سے تمام بنی نوع انسان وجود پذیر ہوئے۔
اب جو لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ‘ مسلمانوں کے آباء واجداد ہندو تھے” ان کو سوچنا چاہئے کہ ہندؤوں کے یہاں تو وحدانیت کا تصور و وجود ہی نہیں ہے، ان کے یہاں تو لا محدود خداؤں اور (بعض ہندو راویوں کے مطابق 33/کروڑ) دیوی دیوتاؤں کی پوجا ہوتی ہے۔ جبکہ مسلمان ہمیشہ سے موحّد ہی رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ”فَطرۃُ الرسل” (دو نبیوں کے درمیانی وقفہ، جس میں حق و باطل کے درمیان تمیز ختم ہو جاتی ہے) میں لوگوں نے مذہبِ حق (اسلام) کو ترک کرکے منمانی دین ومذہب کی اختراع کی اور اس پر چل پڑے۔ ورنہ تو اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ہمیشہ سے منتخب دین اسلام ہی رہا ہے۔ (إِنَّ الدِّینَ عِندَ اللَّهِ الۡإِسۡلاۗم) [آل عمران/ 19] اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔
جب اللّٰہ تعالیٰ نے بطورِ دین و مذہب "اسلام” کو منتخب کیا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ اُسی اسلامی فطرت پر لوگوں کو پیدا بھی کرتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جن لوگ دونبیوں کے درمیانی وقفہ میں جس دھرم و مذہب کی اختراع کی، جس مذہب پیروی کرتے رہے، اسی کے مطابق اپنی نسلوں کو ڈھال لیا۔ اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: بخاری (1359)، ومسلم (2658) عن أبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، أو يُنَصِّرَانِهِ ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ ، كَمَا تُنْتَجُ البَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ) ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ” وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : ( فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ القَيِّمُ ) {الروم/ 30}
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے تھے: نبیﷺ نے فرمایا: ہر ایک بچّہ فطرت اسلام یعنی توحید پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کویہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے کیا تم اس کا کوئی عضو پیدائشی طور پر کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: یہ اللّٰہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، یہی دین قیم ہے۔
اس روایت سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ (یہودیت،نصرانیت و مجوسیت) اور ان کے علاوہ بھی دیگر تمام ادیان و مذاھب اسلام کے دائرہ و زمرہ میں داخل نہیں ہیں۔ اس لئے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا منتخب کردہ دین تو صرف اور صرف اسلام ہے۔ جیسا کہ خود فرمانِ باری تعالیٰ ہے: (إِنَّ الدِّینَ عِندَ اللَّهِ الۡإِسۡلام ۗ) [آل عمران/ 19] اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔نیز اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ) {آل عمران/ 85}
اس فرماں برداری (اسلام) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔
اسلام مخالف نظریہ و ایجنڈا:
اسلام کی مخالفت میں ملتِ کافرہ و دیگر ملتوں( ادیانِ باطلہ) میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے، سب کی سب برابر ہیں۔ جیسا کہ کلامِ باری تعالیٰ ہے: ( وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ) {البقرہ/ 120} یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔
بس یوں سمجھ لیجئے کہ باعتبار نوعیت وہ ملت کے زمرے میں ہیں، مثلاً: ملتِ یہودیت و ملتِ نصرانیت اور ملتِ بوذیت (بدھسٹ) نیز ملتِ ہندوئیت (ہندوتو) اور اسی طرح بقیہ دیگر ملتیں۔ لیکن یہ تمام کی تمام باعتبارجنسیت (مخالفتِ اسلام میں) ملتِ واحدہ کے حکم میں ہیں، اس لئے کہ ان سب پر کفر کا لفظ یکساں صادق آتا ہے ۔ اور بحیثیت "الکفر ملۃ واحدۃ” اسلام مخالف پروپیگنڈا سب کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔
اور یہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے کہ ان کی وحدت وجمعیت صرف اسلام و مسلمانوں کی مخالفت و مقابلہ تک ہی محدود ہے، ورنہ تو ہر ایک اپنی غرض و خواہش کا بندہ ہے، اور خیالات میں ایک دوسرے سے جدا ہے، حقیقی اتحاد و یکجہتی سے کوسوں دور ہیں، اندرونی طور پر ان میں بے انتہا چیقلش ہے، خود کلامِ الٰہی سے اس کی وضاحت ہوتی ہے: (تَحۡسَبُهُمۡ جَمِیعاً وَقُلُوبُهُمۡ شَتَّىٰ ۚ ذَٰ⁠لِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡم لَّا یَعۡقِلُونَ) [الحشر/ 14]تم اِنہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں اِن کا یہ حال اِس لیے ہے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں۔ خیر یہ ذکر تو ضمناً آگیا۔
اب ایک اشکالِ مایؤل کی پیشگی وضاحت کرتے چلیں کہ حدیث: (فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ،أو يُنَصِّرَانِهِ،أَوْ يُمَجِّسَانِهِ) میں یہودیت و نصرانیت اور مجوسیت تین ہی ادیان کا ذکر کیوں ہے؟ سو وہ اس لئے کہ اُس دور میں یہی تینوں بڑے مذاہب باور کئے جاتے تھے اور نہ صرف یہ کہ ان ادیان کے متبعین کی اکثریت تھی بلکہ ان کا غلبہ و چرچا بھی تھا۔
مذکورہ بالا سطور میں پیش کردہ دلائل سے ممکن ہے کہ مسلمانوں کے آباء و اجداد کے ہندو ہونے کے نظریہ کی نفی بخوبی سمجھ میں آگئی ہوگی۔ اگر اب بھی مغز بیدار نہ ہوا تو سوائے ماتم کے اور کیا کیا جاسکتا ہے؟
ابوالحسنات قاسمی دارالثقافہ، اسونجی بازار، ضلع گورکھپور

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close