فقہ و فتاوی

آپﷺکی ولادت کے وقت حضرت عیسٰی یا حوروں کی آمدکی تحقیق؟ مفتی محمد عمران قاسمی 

آپﷺکی ولادت کے وقت حضرت عیسٰی یا حوروں کی آمدکی تحقیق؟ مفتی محمد عمران قاسمی 
=================
*سوال(٢٣٧)* السلام علیکم مفتی صاحب ! براہ مہربانی یہ حدیث اگر صحیح ھے تو بھیج دیجۓکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت حضرت آمنہ کے پاس تسلی دینے کے لۓ حضرت مریم یا حضرت عیسیٰ یا جنت کی حوریں آئي تھیں ؟اگر ان میں سے کوئ آیاھے تو حقیقت میں یا خوا ب میں ؟تفصیلی جواب ارسال فرمائيں ۔
*(المستفتی :مولانا یزدانی*
*مظاہری وائٹ فیلڈ)*
_________________
*باسمہ سبحانہ تعالیٰ*
*الجواب وباللٰہ التوفیق ومنہ الصدق والصواب*:آپ نے جو باتیں سوال میں تحریر کی ھیں وہ بے اصل ،بے بنیاد اور من گھڑت ھیں احقر کی تحقیق کے مطابق ان باتوں کا نہ ذخیرہ احادیث میں کوئ وجود ھے اور نہ سیرت کی مستنداور متداول کتابوں میں ،البتہ سیرت کی شہرہ آفاق کتاب” سیرت ابن ھشام“میں اتنی بات منقول ھےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب بیان کرتی ھیں :کہ جب محمد- صلی اللہ علیہ وسلم -میرے بطن میں حمل کی شکل میں تھے اس وقت مجھے بشارت دی گئ کہ آپکے شکم میں پروان چڑھنے والا حمل اس امت کا سردار ھے ، جب وہ دنیا میں تشریف لاۓتوآپ یہ دعا کرنا کہ اےاللہ! میں اسے ہر حاسد کی شر سے ذات یکتا(اللہ ) کی پناہ میں دیتی ہوں اور اس کا نام محمد رکھنا، ”عیون الاثر “ میں ہے کہ احمد نام رکھنا،اور ”خصائص کبری “میں ھے کہ محمد اور احمد رکھنا۔
أن آمنة ابنة وهب أم رسول
الله صلی اللہ علیہ وسلم کانت تحدث أنها أتیت ،حين حملت برسول الله ،فقيل لها: إنك قد حملت بسید هذه الأمة،إذا وقع إلى الأرض فقولي: أعیذه بالواحد، من شر كل حاسد، ثم سمه محمدا۔(السیرة النبویہ لابن ھشام : ٨٣/العنوان /رؤیا آمنہ ، مکتبہ احسان لکھنؤ،عیون الاثر : ٣٠/١، خصائص کبری للسیوطی :٤٢/١)
*فقط واﷲتعالیٰ أعلم* ___________________
✒ *کتبہ :احقر*
*محمد عمران غفرلہ*
*دارالإفتاءوالإرشاد*
*زیراھتمام جامع مسجد*
*وائٹ فیلڈ بنگلور*

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close