عجیب و غریب

شرمناک ! 10 سال کے طالب علم کو روم میں لے گئی خاتون ٹیچر ، پھر جسمانی تعلقات بنانے کی کوشش کی

پٹنہ کے ایک اسکول میں خاتون ٹیچر کے ذریعہ نابالغ طالب علم کے جنسی استحصال کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے ۔

والدین اپنے بچوں کو اس اعتماد کے ساتھ اسکول بھیجتے ہیں کہ ان کے بچے اسکول میں محفوظ رہیں گے اور تعلیم حاصل کرکے ان کا مستقبل روشن ہوگا ۔ لیکن پٹنہ کے ایک اسکول میں خاتون ٹیچر کے ذریعہ نابالغ طالب علم کے جنسی استحصال کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے ۔ یہ واقعہ بودھا کالونی تھانہ حلقہ میں واقع ایک پرائیویٹ اسکول میں پیش آیا ۔ یہاں ایک خاتون ٹیچر نے پانچویں جماعت میں پڑھنے والے طالب علم کے ساتھ وہ کیا ، جس نے اس کو ہمیشہ کیلئے ایک گہرا زخم دیدیا ۔ متاثرہ طالب علم کے اہل خانہ نے تھانہ پہنچ کر اس کی شکایت درج کرائی ہے ۔ اہل خانہ کے مطابق خاتون ٹیچر نے اپنی ہوس کی آگ بجھانے کیلئے طالب علم کو شکار بنایا ۔

الزامات کے مطابق 10 سال کے اس طالب علم کو خاتون ٹیچر زبردستی اپنے چیمبر میں لے گئی اور اس کے ساتھ گندی حرکت کی ۔ مخالفت کرنے پر خاتون ٹیچر نے طالب علم کی بے دردی سے پٹائی بھی کی ۔ طالب علم کے جسم پر مار پیٹ کے نشان موجود ہیں ۔ اہل خانہ کے مطابق جب خاتون ٹیچر سے اس بابت پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں اسکول ڈائریکٹر کی رشتہ دار ہوں اور زیادہ بحث کی تو بچہ کی زندگی برباد کردوں گی ۔

چھٹھ کے تہوار کی وجہ سے اسکول بند تھا ، جس کی وجہ سے پولیس نے تعطیل کے بعد اسکول کھلنے کا انتظار کیا ۔ اے ایس پی لا اینڈ آرڈ کو بھی اس معاملہ کی جانکاری دیدی گئی ہے ۔ چار نومبر کو اسکول کھلتے ہی پولیس نے پاکسو ایکٹ کے تحت کیس درج کرلیا ۔ تھانہ سے اسکول انتظامیہ کو نوٹس دیا گیا ہے ، لیکن ملزم خاتون ٹیچر کے چھٹی پر ہونے کی وجہ سے جانچ پوری نہیں ہوسکی ہے ۔ پولیس نے اسکول انتظامیہ کو جلد از جلد سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ چار سال قبل بھی پٹنہ کے ایک معروف اسکول میں خاتون ٹیچروں پر معصوم طلبہ کے ساتھ فحش حرکتیں کرنے کا الزام عائد ہوا تھا ، جس میں ملزمین کو قصوروار قرار دیا گیا تھا اور جیل کی سزا سنائی گئی تھی ۔ اب ایک مرتبہ پھر ایسا واقعہ پیش آنے سے والدین اور طلبہ کے ذہن میں اسکول کو لے کر شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں ۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close