عجیب و غریب

جو شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرے گا وہ پاکستانی ایجنٹ ہے : عارف محمد خان

عارف محمد خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کر رہے ہیں وہ پاکستانی ایجنٹ ہیں۔

نئی دہلی ۔ 30 دسمبر 2019 : شہریت ترمیمی قانون پر پاکستان کا زبردست سایا نظر آ رہا ہے ، پہلے اتر پردیش میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو اتر پردیش کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے پاکستان بھیجنے کی بات کہی اور اب حال ہی میں کیرالہ کے گورنر بنائے گئے عارف محمد خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کر رہے ہیں وہ پاکستانی ایجنٹ ہیں۔ ان کے اس بیان کی علی گڑھ سوسائیٹی آف ہسٹری اینڈسایکولوجی نے مزمت کی ہے ۔
واضح رہے عارف محمد خان نے معروف مورخ عرفان حبیب پر الزام لگایا کہ انہوں نے ان کے ساتھ اس وقت بدسلوکی کی جب وہ کیرالہ کے کننور میں منعقد انڈین ہسٹری کانگریس کے 80ویں اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ علی گڑھ سوسائیٹی آف ہسٹری اینڈسایکولوجی نے ان کے اس بیان کی بھی سخت الفاظ میں مزمت کی ہے۔ اتوار کو جاری کئے گئے اپنے بیان میں علی گڑھ سوسائیٹی آف ہسٹری اینڈسایکولوجی نے جمہوری آواز کو دبانے کی کوشش کی مزمت کی ا ور کہا کہ ہر شہری کو اپنی رائے رکھنے اور مظاہرہ کرنے کا حق ہے اور اگر اس کو روکنے کی کوشش کی گئی تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔
انڈین ہسٹری کانگریس کا80واں اجلاس 28 دسمبر کو شروع ہوا تھا جس کا افتتاح گورنر عارف محمد خان نے کیا تھا اور اس اجلاس میں ملک کے معروف مورخ شرکت کر رہے تھے ۔پروفیسر امیا کمار باگچی کے صدارتی خطبہ کےبعد گورنر عارف محمد خان کو اپنا خطاب کر نا تھا اور انہوں نے جیسے ہی اپنے خطاب میں شہریت ترمیمی قانون کا دفاع شروع کیا اور کہا کہ جو اس قانون سے اتفاق نہیں کرتے وہ دراصل پاکستانی ایجنٹ ہیں اور ان لوگوں میں کبھی یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ گاندھی خاندان ، جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کی غلط پالیسیوں کی مخالفت کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کر رہے ہیں وہ ملک دشمن ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کیرالہ کے لوگ نہیں سمجھ سکتے کیونکہ انہوں نے تقسیم وطن کو کبھی محسوس نہیں کیا ہے۔
عارف محمد خان کا یہ بیان سننے کے بعد وہاں موجود جے این یو کی دو طالبات سی اے اے مخالف پلےکارڈ لے کر خاموش کھڑی ہو گئیں اور ان لڑکیوں کے ساتھ کچھ پروفیسر حضرات بھی کھڑے ہو گئے ۔ انہوں نے گورنر سے ایسے بیانات سے پرہیز کرنے کے لئے کہا ۔ اس کے بعد مخالفت کرنے والوں کو پولیس نے گھیر لیا لیکن راجیہ سبھا کے رکن کی بر وقت مداخلت کی وجہ سے حالات قابو میں رہے۔جے این یو، اے ایم یو اور دہلی یونیورسٹی کے کئی ریسرچ اسکالروں کو حراست میں لے لیا گیا تھا لیکن جلد ہی ان کو رہا کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے جب یہ احتجاج ہو رہا تھا تو اسٹیج پر موجود مورخ عرفان حبیب تھے وہ کننور یونیورسٹی کے پروفیسر گوپیناتھ رویندرن کی جانب یہ درخواست کرنے کے لئے بڑھے کہ وہ ان کو روکیں جس پر گورنر نے الزام لگایا کہ عرفان حبیب نے ان کو روکنے کی کوشش کی اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی ۔ عارف محمد خان کی جانب سے پورے معاملہ پر ٹویٹ بھی کئے گئے۔ علی گڑھ سوسائیٹی آف ہسٹری اینڈسایکولوجی کی جانب سے مزمتی بیان سوسائیٹی کے صدرسید علی ندیم، نائب صدر جابر رضا ، سیکریٹری مانویندراکمار پنڈھیراورجوائنٹ سیکریٹری پروفیسر فرحت حسین نے جاری کیا ہے۔
عارف محمد خان راجیو گاندھی کی کابینہ میں وزیر تھے لیکن شاہ بانو معاملہ پر ان کے اختلافات ہو گئے تھے جب ہی سے وہ کانگریس کے زبردست مخالف ہیں اور ساتھ میں وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بھی سخت مخالفین میں سے ہیں اور بی جے پی سے ان کی نزدیکیاں کسی سے چھپی نہیں ہیں اور سیاسی گلیاروں میں یہ بات عام ہے کہ گورنر کا عہدہ بی جے پی سے نزدیکیوں کا ہی انعام ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close