عجیب و غریب

مسلم طالبات سے حجاب اور دوپٹہ ہٹانے پرزبردست احتجاج، سپروائزر اور کالج مینجمنٹ نے مانگی معافی

ناگپور (ذوالقرنین احمد ) ڈاکٹر محمد عبدالرشید، میڈیا سیکرٹری جماعت اسلامی ہند ناگپور کی اطلاع کے مطابق بی ایچ ایم ایس کررہی مسلم طالبات کو امتحان دینے نے کے لیے ناگپور کے سکردرا میں واقع

گورنمنٹ آیورویدک کالج کو سینٹر دیا گیا ہے- جب یہ مسلم طالبات پہلا پرچہ دینے کے لیے سینٹر پہنچیں تو انہیں سینٹرمیں داخلہ کے وقت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے سپروائزر نے بدسلوکی کرتے اور ڈانٹتے ہوئے دوپٹہ اور حجاب ہٹانے کے لئے کہا, ایسا نہ کرنے پر انہیں امتحان گاہ میں داخل نہ ہونے دینے کی بات کہی – دریں اثناء طالبات نے اپنے اصل آئینی حقوق کی قربانی دیتے ہوئے دباؤ میں آکر غیرقانونی سرگرمیوں کو انجام دیا-

اس وقت طالبات بہت زیادہ ڈر اور سہم گئی تھیں, ایک طالبہ بے ہوش بھی ہوگئی تھی , طالبات بغیر دوپٹے کے امتحان گاہ میں داخل ہوتے وقت شدید ذہنی تناؤ میں رو بھی رہی تھیں- طالبات کے لیے ایسی کارروائی غیر قانونی, غیر جمہوری ہیں – طالبات پر ایسی کاروائی کرنے والوں کے خلاف جلد ہی کاروائی کی جانی چاہیے- یہ بات ڈاکٹر صبیحہ خان نے گزشتہ دنوں منعقد احتجاجی مظاہرہ میں کہی ۔ واضح ہو کہ آپ جماعت اسلامی ہند ناگپور حلقہ خواتین کی ناظمہ شہر ہیں۔

بعد ازاں سپروائزر نے معافی مانگی اور کالج مینجمنٹ میں ایسی حرکت کبھی بھی نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی- دریں اثناء ایڈیشنل کلکٹر کو میمورنڈم دیا گیا- انہوں نے نوٹس کے بعد کاروائی کرنے کا یقین دلایا-
اس موقع پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی ہند ناگپور کی ناظمہ شہر محترمہ صبیحہ خان کے ساتھ گرلز اسلامک آرگنائزیشن (جی آئی او) کی ڈاکٹر سعدیہ سحر, اسماء, اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) کے خزیمہ, شجاع, شاداب اور طالبات کے والدین بھی موجود تھے۔

ان کے علاوہ ڈاکٹر غزالہ, ڈاکٹر ثمرین, محترمہ فائزہ رضوان صاحبہ, مسلم پرسنل لا بورڈ ناگپور کی صدر خواتین عظمی پاریکھ صاحبہ, الخیر فاونڈیشن کی سمیعہ سحر صاحبہ, عظمیٰ یوسف صاحبہ, شکیل محمدی صاحب, اشرف بیلم صاحب, شاہد بیگ صاحب, حافظ شاکر الاکرم فلاحی صاحب, ڈاکٹر ناصر اقبال صاحب, شفیق احمد صاحب, محمد اکرم صاحب , اقبال شیخ صاحب اور جماعت اسلامی ہند ناگپور کے میڈیا سیکریٹری ڈاکٹر محمد عبدالرشید وغیرہ اور بہت سے مرد و خواتین, طلبا و طالبات کالج کے آفس کے سامنے موجود تھے.

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close