عجیب و غریب

جے این یو جانے کو تیار نہیں ہیں آٹو اور کیب ڈرائیور ، ایک نے کہا، خطرہ مول نہیں لے سکتے

نئی دہلی۔۱۰؍جنوری: جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اتوار کی رات ہوئے تشدد کے بعد کئی کیب اور آٹورکشہ ڈرائیور طلباء کو احاطے سے لینے یا انہیں چھوڑنے جانے کے لئے تیار نہیں ہو رہے ہیں۔جے این یو کے کئی طالب علموںنے بتایا کہ کیب اور آٹورکشہ ڈرائیور یونیورسٹی کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے یونیورسٹی آنے جانے سے منع کر رہے ہیں۔جے این یو طالبہ دیبومتا چٹرجی نے کہاکہ ہم احتجاج کے لئے جے این یو سے منڈی ہاؤس جانا چاہتے تھے لیکن ڈرائیوروں نے یونیورسٹی کیمپس میں آنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے ہمیں ہمارے ہاسٹل سے دور اروناآصف علی روڈکے قریب ٹی پوائنٹ پر آنے کے لئے کہا۔ ان کے اور دیگر تین طلباء کو بھی دور تک چلنا پڑا، اس کے بعد ہی ان کو گاڑی مل سکی۔ انہیں اس درمیان نارتھ گیٹ سے آگے دونوں طرف بھاری بیری کیڈنگ سے بھی بہت دقت ہوئی۔بہت سے دیگرطالب علموں کا کہنا ہے کہ کیب ڈرائیور کو جیسے ہی پتہ چلتا ہے کہ ان طالب علموں کو لینے یا چھوڑنے کے لئے جے این یو جانا ہے، وہ سفر منسوخ کر دیتے ہیں۔نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک کیب ڈرائیور نے کہاکہ ایسا نہیں ہے کہ ہم مسافروں کو پہلے چھوڑنے یا لینے نہیں جاتے تھے لیکن جے این یو میں صورتحال ایسی ہے کہ ہم خطرہ مول نہیں لے سکتے ہیں، اس وقت کیا ہوگا جب ہماری گاڑیوں کو کوئی نقصان پہنچانے لگے گا۔ طلباء کو یونیورسٹی کے مرکزی دروازے سے دور کیب لیتے ہوئے دیکھا گیا اور بہت سے ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ جے این یو یا اس کے قریب گاڑیوں کو نہیں لے جانے کے پیچھے سیکورٹی کی فکر اہم وجہ ہے۔حوض خاص سے جے این یو احاطے جانے کو کہنے پر کچھ آٹو ڈرائیور سیدھے انکار کر دیتے ہیں یا اپنی گاڑی کو تیز کرکے نکل جاتے ہیں۔ایک آٹورکشہ ڈرائیور ستپال نے کہاکہ وہاں کی حالت اچھی نہیں ہے اس لیے میں نے خطرہ مول نہیں لے سکتا ہوں۔میں ایک غریب آٹورکشہ والا ہوں۔مجھے روزی روٹی روز کمانی پڑتی ہے۔اس لیے مجھے محتاط رہنا ہے۔جے این یو میں صورتحال کبھی بھی بدل سکتی ہے۔کون جانتا تھا کہ اتوار کو صورتحال اتنی خوفناک ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close