عجیب و غریب

ایک لڑکی نے دو خواتین سمیت سات افراد پر اغوا کرنے کا لگایا الزام ، پولیس میں دی تحریر

دیوبند، 5؍ دسمبر (رضوان سلمانی) کوتوالی علاقہ کے ایک گاؤں کی باشندہ لڑکی نے اتراکھنڈ کے باشندہ دو خواتین سمیت سات لوگوں پر نشیلی گولیاںکھلاکر زبردستی ڈھائی سال تک یرغمال بناکر رکھنے کاالزام لگایاہے،متاثرہ نے کوتوالی پہنچ کر ملزموں کے خلاف کارروائی کی مانگ کی ہے۔بتایاکہ ایک شخص نے مذہب تبدیل کرکے اسے اپنی محبت کے جال میں پھنسا لیا ،ڈھائی سال تک ملزم نہ صرف اس کی عصمت دری کرتارہا بلکہ اپنے ساتھیوں سے بھی اس کی عزت کا سودا کیا ۔ آج متاثرہ لڑکی اپنے اہل خانہ کے ساتھ کوتوالی پہنچی اور پولیس کو دی گئی تحریر میں بتایا کہ اتراکھنڈ کے مانک پور گاؤں کا باشندہ ایک نوجوان فوٹوگرافر ہے جو گاؤں میں بہت سی شادیوں میں فوٹو گرافی کا کام کرنے آتا تھا۔ اس دوران نوجوان نے اپنا مذہب تبدیل کرنے کاڈھونگ کرکے اسے اپنی محبت کے جال میں پھنسا لیا۔ الزام لگایا گیا ہے کہ 17؍ جولائی 2017 کو ملزم نے اسے رات کے وقت گھر سے باہر بلایا اور زبردستی اسے کار میں بٹھاکر ساتھ لے گیا، جس کے بعد نشہ آور گولیاںکھلانے کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ مانک پور گاؤں لے گیا۔ جب اسے ملزم نوجوان کے مذہب کا علم ہوا تو اس نے گھر واپس جانے کی بات کی جس پر مذکورہ نوجوان نے اسے زبردستی یرغمال بنا لیا اور مسلسل زبردستی اس کو نشہ آور گولیاںکھلاکراس کی عصمت دری کی ۔ متاثرہ لڑکی کا الزام ہے کہ ملزم نے کئی بار اپنے ساتھیوں کوبلاکر ان سے بھی اسے ہوس کا شکار بنوایاگیا۔اس نے بتایا کہ 30 ؍نومبر کی رات ، وہ کسی طرح فرار ہوگئی اور اپنے گھر پہنچی۔ جس کے بعد اس نے کنبہ والوں کو سارا واقعہ سنایا۔ متاثرہ خاتون نے دو خواتین سمیت سات افراد کے خلاف کارروائی کی مانگ کی ہے۔متاثرہ خاندان نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ ، ڈی جی پی ، ڈی آئی جی ، ایس ایس پی اور قومی کمیشن برائے خواتین کو بھی درخواست بھیج کر کارروائی کرنے کی مانگ کی ہے۔ انسپکٹر یگ دت شرما کا کہنا ہے کہ تحریر کی بنیاد پر کیس کی تحقیقات کی جارہی ہے ،جانچ کے بعد آگے گی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close