عجیب و غریب

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ نظر ثانی کی عرضی تشہیری اسٹنٹ : سبرامنیم سوامی کی شر انگیزی

نئی دہلی: ۔ 27 نومبر 2019
بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی نے بابری-ایودھیا ملکیت معاملہ میں عدالت عظمی کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی عرضی داخل کرنے کے اعلان کو مسلم فریق کی من مانی قرار دیا۔انہوں نے ای ٹی وی بھارت کے نمائندہ سے خصوصی بات کرتے ہوۓ اشتعال انگیز زبان کا استعمال کیا اور بابری مسجد کے انہدام کے مجرمانہ عمل کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک میں مساجد ٹوٹتی رہتی ہیں، ہمارے ملک میں مسجد توڑی گئی ہیں۔” مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ نظر ثانی کی عرضی کو تشہیری اسٹنٹ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ موضوع ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں ،تاکہ وہ ٹی وی میں بنے رہیں اور لوگوں کو یہ کہیں کہ ہم جھکے نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کہ جواب میں کہا کہ مسلمان اگر مان لیں کہ ان کے آباؤ اجداد ہندو تھے تو یہ معاملہ نمٹ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں آپ کو مندر بنانے کی اجازت نہیں مل سکتی۔سبرامنیم سوامی سے جب یہ سوال پوچھا کہ مسلم ممالک کا حوالہ دینا کیسے بہتر ہے جب وہ اپنے آپ کو سیکولر اور جمہوری ہونے کا دعوی نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ مسلمان تو ایک جمہوری ملک میں رہ رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ بھارت دارالاسلام نہیں بن سکتا ہے، ہم نے پہلے ہی پاکستان بنا کر دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close